عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی کامیابی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲ء
اصل عنوان: 
غیرت مند مسلمانوں کو ’’سلام عقیدت‘‘

عام انتخابات کے نتائج نے ایک دنیا کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور ان کے بارے میں سب کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ خود میرا اندازہ یہ تھا بلکہ برطانیہ آمد کے بعد اکثر دوست مجھ سے پوچھتے رہے تو میں ان سے یہی کہتا تھا کہ متحدہ مجلس عمل بیس کے لگ بھگ سیٹیں قومی اسمبلی میں حاصل کر پائے گی، اور اگر اسمبلی میں مجلس عمل کی قیادت اسی طرح اکٹھی رہی جس طرح اس الیکشن کیمپین میں اس نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اگلے انتخابات تک یہ اتحاد قائم رہا تو مجلس عمل کے ملک گیر سطح پر الیکشن جیتنے کی توقع بھی کی جا سکتی ہے۔ اگلے انتخابات کے بارے میں تو میرا اندازہ اب بھی یہی ہے کہ:

  • اگر پارلیمنٹ کے اندر مجلس عمل نے ٹیم ورک کا ماحول پیدا کر لیا،
  • اقتدار میں شامل ہونے کی بجائے اپوزیشن میں بیٹھ کر عوامی جذبات کی بے لاگ ترجمانی کی،
  • عوام کے حقیقی مسائل اور قومی خودمختاری کی بحالی کو اپنے ایجنڈے میں اولیت دی،
  • اور پالیمنٹ سے باہر بھی مجلس عمل میں شامل جماعتوں نے عوامی سطح پر اپنے اتحاد و اشتراک کا مظاہرہ مسلسل جاری رکھا

تو الجزائر کے اسلامک سالویشن فرنٹ کی طرح پاکستان میں دینی جماعتوں کی متحدہ مجلس عمل بھی اگلے عام انتخابات میں فیصلہ کن اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن حالیہ انتخابات کے نتائج خود میرے لیے بھی خوشگوار حیرت کا باعث بنے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ میں گوجرانوالہ شہر اور کراچی کے ایک آدھ پروگرام کے سوا اس انتخابی مہم کو خود اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکا اور اپنے سابقہ تجربہ کے ساتھ ساتھ اخبارات کی خبریں اور تجزیے ہی میری معلومات کا بڑا ذریعہ رہی ہیں۔ وجہ خواہ کچھ بھی ہو بہرحال مجھے انتخابات میں ان نتائج کی توقع نہیں تھی اور دس اکتوبر کی شام کو جوں جوں انتخابی نتائج کی تفصیلات معلوم ہوتی گئیں میری حیرت اور تعجب میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ بہت سے لوگوں کے تعجب اور حیرت میں افسوس، حسرت اور غصہ کا عنصر شال تھا لیکن دنیا بھر کے دینی کارکنوں کی طرح میرے تعجب اور حیرت میں خوشی اور تشکر کے جذبات موجزن تھے۔

میں دس اکتوبر کی شام کراؤلی (برطانیہ) میں مولانا قاری عبد الرشید رحمانی کے ہاں تھا جو استاذ الاساتذہ حضرت مولانا رسول خان ہزارویؒ کے پوتے ہیں اور کراؤلی کی جامع مسجد میں خطیب و امام ہیں۔ جمعیۃ علمائے برطانیہ کے قاری محمد ہاشم بھی وہیں تھے جو اپنے موبائل فون پر مسلسل معلومات حاصل کر رہے تھے اور مجھے آگاہ کرتے جاتے تھے۔ ان کی خوشی قابل دید تھی اور میری خوشی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا حتیٰ کہ رات گئے برمنگھم سے مولانا قاری تصور الحق نے مجھے بطور خاص فون کر کے اطلاع دی کہ میرے شہر گوجرانوالہ سے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مولانا قاضی حمید اللہ خان نے بھی قومی اسمبلی کی سیٹ جیت لی ہے تو خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔

متحدہ مجلس عمل کی یہ شاندار کامیابی کہ اس نے قومی اسمبلی میں تیسری بڑی سیاسی قوت کی پوزیشن حاصل کر لی ہے، عام طور پر اس کے دو بڑے سبب بیان کیے جا رہے ہیں:

  1. ایک یہ کہ افغانستان پر امریکہ کے وحشیانہ حملہ اور طالبان کی مظلوم و معصوم حکومت کی تباہی پر پاکستان کے عوام بالخصوص صوبہ سرحد و بلوچستان کے غیور مسلمانوں کو اپنے غصے کے اظہار کا کوئی موقع نہیں مل رہا تھا اس لیے انہوں نے اس الیکشن میں طالبان کی سپورٹر جماعت کو ووٹ دے کر اس غصہ کا عملاً اظہار کیا ہے۔
  2. اور دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مختلف مکاتب فکر کی دینی جماعتوں نے کسی اور سیاسی اتحاد میں شامل ہونے کے بجائے خود اپنا سیاسی اتحاد قائم کر کے جداگانہ تشخص کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیا ہے جس کی پاکستان کے عوام کو خوشی ہوئی ہے اور انہوں نے دینی جماعتوں کو ووٹ دے کر اپنی اس خوشی کا برملا اظہار کیا ہے۔

یہ دونوں باتیں درست ہیں، متحدہ مجلس عمل کے حق میں اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر پاکستان کے عوام نے صرف غصہ کا اظہار نہیں کیا بلکہ امریکہ اور اس کے حمایتیوں کو یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ ڈیزی کٹرز کی بارش، اقوام متحدہ کی قراردادوں، عالمی برادری کے یکطرفہ موقف اور ورلڈ میڈیا کے مسلسل منفی پروپیگنڈے کے باوجود طالبان اور عرب مجاہدین کے بارے میں ان کی رائے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ اب بھی روسی استعمار کے خلاف افغان عوام کے جہاد آزادی کے منطقی نتائج کی عملی شکل طالبان ہی کی صورت میں دیکھنے کے خواہش مند ہیں اور خلیج عرب میں امریکی فوجوں کی موجودگی اور اس کی طرف سے اسرائیل کی پشت پناہی کو ناجائز اور سراسر نا انصافی اور ظلم تصور کرتے ہوئے اس کے خلاف اسامہ بن لادن اور ان کے رفقاء کی جدوجہد کو جائز اور درست تصور کرتے ہیں۔

خدا جانے مغرب کے ارباب حل و عقد کو یہ غلط فہمی کہاں سے ہوگئی ہے کہ جبر و تشدد اور یکطرفہ پروپیگنڈے کے زور سے قوموں کی رائے تبدیل کی جا سکتی ہے اور ان کے جذبات و احساسات کو دفن کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے غیور شہریوں اور خاص طور پر صوبہ سرحد و بلوچستان کے عوام نے ایک بار پھر اس حقیقت کا اظہار کر دیا ہے کہ رائے کی تبدیلی کا تعلق طاقت، جبر اور تشدد سے نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اور صرف دلیل اور منطق کے ذریعے ہی تبدیل ہوتی ہے۔ عباسی دور خلافت میں قرآن کریم کے مخلوق ہونے کے غلط عقیدہ کو منوانے کے لیے جب حکومت کی طرف سے جبر سے کام لیا گیا اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ پر ان سے یہ منوانے کے لیے کوڑے برسائے گئے کہ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کا مظہر نہیں بلکہ مخلوق ہے، تو امام احمد بن حنبلؒ نے برستے کوڑوں میں یہ جواب دیا کہ کوئی دلیل پیش کرو تو سننے کے لیے تیار ہوں لیکن کوڑوں کی ضرب اور جسم کے لہو لہان ہونے کی وجہ سے اپنا عقیدہ اور رائے تبدیل نہیں کر سکتا۔ میرے خیال میں متحدہ مجلس عمل کو ووٹ دینے والے پاکستانی عوام نے بھی اپنے عمل کے ساتھ حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے اسی موقف کو دہرایا ہے کہ اقوام متحدہ کی یکطرفہ قراردادوں، عالمی میڈیا کے معاندانہ پروپیگنڈا، طاقت کے استعمال کی دھمکی کے ذریعے قائم ہونے والے عالمی اتحاد کے فیصلوں، اور ڈیزی کٹرز کی بارش سے ہزاروں انسانوں کے جسموں کے پرخچے اڑا کر کسی کو دہشت گرد اور انتہا پسند ثابت نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی باضمیر لوگ عقیدہ اور رائے کے بارے میں ان ’’دلیلوں‘‘ کو ماننے کے لیے تیار ہیں۔

اس لیے متحدہ مجلس عمل کے قائدین مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق، قاضی حسین احمد، پروفیسر ساجد میر اور علامہ ساجد نقوی کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے میں متحدہ مجلس عمل کو ووٹ دینے والے غیور پاکستانیوں کو ’’سلام عقیدت‘‘ پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے طاقت اور جبر کی دلیل کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے اور دنیا پر واضح کر دیا ہےکہ پاکستان کے عوام جبر و تشدد اور دباؤ کے حصار میں بھی حق بات کہنے اور حق کی حمایت میں رائے دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

باقی رہی یہ بات کہ دینی جماعتوں کے متحد ہونے پر اور اپنا جداگانہ سیاسی تشخص قائم کرنے پر پاکستان کے عوام کو خوشی ہوئی تو اس میں بھی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دینی جماعتوں نے موجودہ اتحاد قائم کرنے کے بعد پہلی کامیابی ووٹرز فارم سے عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ حذف کرنے کے خلاف اپنے احتجاج کی پذیرائی کی صورت میں حاصل کی تھی۔ دوسری کامیابی مدارس دینیہ کے بارے میں حکومتی آرڈیننس کی پسپائی کی شکل میں ان کے حصہ میں آئی، اور اب تیسری کامیابی بھی انہوں نے دیکھ لی ہے جو صرف کامیابی نہیں بلکہ آئندہ کئی کامیابیوں کی کلید بھی بن سکتی ہے بشرطیکہ:

  • متحدہ مجلس عمل اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھے،
  • پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ٹیم ورک کا ماحول پیدا کرے،
  • اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کے بجائے عوامی جذبات کی ترجمانی اور عوام کے حقیقی مسائل کی نشاندہی کے کردار کو ترجیح دے،
  • اور اپنی پالیسیاں اور ترجیحات طے کرتے ہوئے ان مجاہدین اور شہداء کو بھی یاد رکھے جن کے مقدس خون کی برکت سے متحدہ مجلس عمل کو یہ مقام حاصل ہوا ہے۔