اسلام کا نظام کفالت اور سوسائٹی کی اجتماعی انشورنس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جب ایک آزاد مسلم سوسائٹی کے ساتھ نئے دور کا آغاز کیا تو باہمی کفالت کا ایک نیا اسلوب متعارف کرایا اور سوسائٹی میں اجتماعی کفالت کے نظام کی بنیاد رکھی جس کا آغاز مواخات سے ہوا کہ آپؐ نے مہاجرین کو انصارِ مدینہ کے ساتھ بھائی بھائی بنا دیا۔ اس طرح کہ مہاجرین کی ضروریات کی کفالت انصار کے مختلف خاندانوں میں تقسیم ہوگئی۔ یہ نظام اس وقت تک قائم رہا جب تک سب لوگ اپنے اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوگئے۔ اس کی ترتیب یہ تھی کہ ایک مہاجر کو ایک انصاری کا بھائی بنا دیا جاتا جو اس کی ضروریات کا کفیل ہوتا۔ اس دوران ان میں سے جو فوت ہو جاتا دوسرا اس کا وارث بھی قرار پاتا۔ انصار مدینہ نے جس حوصلہ اور ایثار کے ساتھ مہاجرین کی یہ خدمت کی اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب رسول اللہؐ نے حضرت عبد الرحمن بن عوفؒ کو جس انصاری صحابیؓ کا بھائی بنایا اس نے عبد الرحمن کو گھر لے جا کر پیشکش کی کہ وہ ان کا آدھا مال لے لیں اور ان کے اثاثوں میں برابر کے حصہ دار بن جائیں۔ حتیٰ کہ ان کی دو بیویوں میں جس کو وہ چاہیں طلاق دلوا کر وہ اس سے نکاح کر سکتے ہیں۔ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے اس پیش کش کو شکریہ کے ساتھ واپس کر دیا اور فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ مجھے صرف رہنے کے لیے جگہ اور بازار میں سودا بیچنے کے لیے ٹھکانہ درکار ہے بس اور کوئی چیز نہیں چاہیے۔

بعد میں جب حالات بہتر ہوئے اور بیت المال میں مختلف انواع کے اموال جمع ہونے شروع ہوگئے تو آنحضرتؐ نے ایک ایسا نظام بنا دیا کہ اگر کسی کو ضرورت کی کوئی چیز درکار ہوتی جسے وہ خود مہیا نہ کر پاتا تو حضورؐ سے درخواست کرتا، اور اس کی ضرورت پوری کر دی جاتی۔ جناب نبی اکرمؐ کا طریقہ یہ تھا کہ کوئی ضرورت مند آتا اور اپنی ضرورت کا اظہار کرتا تو اگر اپنے پاس کچھ موجود ہوتا تو دے دیتے ورنہ کسی ساتھی سے کہہ کر دلوا دیتے، اور بسا اوقات قرض لے کر بھی اس کی ضرورت پوری فرما دیتے تھے۔

ان معاملات کی ذمہ داری حضرت بلالؓ کے سپرد تھی، وہ حضورؐ کے گھروں کے اخراجات اور ضروریات کی نگرانی کرتے تھے، ضرورت کی چیزیں مہیا کرتے تھے اور آپؐ کے پاس باہر سے آنے والے حضرات کی ضروریات کو پورا کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی چیز موجود نہ ہوتی تو قرض لے کر ضرورت پوری کر دیتے تھے اور بعد میں قرض کی ادائیگی کر دی جاتی تھی۔ گویا کسی ضرورت مند کی ضرورت رکتی نہیں تھی، اس کو پورا کرنے کی کوئی نہ کوئی صورت نکل آتی تھی۔ ابوداؤد شریف کی ایک روایت میں حضرت بلالؓ کا ارشاد گرامی ہے کہ وہ ایک یہودی سے اس سلسلہ میں قرض لے لیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ قرض کی رقم خاصی بڑھ گئی جس کی ادائیگی کا کوئی بندوبست نظر نہیں آرہا تھا جبکہ وقت خاصا گزر گیا تھا۔ اس یہودی کا تقاضہ مسلسل بڑھنے لگا حتیٰ کہ ایک روز اس نے دھمکی دے دی کہ اگر تین دن کے اندر اسے قرض واپس نہ ملا تو وہ حضرت بلالؓ کی گردن میں رسی ڈال کر انہیں فروخت کر دے گا۔ اس زمانے میں ایسا ہو جاتا تھا کہ کوئی آدمی قرضہ یا تاوان ادا نہ کر سکتا تو اسے اس رقم کے عوض فروخت کر کے غلام بنا لیا جاتا تھا۔ حضرت بلالؓ بہت گھبرائے، جناب نبی اکرمؐ سے عرض کیا تو آپؐ کے پاس بھی اتنے قرضے کی فوری ادائیگی کا کوئی بندوبست نہ تھا۔ جب تیسرا دن گزرا تو حضرت بلالؓ نے رات کو حضورؐ سے عرض کیا کہ میں دوسری بار غلام بننے کو تیار نہیں ہوں، اگر آپ اجازت دیں تو رات کی تاریکی میں کہیں نکل جاتا ہوں کچھ عرصہ کے بعد قرض کی ادائیگی کا بندوبست ہوگیا تو واپس آجاؤں گا۔ آپؐ نے اجازت دے دی۔ حضرت بلال فرماتے ہیں کہ رات کو سونے سے قبل میں نے سفر کا سامان تیار کر کے سرہانے کے پاس رکھ لیا اور فیصلہ کیا کہ علی الصبح اندھیرے میں شہر سے نکل کر کسی طرف روانہ ہو جاؤں گا۔ مگر نصف شب کے لگ بھگ حضورؐ نے بلا لیا، حاضر ہوا تو وہاں چار اونٹ مختلف قسم کے سامان سے لدے ہوئے کھڑے تھے۔ آپؐ نے فرمایا بلالؓ! مبارک ہو، یہ اونٹ سامان سمیت فلاں سردار نے ہدیہ کے طور پر بھیجے ہیں انہیں لے جاؤ اور سارا قرض ادا کر دو۔ حضرت بلالؓ فرماتے ہیں کہ اس طرح میں دوبارہ غلام بننے سے بچ گیا۔

جناب رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کا یہ اجتماعی کفالت کا نظام اس قدر متعارف ہوا کہ دیہات سے اعرابی آتے تھے اور بڑے اعتماد کے ساتھ سامان کا مطالبہ کرتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق ایک موقع پر کسی اعرابی نے آنحضرتؐ کی گردن میں آپ کی چادر کو اس شدت کے ساتھ کھینچا کہ آپؐ کی گردن پر نشان پڑ گیا۔ اس طرح چادر کھینچ کر اس نے کہا کہ آپؐ کے پاس جو مال ہے وہ نہ آپ کا ہے اور نہ ہی آپ کے باپ کا (نعوذ باللہ) ہے۔ اس لیے اس میں سے مجھے بھی دیں۔ حضورؐ نے فرمایا، مال تو اللہ تعالیٰ کا ہی ہے، میرا یا میرے باپ کا نہیں ہے۔ لیکن میں اس وقت تک تمہیں اس مال میں سے کچھ نہیں دوں گا جب تک تم مجھے اس زیادتی کا بدلہ نہ دو جو ابھی تم نے میرے ساتھ کی ہے۔ اس نے کہا کہ واللّٰہ لا أقیدک خدا کی قسم میں آپ کو کوئی بدلہ نہیں دوں گا۔ اس کے باوجود آپؐ نے اسے دو اونٹ سامان سے لدے ہوئے عطا فرما دیے۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوسائٹی میں اجتماعی کفالت کا ایسا نظام متعارف کرایا کہ کسی ضرورت مند کی ضرورت رکتی نہیں تھی اور کسی نہ کسی طرح پوری کر دی جاتی تھی۔ آج جب کوئی مجھ سے انشورنس کے بارے میں پوچھتا ہے تو میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اسلام کا اجتماعی نظام کفالت اپنی روح کے ساتھ آجائے تو کسی قسم کی انشورنس کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی اور بیت المال ہی انفرادی اور اجتماعی سطح پر انشورنس کے ہر قسم کے تقاضے کو پورا کر دیتا ہے۔ خدا کرے کہ یہ نظام ہمیں نصیب ہو جائے، آمین۔

درجہ بندی: