افغانستان کا مسئلہ ۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے توقعات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ اکتوبر ۲۰۰۸ء
  • افغانستان میں برطانوی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر مازک اسمتھ نے سنڈے ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ جیتنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے اس لیے طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کی کوئی صورت اختیار کرنا ہوگی۔
  • ادھر عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل پیٹریوس نے بغداد میں غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں سے نمٹنے اور بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور پاکستان کے بعض علاقوں میں طالبان کا کنٹرول ختم کرنا انتہائی مشکل ہے، بعض لوگوں کا خیال تھا کہ عراق میں حاصل ہونے والے تجربہ کو افغانستان میں استعمال کرنا چاہیے لیکن ہر جگہ صورتحال مختلف ہوتی ہے۔
  • جبکہ پاکستان میں امریکہ کی سفیر محترمہ این ڈبلیو پیٹرسن نے لاہور میں ایوان صنعت و تجارت کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ہم افغانستان اور قبائلی علاقوں میں تعلقات عامہ کی جنگ ہار چکے ہیں اور امریکی پیغام نہیں پہنچا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ سے متاثرہ علاقوں کے لیے ایک ارب ستر کروڑ ڈالر سالانہ دے رہا ہے لیکن ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پیسہ وہاں خرچ ہونے کی بجائے درآمدی بل کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے۔

اس فضا میں ۸ اکتوبر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا ہے جس میں قانون کا نفاذ کرنے والے اور حساس اداروں کے سربراہ پاکستانی عوام کے منتخب نمائندوں کو ملک میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔ ملک کی عمومی صورتحال، امن عامہ کے بگڑتے ہوئے حالات اور قومی خودمختاری کے حوالہ سے پارلیمنٹ کا یہ مشترکہ اجلاس اس حوالہ سے انتہائی خوش آئند ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے اور پارلیمنٹ کو یہ موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ نازک اور حساس ملکی صورتحال کے بارے میں براہ راست آگاہی حاصل کر کے اس کو بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے دے سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی سابق وزیر خارجہ جناب خورشید محمود قصوری کے اس بیان نے پارلیمنٹ کے اس اجلاس کی افادیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ قومی پالیسی میں تبدیلی کی کوئی توقع نہیں کی جانی چاہیے اس لیے کہ اگر آج میاں محمد نواز شریف وزیراعظم ہوتے تو انہیں بھی اسی پالیسی پر عمل کرنا پڑتا۔

ویسے تو جناب خورشید احمد قصوری کے اس بیان سے پہلے بھی ملک کے ہر عام آدمی کا تاثر یہی ہے کہ ہماری پالیسیاں نہ پارلیمنٹ طے کرتی ہے اور نہ ہی ملک کے اندر تشکیل پاتی ہیں لیکن سابق وزیر خارجہ کے بیان نے اس عمومی تاثر پر مہر تصدیق ضرور ثبت کر دی ہے اور ملک کے عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جب قومی پالیسیاں طے شدہ ہیں اور ان میں تبدیلی کسی کے بس میں نہیں ہے تو پھر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور اس میں عوام کے منتخب نمائندوں کو بریفنگ کے اس اہتمام کے تکلف کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اس کے باوجود ہم ۸ اکتوبر کو منعقد ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے نا امید نہیں ہیں اور اسے بہرحال بہتری کی طرف ایک قدم سمجھتے ہوئے اس موقع پر عوام کے منتخب نمائندوں کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

  • دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ کے عمومی تناظر میں یہ بات پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ جنگ ’’دہشت گردی‘‘ کی کوئی تعریف اور اس کا مصداق طے کیے بغیر لڑی جا رہی ہے جس میں کسی گروہ یا ملک کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر چڑھ دوڑنے کا اختیار صرف امریکہ کے پاس ہے اور اس کے فیصلے کے خلاف اپیل کا کوئی غیر جانبدار فورم عالمی سطح پر موجود نہیں ہے۔
  • اس جنگ میں طالبان اور القاعدہ کے اس موقف کو نظرانداز کر دینا دلیل اور دانش کی دنیا میں ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک میں غیر ملکی مداخلت اور فوج کشی کے خلاف آزادی اور خودمختاری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیکن چونکہ دنیا کا کوئی فورم غیر جانبدارانہ ماحول میں ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے اس لیے ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور آپشن موجود نہیں ہے کہ وہ ہتھیار اٹھائے رکھیں اور اپنی جانوں پر کھیل کر اپنی آزادی اور خودمختاری کا تحفظ کریں۔
  • پاکستان کے اندر خودکش حملوں اور حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے بارے میں ہم بار بار واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم ان کو جائز نہیں سمجھتے اور ملک کے بے گناہ شہریوں اور نہتے لوگوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہیں۔ لیکن ہم اس کے اسباب و عوامل سے آنکھیں بند کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں اس لیے کہ جب تک اسباب کو دور نہ کیا جائے ان کے نتائج اور ردعمل کو روکنا ممکن نہیں ہوتا۔ مثلاً سوات کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں وہی شرعی نظام دیا جائے جو پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے باقاعدہ الحاق سے قبل ان کے ہاں عدالتوں میں موجود تھا مگر پاکستان میں شامل ہونے کا انہیں یہ صلہ ملا کہ انہیں عدالتی شرعی نظام سے محروم کر دیا گیا۔ حکومت اس بات کو تسلیم بھی کرتی ہے چنانچہ ۴ اکتوبر کو روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صوبہ سرحد کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر مالاکنڈ کے اضلاع میں شرعی نظام عدل ریگولیشن ۲۰۰۸ء نافذ کر دیا جائے گا جس کے تحت تمام فوجداری مقدمات کو چار ماہ میں اور دیوانی مقدمات کو چھ ماہ میں نمٹانا لازمی قرار دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ریگولیشن کا مقصد مالاکنڈ کے سات اضلاع کے عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی ہے۔

    یہاں ضمناً جناب بشیر احمد بلور کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا جا رہا ہے کہ کیا فوری اور سستا انصاف صرف مالاکنڈ کے سات اضلاع کی ضرورت ہے اور صوبہ سرحد اور ملک بھر کے دیگر شہریوں کو اس سے محروم رکھنے کا آخر کیا جواز ہے؟ لیکن اس سے ہٹ کر ہم دہشت گردی کے خلاف مبینہ جنگ کے حوالہ سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ جب سوات کے عوام کے اس مطالبہ کو حکومت درست تسلیم کرتی ہے تو پھر جنگ کو طول دینے اور فوجی آپریشن کے ذریعے سوات کے عوام پر جنگ مسلط رکھنے کا کیا جواز ہے اور اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟

    یہ ایک بات ہم نے مثال کے طور پر عرض کی ہے اور ہماری اصولی گزارش یہ ہے کہ جن لوگوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے ان کے مسائل اور مجبوریاں بھی دیکھی جائیں کیونکہ پاکستان کی پارلیمنٹ ان لوگوں کی بھی نمائندہ ہے اور یہ بات اس کی ذمہ داری میں شامل ہے کہ کچھ لوگوں نے اگر غلط طرز عمل اختیار کر لیا ہے اور ان کی حرکات سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے تو وہ دیکھے کہ اس کے اسباب کیا ہیں اور انہیں کس طرح اس سے باز رکھا جا سکتا ہے؟ صرف آپریشن اور فوج کشی کر کے پورے علاقے کو تہہ و بالا کر دینا ہی مسئلہ کا حل نہیں ہے اس لیے ہم عوام کے منتخب نمائندوں سے گزارش کریں گے کہ وہ پوری صورتحال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لیں اور محض بیرونی طاقتوں کی خواہشات کی تکمیل کی بجائے اپنے ملک کے مفاد اور قومی وقار کی پاسداری کا راستہ اختیار کریں۔

  • اس کے ساتھ ہم ایک اور زمینی حقیقت کی طرف توجہ دلانا چاہیں گے کہ مغربی اقوام تو صرف اور صرف ’’بزنس مین‘‘ ہیں، عقیدہ اور ایمان کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے وہ اس مسئلہ کو بھی بزنس اور پیسے کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہیں اور روپے پیسے کے سوا انہیں کوئی چیز نظر نہیں آرہی۔ جبکہ پاکستان اور افغانستان کے عوام ایمان اور عقیدہ سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں، روپیہ پیسہ ان کے نزدیک ہر حال میں ثانوی حیثیت رکھتا ہے جبکہ اس جنگ میں عقیدہ سے کمٹمنٹ جس درجہ میں کارفرما ہے اس سے کوئی باشعور شخص بے خبر نہیں ہے۔ ایک طرف ڈالر اور اسلحہ ہے جبکہ دوسری طرف عقیدہ و ایمان اور قومی غیرت ہے۔ اس فرق کو نظر انداز کر کے اس مسئلہ کا جو حل بھی نکالنے کی کوشش کی جائے گی وہ ناکامی کے سوا کوئی نتیجہ نہیں دے گی اور عوام کے منتخب نمائندے یقیناً اس بڑی حقیقت کو نظرانداز نہیں کریں گے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ۸ اکتوبر کو اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس میں جمع ہونے والے پاکستانی عوام کے منتخب نمائندوں کے سامنے اس وقت دو سب سے بڑے چیلنج ہیں (۱) ملک کی سرحدوں کے اندر غیر ملکی حملوں کی روک تھام کر کے قومی خودمختاری کا تحفظ کیسے کیا جائے؟ (۲) اور ملک اندر خود کش حملوں کے ذریعے بے گناہ عوام کے قتل عام کو کیسے روکا جائے؟ ہم دعاگو ہیں کہ ہمارے منتخب نمائندے ان دو سنگین مسئلوں کا کوئی باوقار حل نکالنے میں کامیاب ہوں لیکن یہ گزارش ضرور کریں گے کہ بریفنگ رپورٹوں کے ساتھ ساتھ معروضی حالات اور زمینی حقائق بھی پیش نظر رکھیں کیونکہ مسئلہ کا صحیح حل تلاش کرنے کے لیے یہ بھی انتہائی ضروری ہے۔