مالاکنڈ ڈویژن میں ’’نظامِ عدل ریگولیشن‘‘ کا نفاذ اور اس پر مختلف حلقوں کا ردعمل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ فروری ۲۰۰۹ء
اصل عنوان: 
مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کا اعلان

مالاکنڈ ڈویژن میں ’’نظامِ عدل ریگولیشن‘‘ کے نفاذ کا اعلان ہوگیا ہے اور صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ جناب امیر حیدر ہوتی نے مالاکنڈ ڈویژن کی تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد اور ان کے رفقاء کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ تحریک کے مطالبات منظور کر لیے گئے ہیں جن کے تحت سوات سمیت مالاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ کے ضلع کوہستان میں شرعی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو لوگوں کے مقدمات کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق کریں گی اور ان عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی سماعت کے لیے بھی شرعی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اخباری بیانات کے مطابق اس ریگولیشن کے نفاذ کے بعد اس خطہ میں غیر اسلامی قوانین کا خاتمہ ہو جائے گا جبکہ مولانا صوفی محمد نے مینگورہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اس اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ ان کی جدوجہد کا مقصد پورا ہوگیا ہے اور اب ان کے لیے یہ بات آسان ہوگئی ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کر سکیں جس سے اس علاقے میں امن قائم ہو جائے گا اور ایک عرصہ سے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام جس بد اَمنی اور بدحالی کا شکار ہیں وہ اس سے نجات حاصل کر لیں گے۔

نفاذ شریعت کا یہ مطالبہ اس خطہ کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے جس کے لیے علاقہ کے لوگ کم و بیش دو عشروں سے مسلسل جدوجہد کرتے اور قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔ یہ مطالبہ پاکستان بھر کے عوام کے اس مطالبہ اور خواہش سے ہم آہنگ ہے کہ پورے ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے اس لیے کہ پاکستان کا قیام اسی مقصد کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور دستور میں اس بات کی صراحتاً ضمانت دی گئی ہے کہ تمام اسلامی قوانین و احکام کا عملاً نفاذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سوات کے عوام کا یہ مطالبہ اس لحاظ سے بطور خاص اہمیت و خصوصیت کا حامل ہے کہ سابق ریاست سوات میں اس کے پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق سے پہلے شرعی عدالتی نظام نافذ تھا اور لوگوں کے مقدمات کے فیصلے شرعی عدالتوں میں ہوتے تھے جس کی وجہ سے انہیں نہ صرف سستا اور جلد انصاف میسر آجاتا تھا بلکہ ان کے عقیدہ و کلچر کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے ان کے لیے قابل اطمینان بھی ہوتا تھا۔ جبکہ پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے الحاق کے بعد شرعی عدالتوں کا یہ نظام منسوخ کر کے مروجہ عدالتی نظام نافذ کیا گیا تو اس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا، اخراجات بڑھے، مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی رہی اور جرائم کی شرح اور سنگینی میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا وغیر ذٰلک۔ اس لیے ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں وہ سابقہ نظام ہی واپس کر دیا جائے تاکہ وہ امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔

چنانچہ سرحد حکومت اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے درمیان اس معاہدہ کے اعلان کے بعد پورے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور زندگی کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ اس معاہدہ کا سب سے بڑا اور فوری اثر اور فائدہ یہ ہوا کہ سوات میں عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان تصادم سردست رک گیا ہے، عسکریت پسندوں کے راہنما مولوی فضل اللہ نے ابتدا میں دس دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر معاہدہ کو کسی خفیہ ہاتھ نے نہ سبوتاژ کر دیا تو یہ جنگ بندی مستقل ہوگی اور مالاکنڈ ڈویژن اور سوات میں وہ فوجی آپریشن بالآخر ختم ہو جائے گا جس کا ملک بھر کے قومی حلقوں کی طرف سے ایک عرصہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں اس معاہدہ کا ملک بھر میں خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور دینی و سیاسی راہنما اسے ملک اور خاص طور پر مالاکنڈ ڈویژن کے پر امن مستقبل کے لیے نیک فال قرار دے رہے ہیں۔

البتہ اس پر منفی ردعمل بھی حسب توقع سامنے آیا ہے اور وہ قوتیں جو ملک کے کسی حصے میں بھی شریعت اسلامیہ کے نفاذ کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کے ساتھ وہ قوتیں جن کے مفادات اس خطے سے وابستہ ہیں، ان کے ردعمل میں جھنجھلاہٹ صاف طور پر محسوس ہو رہی ہے۔ بعض امریکی حلقوں نے اسے ’’منفی پیشرفت‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اس پر تشویش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خطہ میں فوجی آپریشن ہی واحد آپشن ہے اس کے علاوہ مسائل کا کوئی اور ذریعہ ان کے لیے قابل قبول نہیں۔ اس کا مطلب صاف واضح ہے کہ امریکی حکمرانوں کو نہ صرف یہ کہ پاکستان کے کسی حصے میں اسلامی احکام کا کسی بھی سطح پر نفاذ منظور نہیں ہے بلکہ وہ ملک کے عوام کے ایک حصے کو پاک فوج کے مقابلہ پر مستقل طور پر محاذ آرا دیکھنا چاہتے ہیں، اور وہ جن حلقوں کو شدت پسند قرار دے کر انہیں ہر حالت میں کچل دینا چاہتے ہیں ان کے ساتھ مذاکرات اور گفتگو کی کوئی صورت انہیں گوارا نہیں ہے۔ اس موقف کو مایوسی، جھنجھلاہٹ اور ہٹ دھرمی کے علاوہ اور کس بات سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟

سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ایک خطہ کے عوام اپنے لیے ایک طرز کے نظام اور قانون کو پسند کرتے ہیں اور اس کے نفاذ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو امریکہ کو اس پر اعتراض کیوں ہے؟ اور اگر امریکہ کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام اپنے لیے نظام شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اس کا مطلب واضح ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے امریکی حکمرانوں کے نزدیک جمہوریت دنیا کے کسی بھی خطے میں اس علاقہ کے عوام کی خواہش اور مرضی کا نام نہیں بلکہ صرف اور صرف مغربی نظام اور ثقافت کو قبول کرانے کا نام ہے جسے اگر وہ لوگ اپنی مرضی سے قبول نہیں کرتے تو ان سے طاقت اور جبر کے ذریعے قبول کرایا جائے گا۔

کم و بیش اسی طرز کی جھنجھلاہٹ ہمارے ان سیاستدانوں کے بیانات میں بھی دکھائی دے رہی ہے جو اس معاہدہ کو دل سے قبول کرنے میں جھجھک محسوس کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ شریعت نافذ کرنے کا نہیں بلکہ نظام عدل نافذ کرنے کا ہے۔ انہیں یہ بات کہنے کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی ہے اور ’’شریعت‘‘ کے نام سے چڑ کیوں ہے؟ جبکہ وہ بخوبی جانتی ہیں کہ نظام عدل نظام شریعت ہی ہے بلکہ انہیں موجودہ حالات نے یہ بات سمجھا دی ہے کہ پاکستان کے عوام کی نظر میں عدل کے قیام کا ذریعہ صرف اور صرف شریعت ہے اور عوام کو جلد اور سستا انصاف فراہم کرنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ انہیں شرعی عدالتوں کا نظام فراہم کیا جائے۔ ایک وزیر محترم کو یہ وضاحت کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے کہ اس معاہدہ کی رو سے کوئی قدم ایسا نہیں اٹھایا جائے گا جو دستور پاکستان کے منافی ہو۔ یہ بات بھی محض نفسیاتی تسکین کے لیے کہی گئی ہے کیونکہ ان صاحب کو معلوم ہے کہ دستور پاکستان نے خود ملک بھر میں شرعی قوانین کے نفاذ کی ضمانت دے رکھی ہے۔ ایک وزیر محترم نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ سوات میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ ہے اس کا مطلب پاکستان میں شریعت کا نفاذ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مالاکنڈ ڈویژن میں جلد اور سستا انصاف شرعی عدالتوں کے ذریعے لوگوں کو مل سکتا ہے تو ملک کے دوسرے علاقوں کے لوگوں نے کیا قصور کیا ہے کہ انہیں اس سہولت سے محروم رکھا جائے؟ ایک دانشور کالم نگار نے اپنے دل کی بھڑاس یہ کہہ کر نکالی ہے کہ حکومت نے یہ معاہدہ کر کے شدت پسندی کو پروموٹ کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ اگر یہ مطالبہ مان لیا گیا تو پھر زندگی کے دیگر تمام شعبوں میں بھی شرعی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ شروع ہو جائے گا۔ ان صاحب کی نظر شاید دستور پاکستان کے ان حصوں پر نہیں ہے جن میں ملک بھر کے عوام کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔

الغرض اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے مثبت اور منفی دونوں قسم کا ردعمل سامنے آیا ہے لیکن عام پاکستانی مسلمان دو حوالوں سے اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک اس لیے کہ اس سے اس خطہ میں امن کے قیام کی امید قائم ہوگئی ہے اور دوسرا اس حوالہ سے کہ پاکستان کے قیام کے باسٹھ برس بعد ایک محدود خطہ میں سہی، شرعی قوانین کے نفاذ اور شرعی عدالتوں کے قیام کی طرف پیشرفت کا آغاز تو ہوا ہے۔ اس پس منظر میں ہم اس معاہدہ پر مولانا صوفی محمد اور ان کے رفقاء اور صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ ان کے درمیان گزشتہ ایک سال سے ہونے والے مذاکرات بالآخر کسی نتیجے تک پہنچ گئے ہیں اور اس سے سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں امن اور نفاذ شریعت کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہم دونوں فریقوں اور اس معاہدہ کا خیر مقدم کرنے والے تمام حلقوں کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اس معاہدہ تک پہنچنے کے مراحل بہت صبر آزما تھے جنہیں انہوں نے حوصلہ کے ساتھ عبور کیا ہے لیکن اس معاہدہ کو تکمیل تک پہنچانے اور نتیجہ خیز بنانے کے مراحل اس سے بھی زیادہ صبر آزما ہوں گے اور اس کے لیے انہیں پہلے سے زیادہ تدبر، حوصلہ، جرأت اور استقامت سے کام لینا ہوگا جس کے لیے ہماری نیک خواہشات اور دعائیں ان کے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں سرخروئی سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔