حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے منسوب آبدوز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲ ستمبر ۲۰۰۲ء

پاک بحریہ نے ملکی وسائل سے تیار ہونے والی پہلی آبدوز سمندر میں اتار دی ہے اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں پاکستان کے سمندری دفاع کو تقویت حاصل ہوگی اور بھارت کے لیے بحری کارروائیاں کرنا اب پہلے کی طرح آسان نہیں رہے گا۔ اس آبدوز کو صحابیٔ رسول حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے منسوب کر کے اس کا نام ’’سعد‘‘ رکھا گیا ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ معروف صحابیٔ رسول ہیں، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، بڑے جرنیلوں میں سے ہیں، فاتح ایران ہیں اور اپنے دور کے بڑے تیر اندازوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ یہ ان دو خوش قسمت ترین صحابہ کرامؓ میں سے ایک ہیں جن کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ جملہ ادا ہوا کہ ’’میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں‘‘۔ ان میں سے ایک یہ سعدؓ ہیں جو غزوۂ احد میں جناب نبی کریمؐ کے ساتھ اس وقت بطور جان نثار کھڑے تھے جب کافروں نے آپ کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ حضرت سعدؓ حضورؐ کی پشت پر کھڑے تیر اندازی کے ذریعے مزید دشمنوں کو قریب آنے سے روک رہے تھے۔ اس وقت جناب رسول اکرمؐ کی زبان مبارک سے یہ جملہ صادر ہوا کہ ’’اے سعدؓ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں، تیر اندازی جاری رکھو‘‘۔ دوسرے حضرت زبیر بن العوامؓ ہیں، وہ بھی عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، انہیں غزوۂ خندق کے موقع پر جناب نبی اکرمؐ نے دشمن کے کیمپ میں صورتحال معلوم کرنے کے لیے بھیجا، بڑے خطرناک حالات تھے، یہودی اپنے قلعہ میں مسلمانوں کے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف تھے، ایسے موقع پر ان کے علاقے میں جانا اور چل پھر کر صورتحال معلوم کرنا بڑے دل گردے کا کام تھا۔ چنانچہ حضرت زبیرؓ جب یہ ڈیوٹی ادا کر کے واپس آئے تو آنحضرتؐ نے انہیں بھی ان الفاظ کے ساتھ شاباش دی کہ ’’میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں‘‘۔

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا ایک دلچسپ واقعہ بخاری شریف میں اس حوالہ سے مذکور ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر یہ مکہ مکرمہ میں بیمار ہوئے اور بیماری اس قدر بڑھی کہ بظاہر بچنے کی امید باقی نہ رہی۔ انہیں دو باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ ایک یہ کہ ان کی اولاد میں اس وقت ایک لڑکی کے سوا کوئی وارث نہ تھا اور جائیداد خاصی تھی، انہیں فکر تھی کہ جائیداد کا کیا بنے گا؟ اور دوسری فکر یہ تھی کہ انہوں نے جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مکہ مکرمہ میں اپنا گھر بار چھوڑ مدینہ منورہ ہجرت کی تھی اور اب مکہ مکرمہ میں موت آنے کی صورت میں انہیں یہ پریشانی تھی کہ اگر میں یہاں فوت ہوا اور یہیں دفن ہوگیا تو میری ہجرت کا کیا بنے گا، کیا میری ہجرت منسوخ اور باطل تو نہیں ہو جائے گی؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے خیمے میں عیادت کے لیے تشریف لائے تو حضرت سعدؓ نے اپنی دونوں پریشانیوں کا اظہار فرمایا اور عرض کیا کہ اگر میں اپنی جائیداد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ کر دوں تو کیا یہ بہتر نہیں ہوگا؟ آنحضرتؐ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا کہ کل جائیداد کے تیسرے حصے سے زیادہ تم صدقہ اور وصیت نہیں کر سکتے کیونکہ تمہارے دیگر ورثاء اس کے زیادہ مستحق ہیں۔ اس موقع پر آپؐ نے فرمایا کہ تمہاری جو کمائی رشتہ داروں اور اولاد حتیٰ کہ بیوی پر خرچ ہوگی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ بھی صدقہ ہی شمار ہوگا۔ اس کے بعد جناب نبی اکرمؐ نے انہیں یہ کہہ کر تسلی دی کہ ضروری نہیں کہ اسی مرض میں تمہاری وفات ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم خاصا عرصہ زندہ رہو، بعض قوموں کو تجھ سے نقصان پہنچے اور کچھ قوموں کو تم سے فائدہ حاصل ہو۔

چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی جسے معجزات نبویؐ میں شمار کیا جاتا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اس مرض سے صحتیاب ہوئے اور اس کے بعد خاصی دیر تک حیات رہے۔ امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطابؓ کے دور خلافت میں کوفہ کے گورنر رہے، انہی کے بارے میں حضرت عمرؓ کو شکایت ملی کہ انہوں نے امیر المؤمنین کی ہدایات کے برعکس اپنے دروازے پر ڈیوڑھی بنوا لی ہے اور حضرت عمرؓ کے حکم پر ان کے انسپکٹر پولیس حضرت محمد بن سلمہؓ نے اس ڈیوڑھی کو آگ لگا دی تھی۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فاتح ایران ہیں۔ فارس کی سلطنت کو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح کرا کر اسلامی قلمرو میں شامل فرمایا اور ایران کا نامور کمانڈر رستم انہی کے مقابلہ میں شکست کھا کر مارا گیا تھا۔ میں ایک عرصہ سے اپنے بیانات اور مضامین میں یہ عرض کرتا آرہا ہوں کہ ہمارا عجیب حال ہے کہ جس رستم نے مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھائی اور میدان جنگ سے بھاگتا ہوا ایک مجاہد کے ہاتھوں قتل ہوا وہ آج ہمارے ہاں طاقت اور بہادری کا نشان ہے کہ جس کو ہم بڑا پہلوان کہنا چاہتے ہیں اسے ’’رستم‘‘ قرار دیتے ہیں کہ یہ رستم گوجرانوالہ ہے، یہ رستم پنجاب ہے اور یہ رستم پاکستان ہے۔ لیکن جس عظیم المرتبت جرنیل کے مقابلہ میں رستم نے شکست کھائی اس کا ہماری فوجی اصلاحات یا بہادری کے تمغوں میں کہیں کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ اس لحاظ سے مجھے اس بات پر بہت خوشی ہوئی ہے کہ اسلامی تاریخ کے ایک بڑے جرنیل اور عظیم صحابیٔ رسول کے نام سے پاک بحریہ کی آبدوز کو منسوب کیا گیا ہے۔ یہ ایک عظیم مسلم جرنیل کو خراج عقیدت ہے جس سے پاک بحریہ کے نوجوانوں کی ذہن سازی ہوگی، ماضی کے ساتھ ان کا رشتہ جڑے گا اور یقیناً ایک صحابیٔ رسول کے نام سے خیر و برکت بھی حاصل ہوگی۔

مگر اس حوالہ سے پاک بحریہ کے اعلیٰ حکام سے ایک گزارش کرنے کو جی چاہتا ہو کہ اسلامی تاریخ میں بحریہ کے بانی حضرت امیر معاویہؓ ہیں کہ ان کے دور میں سب سے پہلے بحری فوج تیار ہوئی، بحری بیڑا بنا، اس وقت کی سب سے بڑی بحری قوت سلطنت روما کے ساتھ بحری لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور جزیرہ قبرص فتح ہوا۔ اس لیے پاک بحریہ کا سب سے پہلا نشان اسلامی تاریخ کے حوالہ سے حضرت معاویہؓ کے نام پر ہونا چاہیے اور اسلامی سلطنت میں سب سے پہلا بحری بیڑا تیار کرنے والے عظیم جرنیل امیر المؤمنین حضرت معاویہؓ کو اس حوالہ سے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ بات تو بخاری شریف میں ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے امت میں پہلی بحری لڑائی کی پیش گوئی فرمائی تھی اور اس کا ہدف قسطنطنیہ کو بتاتے ہوئے اس کے تمام شرکاء کو جنتی قرار دیا۔ اور تاریخی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ آنحضرتؐ کی یہ پیش گوئی حضرت معاویہؓ کے دور خلافت میں پوری ہوئی۔ اس لیے پاک بحریہ کے اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ وہ اس پر غور فرمائیں اور ہماری تجویز یہ ہے کہ بحریہ کے حوالہ سے بہادری کا سب سے بڑا نشان حضرت معاویہؓ کے نام سے ’’نشانِ معاویہؓ‘‘ کے طور پر منسوب کیا جائے۔

درجہ بندی: