علماء کرام کی شہادت، استعمار کی سازش!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ مئی ۲۰۱۲ء

گزشتہ دو روز سے مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی المناک شہادتؒ پر تعزیتی پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے:

  • جامعہ نصرۃ العلوم میں طلبہ کے اجتماع میں راقم الحروف نے مولانا شہیدؒ کی دینی و تعلیمی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا، انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا، ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی ہوئی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
  • ۱۵ مئی کو دارالعلوم گجرات میں جمعیۃ علماء اہل السنۃ کے زیر اہتمام ایک تعزیتی نشست ہوئی جس میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
  • دارالعلوم جی ٹی روڈ گجرات کے فیکٹری ایریا میں پاک فین کے عقب میں اسی سال شروع ہوا ہے اور مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ نے ہی شوال المکرم میں اس کا افتتاح کیا تھا۔ پروفیسر مولانا محمد اشفاق اور ان کے فرزند مولانا صہیب اشفاق اس کے منتظم ہیں اور دونوں باپ بیٹا جامعہ نصرۃ العلوم کے فضلاء میں سے ہیں۔ اس تعزیتی نشست میں مولانا شیخوپوری کے حالات زندگی اور خدمات کے تذکرہ کی سعادت حاصل ہوئی اور مختلف علماء کرام نے ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔ ہمارے عزیز شاگرد مولانا حافظ محمد عمر عثمانی اس نشست کے اہتمام میں پیش پیش تھے۔
  • ظہر کے بعد مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعیۃ اہل السنۃ ضلع گوجرانوالہ کی مجلس شورٰی کا اجلاس تھا جس میں مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ، مولانا سید محسن شاہؒ، مولانا نصیب خانؒ اور دیگر شہداء کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور ان کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے المناک قتل کی شدید مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ علماء کرام کے قتل عام کے سلسلہ کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں اور قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یہ اجلاس جمعیۃ اہل السنۃ کا انتخابی اجلاس تھا جس کی صدارت مولانا محمد ایوب صفدر نے کی اور اس میں حاجی عثمان عمر ہاشمی کو جمعیۃ اہل السنۃ کا ضلعی صدر اور بابر رضوان باجوہ کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا۔
  • اسی روز عصر کے بعد الشریعہ اکادمی میں تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت مولانا سید غلام کبریا شاہ نے کی اور اس سے مولانا جمیل احمد گجر، بابر رضوان باجوہ، مولانا حافظ محمد یوسف، حافظ عبد الرشید اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ میں نے اس موقع پر عرض کیا کہ مولانا نصیب خانؒ، مولانا سید محمد محسن شاہؒ اور مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ سب ہمارے محترم تھے اور سب کی شہادت اور جدائی پر ہم غمزدہ ہیں لیکن مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ کی شہادت پر ہمارا صدمہ دوہرا ہے اس لیے کہ وہ ہمارے ساتھی تھے اور انہوں نے طالب علمی کا ایک دور ہمارے درمیان گزارا ہے۔

مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ نے دینی تعلیم کا آغاز باغبانپورہ لاہور میں ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد اسحاق قادریؒ کے ہاں کیا تھا جو شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ مولانا شیخوپوریؒ نے صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم ان سے حاصل کی اور ان کے بچوں کے ساتھ کچھ عرصہ ان کے گھر میں رہے، حضرت مولانا محمد اسحاق قادریؒ کی اہلیہ محترمہ ان سے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی تھیں اور وہ بھی ان سے بہت مانوس تھے۔ مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ نے درس نظامی کی تکمیل جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کی اور وہیں دورۂ حدیث کر کے فراغت حاصل کی۔ بعد میں وہ کراچی تشریف لے گئے اور جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے دورۂ حدیث میں بھی شریک ہوئے۔

قرآن کریم کے درس کا ذوق انہوں نے اپنے دو بزرگ اساتذہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ سے پایا اور وہ اس کا مختلف مواقع پر تذکرہ بھی کرتے تھے۔ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اپنے شاگردوں کو بطور خاص اس کی تلقین کیا کرتے تھے کہ جہاں بھی جاؤ درس قرآن کریم کا سلسلہ ضرور قائم کرو، وہ نوجوانوں کے لیے ترجمۂ قرآن کریم اور ہلکی پھلکی عربی گرامر کی تعلیم پر بھی بہت زور دیتے تھے۔ جبکہ مولانا محمداسلم شیخوپوری شہیدؒ آج کے دور میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی اس تعلیمی و فکری جدوجہد کا اہم کردار تھے جو حضرت شیخ الہند نے مالٹا کی قید سے رہائی کے بعد ہندوستان واپس پہنچنے پر شروع کی تھی کہ مسلمانوں میں اجتماعیت کے فروغ کی محنت کی جائے اور قرآنی تعلیمات عام مسلمانوں تک پہنچانے کی جدوجہد کی جائے۔ مولانا شیخوپوریؒ نے قرآن کریم کے درس کے لیے جو اسلوب اختیار کیا وہ آج کے نوجوان علماء کرام کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

علماء کرام کے اس المناک اور مسلسل قتل عام کے سلسلہ میں راقم الحروف نے عرض کیا کہ افغانستان میں روس کی شکست اور روسی افواج کی واپسی کے بعد جو نیو ورلڈ آرڈر امریکہ کی طرف سے جاری ہوا تھا اس کی ایک باقاعدہ شق تھی کہ مسلم سوسائٹی میں جو علماء کرام اور دانشور عوام تک رسائی رکھتے ہیں اور جن کی باتیں رائے عامہ پر اثر انداز ہوتی ہیں انہیں عام مسلمانوں سے دور رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے ہی دینی مدارس کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی گئی تھی جو اَب بھی جاری ہے اور اس کا ہدف یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو دینی تعلیم اور دینی مدارس سے دور کیا جائے۔ لیکن یہ اسلام کا اعجاز ہے کہ مہم الٹ پڑ گئی، جوں جوں دینی مدارس کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا بڑھتا گیا اور کردارکشی کی مہم زور پکڑتی گئی اس کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور طلبہ و طالبات کی تعداد بھی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ دینی قیادت اور دینی مدارس کی کردارکشی کی اس مہم میں عالمی استعمار کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ علماء کرام کا یہ قتل عام اسی مہم کا ایک اور رخ ہے، بالخصوص کراچی کے بارے میں گزشتہ دو عشروں سے میں دیکھ رہا ہوں کہ دینی حوالہ سے جو شخصیت بھی عوام میں مقبولیت حاصل کرتی ہے اور جس کے گرد عوام کا ہجوم جمع ہونا شروع ہوتا ہے اسے شہید کر دیا جاتا ہے۔ مولانا انیس الرحمان درخواستیؒ کی شہادت سے لے کر مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ کی شہادت تک ہمارے جتنے بزرگ اور ساتھی شہید ہوئے ہیں ان سب میں مشترک بات یہ تھی کہ وہ دین کے لیے ہمہ وقت متحرک تھے اور ان کے گرد علماء کرام کے ساتھ ساتھ عوام بھی جمع ہو رہے تھے۔ یہ آج کے عالمی استعمار کے ایجنڈے کا سب سے اہم ہدف ہے کہ علماء کرام اور خاص طور پر وہ علماء کرام جو دینی و فکری بیداری کا ذریعہ بنتے ہیں اور آج کے حالات کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر عوام کی راہنمائی کرتے ہیں انہیں عوام سے دور رکھا جائے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ استعمار کی یہ مہم بھی ناکامی سے دوچار ہوگی، علماء کرام کی شہادتیں تو ہوتی رہیں گی لیکن علماء اور عوام کا رشتہ توڑنے کی مذموم کوشش ان شاء اللہ تعالٰی بالآخر دم توڑ جائے گی بلکہ علماء کرام کی شہادتوں اور ان کے مقدس خون کی برکت سے یہ رشتہ اور مضبوط ہوگا، ان شاء اللہ تعالٰی۔

ہم غمزدہ ضرور ہیں مگر مایوس قطعاً نہیں ہیں اور نہ ہی شہادتوں کا یہ سلسلہ ہمارے حوصلوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔ یہ ہمارے بزرگوں کی جدوجہد ہے جو اپنی روایات کے مطابق آگے بڑھتی رہے گی، اللہ تعالٰی تمام شہداء کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ہم سب کو ان کا مشن جاری رکھنے کی توفیق سے نوازے، آمین یا رب العالمین۔