شمالی علاقہ جات کے مسلمانوں کی حالت زار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۰۳ء

روزنامہ اوصاف اسلام آباد نے ۱۱ مارچ ۲۰۰۳ء کو اے، پی، پی کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامر میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں اور تازہ جھٹکوں میں درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دیامر شمالی علاقہ جات کا ضلع ہے جس میں اہل سنت کی اکثریت ہے جبکہ شمالی علاقہ جات کے دوسرے اضلاع میں مجموعی طور پر اہل تشیع، آغا خانی اور نور بخشی فرقوں کو اکثریت حاصل ہے۔ دیامر میں سے ہی شاہراہ ریشم گزرتی ہے اور اسی ضلع میں دنیا کا وہ بلند ترین وسیع میدان ہے جسے حاصل کرنے کے لیے عالمی قوتیں ہمیشہ بے چین رہی ہیں کیونکہ اس میدان میں فوجی مرکز قائم کرکے چین، بھارت، پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا سمیت اس پورے خطے پر فضائی بالادستی اور کنٹرول قائم کیا جا سکتا ہے۔

ضلع دیامر کے علاقہ استور میں زلزلوں کا سلسلہ گزشتہ سال نومبر کے آغاز میں شروع ہوا تھا اور درجنوں دیہات اس کی زد میں آئے تھے جن میں سے پانچ چھ تو مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ ماہرین ارضیات اس کے بعد سے مسلسل یہ پیش گوئی کرتے آرہے ہیں کہ اس خطہ میں زیر زمین آتش فشاں لاوا موجود ہے جو مسلسل حرکت کر رہا ہے اور مستقبل قریب میں شدید زلزلوں کے امکانات موجود ہیں، اس کی بنا پر علاقہ کے عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ جن علاقوں میں مزید زلزلوں کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں وہاں کے عوام کو محفوظ علاقوں کی طرف منتقل کیا جائے لیکن حکومت اس مطالبہ کی طرف توجہ نہیں دے رہی جس کی وجہ اس ضلع کے بعض راہنماؤں کے نزدیک یہ ہے کہ شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ مذہبی عصبیت کی وجہ سے اس ضلع کو نظر انداز کر رہی ہے اور اس کی طرف سے ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹوں کے باعث حکومت پاکستان بھی اس مسئلہ کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لے رہی۔سرکاری حلقوں کا اب تک یہ کہنا تھا کہ مزید زلزلوں کی پیش گوئیاں محض قیاس آرائیاں ہیں جو عوام میں بلاوجہ خوف پھیلانے کے لیے کی جا رہی ہیں لیکن دو ہفتے قبل چین کے صوبہ سنکیانگ میں زلزلہ آیا جو اس خطہ کے ساتھ ملحق ہے اور اب ۱۰ مارچ کو استور میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جبکہ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کم از کم بارہ مقامات پر گرم لاوا زمین سے مسلسل ابل رہا ہے اور وقفے وقفے سے جھٹکے اور خوفناک آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور صرف شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ کی رپورٹوں پر انحصار کرنے کی بجائے از خود اس علاقہ کے لوگوں کی مشکلات کا جائزہ لے کر متاثرین کی بحالی کے ساتھ ساتھ خطرہ کے علاقہ سے لوگوں کو محفوظ جگہوں تک منتقل کرنے کے لیے بروقت اقدامات کرنے چاہئیں۔