عراق پر امریکی اتحاد کا قبضہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۳ء

امریکہ نے برطانیہ اور دوسرے اتحادیوں کے تعاون سے بغداد پر قبضہ کر لیا ہے اور عراق پر اپنی حکومت مسلط کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی اتحاد جس قسم کے خوفناک اسلحہ سے لیس ہو کر عراق پر حملہ آور ہوا تھا اور جو وسائل اس کی پشت پر تھے ان کے پیش نظر عراقی فوج کے اس حوصلے کی داد دینا پڑتی ہے کہ اس نے مسلسل تین ہفتے امریکی اتحاد کا مقابلہ کیا اور باوجود اس کے کہ گزشتہ ایک عشرہ سے عراق کی اقتصادی ناکہ بندی جاری تھی اور عراق پر کسی قسم کے مہلک ہتھیار بنانے پر پابندی تھی عراق کا تین ہفتے تک امریکی اتحاد کے مقابلہ پر کھڑے رہنا قابل داد بات ہے۔ امریکی اتحاد کا خیال تھا کہ اس کی فوجوں کے عراق کی سرحد عبور کرتے ہی عراقی فوج سرنڈر ہوجائے گی اور عراق کے عوام شہروں سے باہر پھولوں کے ہار لیے امریکی فوج کے استقبال کے لیے چشم براہ ہوں گے مگر امریکی راہنماؤں اور فوجی کمانڈروں کی یہ دونوں توقعات غلط ثابت ہوئیں۔ عراقی فوج نے آخر دم تک مقابلہ کیا اور ہتھیار ڈالنے کی بجائے میدان میں شکست کھا کر امریکہ کو بغداد پر قابض ہونے کا موقع دیا جبکہ بغداد پر قابض ہونے کے بعد بھی امریکہ اپنی حمایت میں بغداد کے چند سو شہریوں کے سوا کسی کو سڑکوں پر نہیں لا سکا۔ بلکہ بغداد اور دیگر عراقی شہروں میں عراقی عوام نے امریکی قبضے کے بعد اجتماعی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور انہوں نے اپنے عمل و کردار سے واضح کر دیا ہے کہ عراق پر امریکہ کا قبضہ فوجی قبضہ ہے جو اس نے طاقت کے بل پر کیا ہے، اس میں عراقی عوام کی مرضی شامل نہیں ہے اور وہ اپنی قومی آزادی کے لیے اس کے خلاف مزاحمت کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

ملکوں پر طاقت کے زور سے قبضے ہوتے آئے ہیں، قومیں بار بار غلام بنائی جاتی رہی ہیں لیکن اگر کوئی قوم ذہنی دستبرداری اور فکری پسپائی قبول نہ کرے تو طاقت کے قبضے ہمیشہ عارضی ثابت ہوتے ہیں اور اپنے عقیدہ اور ذہن و فکر کی آزادی برقرار رکھنے والی قومیں بالآخر مسلط قوتوں کے جبر سے نجات حاصل کر لیا کرتی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ عراقی عوام اپنے عقیدہ و فکر کی آزادی کی شمع کو ہر حال میں جلائے رکھیں گے اور بالآخر امریکی تسلط سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

درجہ بندی: