کیا شہدائے بالاکوٹ کا جہاد صرف سکھوں کے خلاف تھا؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۵ جولائی ۲۰۰۰ء

محترم راجہ انور صاحب نے تحریک آزادی، مجاہدین اور سید احمد شہیدؒ کے حوالہ سے پھر قلم اٹھایا ہے اور مختلف پہلوؤں پر اپنی معلومات اور تاثرات و خیالات کو قارئین کے سامنے رکھا ہے۔ راجہ صاحب کو ہم صاحب قلم، صاحب مطالعہ اور صاحب رائے دانشور سمجھتے ہیں اور انہیں تاریخی واقعات کا جائزہ لینے اور ان کے بارے میں اپنی رائے پیش کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے لیکن کسی واقعہ یا تحریک کے بارے میں ایسا تاثر دینا کہ اس سے اس واقعہ یا تاریخ کا مجموعی تناظر ہی الٹ دیا جائے، تحقیق اور تجزیہ نگاری کے مسلمہ اسلوب اور معیار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ راجہ صاحب محترم نے ان موضوعات پر جو کچھ پڑھا ہے اس کے نتائج شاید ذہن میں وہی مرتب ہوتے ہوں گے جو انہوں نے تحریر فرمائے ہیں۔ لیکن میرے خیال سے کمپیوٹر سے صحیح نتائج لینے کے لیے اس میں معلومات بھی مکمل طور پر فیڈ کرنا ضروری ہوتا ہے اور ہمارے ہاں عام طور پر الجھن اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ ہم ذہن کے کمپیوٹر کو ادھوری معلومات دے کر اس سے مکمل نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہ بےچارہ ہمارے اس رویہ پر احتجاج کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتا۔ اس پس منظر میں راجہ صاحب کے نئے ارشادات میں سے بطور نمونہ صرف مندرجہ ذیل دو نکات سے اختلاف کی جسارت کر رہا ہوں اور ان کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

’’شہدائے بالاکوٹ کی جدوجہد سکھوں کے خلاف تھی اور انگریز ان کا ہدف نہیں تھے۔‘‘

سید احمد شہیدؒ دراصل شاہ عبد العزیزؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کے فکری پیروکار تھے۔ جہاں تک شہدائے بالاکوٹ کے جہاد کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں اگر سید احمد شہیدؒ کی جدوجہد کے ابتدائی مرحلہ کا مطالعہ کر لیا جائے اور اسی جدوجہد کے دوران مختلف نوابوں، مسلمان رؤسا اور علماء و مشائخ کے نام ان کے تحریر کردہ خطوط پر ایک نظر ڈال لی جائے تو ساری بات واضح ہو جاتی ہے۔ یہ خطوط ’’مکاتیب سید احمد شہید‘‘ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں اور اردو بازار لاہور کے کسی بھی بڑے کتب خانے سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

قصہ یہ ہے کہ رائے بریلی کی عظیم روحانی خانقاہ ’’دائرہ شاہ علم اللہ‘‘ کے چشم و چراغ سید احمد شہیدؒ تعلیم و تربیت کے لیے دہلی کی ممتاز درسگاہ میں حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ کی خدمت میں پہنچے اور امام ولی اللہ دہلویؒ کے خاندان سے علمی اور روحانی طور پر فیض یاب ہوئے تو شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے اس نوجوان میں جہاد کا جذبہ اور دینی حمیت محسوس کرتے ہوئے اسے ریاست ٹونک کے نواب امیر خان مرحوم کے پاس بھیج دیا جو اس وقت ایک آزاد مسلم ریاست کے حکمران تھے اور ان کے پاس اچھی فوج موجود ہونے کی وجہ سے خاندان ولی اللہؒ کو یہ امید تھی کہ اگر نواب امیر خان کی پشت پناہی کی جائے اور ان کا حوصلہ قائم رکھا جائے تو وہ انگریزوں کے تیزی سے بڑھتے ہوئے قدموں کی راہ میں ایک مضبوط رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ سید احمد شہیدؒ کو اسی مقصد کے لیے ان کی فوج میں بھرتی کرایا گیا کہ وہ فوجی تربیت حاصل کریں۔ نواب صاحب کی ذہن سازی کرتے رہیں اور اس آزاد ریاست میں خاندان ولی اللہؒ کے نمائندہ کی حیثیت سے ریاست کی آزادی کے تحفظ اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد کے امکانات کی نگرانی کریں۔

چنانچہ سید احمد شہیدؒ ۱۸۰۹ء سے ۱۸۱۷ء تک سات سال وہاں رہے لیکن جب نواب امیر خان مرحوم نے بھی انگریزوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کا سامنا کرنے کا حوصلہ اپنے اندر نہ پایا اور ان سے مصالحت کی راہ اختیار کر لی تو پنجاب یونیورسٹی کے دائرہ معارف اسلامیہ کے مقالہ نگار کے مطابق سید احمد شہیدؒ نے ہر ممکن کوشش کی کہ نواب امیر خان انگریزوں سے صلح نہ کریں اور ان کے مقابلہ کی راہ اختیار کریں مگر اس کوشش میں کامیاب نہ ہونے پر ٹونک کو چھوڑ کر دہلی واپس آگئے۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ میں سید احمد شہیدؒ کی وہ آخری گفتگو بھی نقل کی ہے جو انہوں نے ٹونک چھوڑنے سے پہلے نواب امیر خان سے کی۔ سید صاحبؒ کا کہنا تھا کہ

’’نواب صاحب! ابھی کچھ نہیں گیا اختیار باقی ہے، آپ کی فہمائش کو آیا ہوں اگر میرا کہنا مانیے تو ان سے لڑیے اور ہرگز نہ ملیے، ملنے کے بعد آپ سے کچھ نہ ہو سکے گا، یہ کفار بڑے دغاباز مکار ہیں کچھ آپ کے واسطے تنخواہ یا جاگیر مقرر کر کے کہیں بٹھا دیں گے کہ روٹیاں کھایا کیجیے پھر بات ہاتھ سے جاتی رہے گی۔‘‘

مگر نواب صاحب حوصلہ ہار چکے تھے، چنانچہ انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ مصالحت کر لی۔ اس صلح میں کمپنی کی طرف سے سب سے بڑی شرط یہ تھی کہ وہ اپنی فوج کو منتشر کر دیں جو اس وقت بھی ایک اچھی فوج شمار ہوتی تھی اور ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہزاروں دیندار مسلمان صرف اس جذبہ کے ساتھ اس میں بھرتی ہوئے تھے کہ انگریزوں کے خلاف کبھی معرکہ کارزار گرم ہوا تو وہ نواب امیر خان مرحوم کے جھنڈے تلے جہاد میں حصہ لے سکیں گے۔ لیکن انگریزوں سے یہ صورتحال کس طرح مخفی رہ سکتی تھی؟ انہوں نے جواب امیر خان مرحوم کو ایسا گھیرا کہ خود اس کے ہاتھوں یہ فوج منتشر کرادی۔ سید احمد شہیدؒ نے اس صورتحال کی جو رپورٹ اپنے دہلی پہنچنے سے قبل حضرت شاہ عبد العزیزؒ کی خدمت میں بھجوائی اس میں لکھا کہ

’’خاکسار قدم بوسی کو حاضر ہوتا ہے، یہاں لشکر کارخانہ درہم برہم ہوگیا، نواب صاحب انگریزوں سے مل گئے ہیں، اب یہاں رہنے کی کوئی صورت نہیں۔‘‘

اس کے بعد دہلی کے ولی اللٰہی مرکز نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ چونکہ وسطی ہند میں انگریزوں کے خلاف کوئی مورچہ قائم کرنا ممکن نہیں رہا اس لیے متحدہ ہندوستان کے کسی کنارے پر قبضہ کر کے ’’بیس کیمپ’’ بنایا جائے اور وہاں سے جہاد کا آغاز کیا جائے جہاں باہر کی دنیا کے ساتھ رابطہ بھی آسان ہو۔ اس وقت اس مقصد کے لیے سب سے موزوں علاقہ پشاور کا صوبہ اور قبائلی علاقہ تھا جس کی پشت پر افغانستان تھا اور جس علاقہ کے عوام ملی غیرت اور دینی حمیت میں نمایاں تھے۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ وہ علاقہ سکھوں کے کنٹرول میں تھا اور اس کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے ظاہر ہے کہ سکھوں سے ہی جنگ ہونا تھی۔ اس سلسلہ میں سید احمد شہیدؒ کے مکاتیب میں سے صرف دو خطوں کے اقتباسات نقل کروں گا جو انہوں نے شہزادہ کامران اور والیٔ چترال شاہ سلیمان کے نام لکھے۔ پہلا خط شاہ سلیمان کے نام ہے۔

’’مشرکین نے ہندوستان کے اکثر حصے پر غلبہ حاصل کر لیا ہے اور ظلم و بیداد شروع کر دی ہے، کفر و شرک کے رسوم کا غلبہ ہوگیا اور شعائر اسلام اٹھ گئے ہیں، یہ حال دیکھ کر ہم لوگوں کو بڑا صدمہ ہوا، ہجرت کا شوق دامن گیر ہوا، دل میں غیرت ایمانی اور سر میں جہاد کا جوش و خروش ہے۔‘‘

جبکہ شہزادہ کامران کے نام خط میں لکھتے ہیں کہ

’’ہم ہر حال میں جہاد کو قائم رکھیں گے اور کبھی اس کو موقوف نہیں کریں گے اور انصاف اور مقدمات کے فیصلے شرع شریف کے قوانین سے بال بھر بھی تجاوز نہیں کریں گے اور ظلم و فسق سے کلیتاً اجتناب کریں گے، اس کے بعد میں اپنے مجاہدین کے ساتھ ہندوستان کا رخ کروں گا تاکہ اس کو کفر و شرک سے پاک کیا جائے اس لیے کہ میرا مقصد اصلی ہندوستان کا جہاد ہے نہ کہ ملک خراسان میں سکونت اختیار کرنا۔‘‘

اس سب کچھ کے باوجود اگر راجہ انور صاحب محترم شہدائے بالاکوٹ کے جہاد کو صرف سکھوں کے خلاف سمجھتے ہیں تو ان سے رائے کا حق تو نہیں چھینا جا سکتا مگر تاریخی حقائق اس رائے کو قبول کرنے سے صاف انکار کرتے ہیں۔