صوبہ سرحد کی گلوکاراؤں کا احتجاج

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۳ء

روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۷ فروری ۲۰۰۳ء کو اے ایف پی کے حوالہ سے پشاور سے خبر دی ہے کہ مختلف رقاصاؤں اور گلوکاراؤں نے صوبہ سرحد میں گانے اور ڈانس پر پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پابندی سے جسم فروشی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ ۳۰ سالہ گلوکارہ مہ جبین نے کہا کہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس پابندی نے اسے بارہ سال کے بعد دوبارہ جسم فروشی پر مجبور کردیا ہے۔

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہونے کے بعد اسلامی شعائر کی عملداری اور غیر اسلامی اقدار و روایات کے سدباب کے لیے وزیر اعلیٰ محمد اکرم خان درانی نے رقص و سرور کی محفلوں پر پابندی عائد کردی تھی جسے بعض حلقوں نے محض نمائشی اقدام قرار دے کر اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی تھی اور اب اس پابندی کا شکار ہونے والی رقاصاؤں نے دوسرے رخ سے اس پابندی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ لیکن یہ بات نئی نہیں ہے، اس سے قبل جب لاہور میں مغربی پاکستان کے سابق گورنر ملک امیر محمد خان مرحوم نے ’’بازار حسن‘‘ کی طوائفوں کی جسم فروشی پر پابندی عائد کی تھی تو اس وقت بھی طوائفوں کے دفاع میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ اس پابندی کی وجہ سے وہ بے روزگار ہوگئی ہیں۔

روزگار کا تحفظ ہر شہری کا حق ہے اور اسلام اس کی ضمانت دیتا ہے لیکن روزگار سے مراد ہر وہ کام نہیں جسے کوئی شخص پیسے کمانے کے لیے اختیار کر لے بلکہ دنیا کے ہر ملک میں روزگار کے ذرائع میں جائز اور ناجائز کی تقسیم ہوتی ہے اور کسی بھی ملک کا قانون کسی ایسے ذریعہ روزگار کو جواز اور تحفظ فراہم نہیں کرتا جو ملک کے دستور اور معاشرتی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہو۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے اور دستور پاکستان میں اسلامی اقدار و روایات کی پاسداری کی ضمانت دی گئی ہے، اس لیے پاکستان میں کوئی ایسا ذریعہ روزگار جواز کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا جو اسلام کی رو سے ناجائز ہو اور شریعت نے اسے حرام قرار دے رکھا ہو۔ رقص و سرور قطعی حرام ہے اور جسم فروشی اس سے بڑا حرام ہے جو ملک کے مروجہ قانون کی رو سے سنگین جرم ہے، اس لیے جو رقاصائیں جسم فروشی کے دھندے کا کھلم کھلا اعتراف کر رہی ہیں ان کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے اور انہیں اس کھلے اعتراف کے بعد قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے کہ وہ جرم کے اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی شعائر و احکام کا مذاق اڑانے کی بھی مجرم ہیں۔ البتہ جو رقاصائیں اور گلوکارائیں اس پابندی کے بعد اس مکروہ دھندے سے باز آگئی ہیں اور شریفانہ زندگی بسر کرنا چاہتی ہیں لیکن ان کے پاس کوئی جائز متبادل روزگار نہیں ہے تو ہم صوبہ سرحد کی حکومت سے گزارش کریں گے کہ ناچ گانے سے توبہ کرنے والی بے روزگار خواتین کو جائز متبادل روزگار مہیا ہونے تک معاشی تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ جرم اور گناہ پر قابو پانے اور اس کا راستہ روکنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے۔