اساتذہ کے بعد ڈاکٹرز کی ہڑتال

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ اپریل ۱۹۸۲ء
اصل عنوان: 
اور اب ڈاکٹر بھی!

اساتذہ کی طرح ڈاکٹر بھی معاشرہ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اساتذہ پر قوم کی ذہنی صحت کا معیار قائم رکھنے کی ذمہ داری ہے جبکہ ڈاکٹر جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری قبول کیے ہوئے ہیں اور دونوں کے کام چھوڑ دینے کے نتائج کی سنگینی یکساں ہے۔ اساتذہ کی ہڑتال تعلیمی حرج کے حوالے سے ذہنی موت کا باعث ہے اور ڈاکٹروں کی ہڑتال جسمانی موت کا ذریعہ بنتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان دو طبقات کی مسلسل ہڑتال قومی حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے۔

جہاں تک مطالبات کا تعلق ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ ملک کے دوسرے تنخواہ دار طبقوں کی طرح ملازمت پیشہ ڈاکٹر بالخصوص جونیئر ڈاکٹرز بھی ایسی مشکلات و مسائل سے دوچار ہیں جن کے حل کے لیے انہیں بالآخر مجبور ہو کر ہڑتال ایسا سنگین قدم اٹھانا پڑا ہے۔ معاشرہ میں مختلف طبقات کے دارمیان معیار زندگی کے ہوشربا تفاوت، اخراجات میں زبردست اضافہ، وسائل کی روز افزوں کمی اور اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ کے خطرناک رجحان نے کم و بیش ہر طبقہ کو لاینحل مشکلات و مسائل سے دوچار کر رکھا ہے۔ اور ان مسائل کا حل اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ پورے معاشرتی ڈھانچہ کو ازسرنو استوار کیا جائے اور معاشی پالیسیوں کے تعین کی بنیاد طبقاتی مفادات کے تحفظ کی بجائے قومی مفادات کو بنایا جائے، اس کے سوا ہمارے مسائل کے حل کی اور کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔

تاہم اساتذہ اور جونیئر ڈاکٹروں کے جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے ہم حکومت سے گزارش کریں گے کہ یہ مطالبات جلد از جلد منظور کر کے اساتذہ، ڈاکٹروں اور عوام کو مشکلات سے نجات دلائی جائے۔