انتخابات ۲۰۱۳ء ۔ دینی جماعتوں کے قائدین سے اپیل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ اپریل ۲۰۱۳ء

جوں جوں الیکشن قریب آرہے ہیں اہل دین کی تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ قومی سیاست میں حصہ لینے والی دینی جماعتوں یا پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی بنیادوں پر یقین رکھنے والی پارٹیوں کے مشترکہ طور پر الیکشن لڑنے کی عوامی خواہش تقریباً دم توڑ گئی ہے اور باہمی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ باہمی محاذ آرائی کو روکنے کے امکانات بھی معدوم ہوتے نظر آتے ہیں۔

آنے والے عام انتخابات کے بارے میں ہر ذی شعور سیاسی کارکن کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات اور ان کے نتائج نہ صرف پاکستان کے مستقبل بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی صورت حال کے حوالہ سے انتہائی اہم ہوں گے اور خاص طور پر پاکستان کے اسلامی تشخص کے بارے میں عالمی سیکولر قوتوں کے ایجنڈے کی پیش رفت کا مدار اس الیکشن کے نتائج پر ہوگا، اسی وجہ سے ملک کے دیگر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی پاکستان شریعت کونسل کے فورم پر قومی سیاست میں شریک مذہبی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ متحدہ محاذ بنا کر اس الیکشن میں مشترکہ طور پر شریک ہوں یا کم از کم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ مذہبی ووٹ کے تقسیم ہو جانے کے امکانات کو کم سے کم کرنے کا کوئی لائحہ عمل طے کریں مگر یہ گزارش لائق التفات نہیں سمجھی گئی اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے انتخابی راستے جدا جدا ہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام نظریاتی، جمعیۃ علماء اسلام مولانا سمیع الحق گروپ، اہل سنت یعنی سپاہ صحابہؓ، جمعیۃ علماء پاکستان، جمعیۃ اشاعت التوحیدا ور جمعیۃ اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے انتخابی امیدواروں کی بڑی تعداد میدان میں ہے اور بیسیوں حلقوں میں وہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں، جس سے مذہبی ووٹ کے تقسیم ہو کر غیر موثر ہوجانے کے ساتھ ساتھ جگ ہنسائی کا سامان بھی فراہم ہو رہا ہے۔ ابھی الیکشن مہم کی شروعات ہیں مگر موبائل فون کے میسج سسٹم پر ایک دوسرے کے خلاف تبصروں اور جملہ بازی کا جو بازار گرم ہو رہا ہے وہ باعث شرم ہونے کی حد تک افسوسناک ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اس میدان میں ایک دوسرے کے خلاف کس حد تک آگے جانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔

اس لیے جہاں ہم اس درخواست کو دہرانا ضروری خیال کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا عصمت اللہ اور مولانا محمد احمد لدھیانوی کے باہمی رابطہ کے ساتھ ساتھ اس سے قدرے وسیع دائرے میں مولانا ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، جناب سید منور حسن، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، پروفیسر حافظ محمد سعید اور ان کے رفقاء کے ساتھ بھی باہمی رابطہ و مفاہمت کی کوئی صورت اس حد تک ضرور نکلنی چاہیے کہ مختلف حلقوں میں باہمی محاذ آرائی کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ یہ گزارش بھی اب ضروری معلوم ہوتی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران اپنے مقررین، کارکنوں اور میڈیا کے محاذ پر کام کرنے والوں کو ایک دوسرے کے خلاف ایسی زبان استعمال کرنے سے روکا جائے جو دینی حلقوں کی خفت اور سیکولر حلقوں کی تقویت کا سامان فراہم کرتی ہو اور اہل دین کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بن جائے۔

اس موقع پر افغان مجاہدین کے عظیم راہ نما مولانا جلال الدین حقانی کی ایک سابقہ اپیل کا حوالہ دینا مناسب سمجھتا ہوں جو انہوں نے اسی قسم کے انتخابات کے موقع پر پاکستان کے دینی حلقوں سے ایک مکتوب کے ذریعہ فرمائی تھی، یہ خط اس وقت دیگر دینی جماعتوں کے راہ نماؤں کے علاوہ مجھے بھی موصول ہوا تھا، اس میں مولانا حقانی نے جمعیۃ علماء اسلام کے مختلف دھڑوں کے پس منظر میں لکھا تھا کہ:

’’پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی خاطر علماء کا باہمی برادرانہ اتحاد دینی تقاضوں کی للکار اور وقت حاضر کی اہم پکار ہے جس سے نہ صرف پاکستان میں ملت اسلامیہ کی ایک عالمگیر باوقار اسلامی قوت پیدا ہو جائے گی بلکہ موجودہ پر فتن دور کے بد عقیدہ، بے دین، ملحدین اور اسلام دشمن عناصر کے ناپاک حوصلے پست اور کافرانہ عزائم خاکستر ہو جائیں گے۔

اگر بزرگوارم جیسے حساس، خدا ترس، با اثر علماء ربانیین نے جمعیۃ کے ان دو ٹکڑوں اور دیگر دینی تنظیموں کے مختلف گروہوں کو یکجا کرنے میں ہماری مدد فرمائی تو بمشیۃ اللہ تعالیٰ و بفضلہ علماء اسلام کی یہ بکھری ہوئی قوتیں ایک دفعہ پھر متحد ہو کر زندقہ و الحاد کے پرستاروں کی سرکوبی کے لیے بنیان مرصوص ثابت ہوں گی۔

خدانخواستہ اگر ہم اس دفعہ بھی آنے والے انتخابات میں حسب روایات سابقہ درون خانہ فرقہ بندی کی خانہ جنگیوں میں مصروف رہے تو پہلے سے کہیں زیادہ جمعیۃ کی راسخ و مضبوط شخصیت متزلزل ہو کر انتہائی مذموم و مہلک نتائج سے ہمکنار ہوگی۔

اب تو ہمیں ماضی کے تلخ تجربات سے سبق لے کر محض رضائے مولیٰ کی خاطر تمام اختلافات و مشاجرات کو بالائے طاق رکھ کر پورے خلوص و للہیت کے ساتھ یک جسم و جان ہونا چاہیے تاکہ ابھی سے متفقہ طور پر پوری قوت و جانفشانی کے ساتھ آئندہ انتخابات اور دیگر اہم مسائل کے لیے منظم پالیسی کے ماتحت سرگرم عمل ہونے کے قابل ہو جائیں۔ ‘‘

مولانا جلال الدین حقانی کی یہ اپیل اگرچہ کم و بیش دو عشرے قبل کی ہے لیکن موجودہ حالات میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ابھی ہفتہ قبل یہ اپیل جاری ہوئی ہو۔ اس حوالہ سے ہم دو گزارشات کرنا چاہتے ہیں، ایک یہ کہ پاکستان کے داخلی ماحول کے حوالہ سے افغان مجاہدین کی ذمہ دار قیادت بھی یہی چاہتی ہے کہ پاکستان کی دینی جماعتیں قومی سیاست میں بھرپور حصہ لے کر اہم کردار ادا کریں اور متحد ہو کر زیادہ سے زیادہ سیاسی قوت فراہم کریں اور دوسری یہ کہ افغانستان سے امریکی اتحاد کی فوجوں کے انخلاء کے بعد اگلے تین چار برسوں میں افغان مجاہدین کی سب سے بڑی ضرورت بھی یہی ہوگی کہ پاکستان کی دینی جماعتیں بالخصوص جمعیۃ علماء اسلام متحد ہو کر قومی سیاست میں اہم اور فیصلہ کن پوزیشن حاصل کریں۔ اس لیے اگر ہم اپنے لیے نہیں کر سکتے تو ان غریبوں کی خاطر ہی باہمی رابطہ و مفاہمت کا ’’کڑوا گھونٹ‘‘ بھر لیں، ہو سکتا ہے ہمیں تلخ اور کڑوا لگنے والا یہ گھونٹ ان مظلوموں کے لیے ’’آب حیات‘‘ کا کام دے جائے۔