باہمی تنازعات کے تصفیہ کی ایک قابل تقلید مثال

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ ستمبر ۲۰۱۶ء
اصل عنوان: 
خانپور میں ایک دن

حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے ساتھ تلمذ، ارادت، محبت اور عقیدت رکھنے والے حضرات گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے ملک بھر میں اپنی اپنی جگہ پریشانی سے دوچار تھے کہ ان کے محترم فرزندوں میں اختلاف ہوا تو وہ بڑھتے بڑھتے باہمی جھگڑے کے ساتھ ساتھ حضرت درخواستیؒ کے قدیمی تعلیمی و روحانی مرکز جامعہ مخزن العلوم والفیوض خانپور کی دو اداروں میں تقسیم کا باعث بن گیا۔

  1. حضرت درخواستیؒ کے بڑے صاحبزادے اور جانشین مولانا فداء الرحمان درخواستی نے تو ان کی زندگی میں ہی کراچی کو مسکن بنا لیا تھا اور آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں جامعہ انوار القرآن کے نام سے ایک بڑا تعلیمی ادارہ ان کے زیر اہتمام مصروف عمل ہے،
  2. حضرتؒ کے نواسوں مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ اور مولانا مفتی حبیب الرحمان درخواستیؒ نے خانپور میں ہی جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ قائم کیا جو ملک کے اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے،
  3. جبکہ حضرت درخواستیؒ کا قدیمی و روحانی مرکز جامعہ مخزن العلوم حضرتؒ کے دیگر فرزندوں مولانا حاجی مطیع الرحمان درخواستی، مولانا فضل الرحمان درخواستی، مولانا خلیل الرحمان درخواستی اور ان کے رفقاء کے زیرانتظام تھا جہاں مولانا حافظ فضل الرحمان درخواستی مہتمم کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

یہ تینوں ادارے اپنے اپنے دائروں میں مصروف عمل تھے کہ کچھ عرصہ قبل جامعہ مخزن العلوم والفیوض عیدگاہ خانپور کے نظم و نسسق کے حوالہ سے بھائیوں میں اختلاف بڑھتے بڑھتے تنازع اور تقسیم تک جا پہنچا جس کے نتیجے میں جامعہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ اس پر ہر جگہ دوستوں کو پریشانی تھی جس کا اللہ تعالٰی نے خاتمہ فرما دیا ہے اور گزشتہ دنوں نہ صرف یہ کہ مولانا فضل الرحمان درخواستی، مولانا خلیل الرحمان درخواستی اور مولانا عزیز الرحمان درخواستی سمیت سب بھائیوں میں مصالحت ہوگئی ہے بلکہ جامعہ مخزن العلوم بھی دوبارہ متحد ہوگیا ہے اور الگ قائم ہونے والے ادارے کو قدیمی ادارے میں ضم کر دیا گیا ہے، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ ہمارے لیے یہ بات بہت خوشی کی تھی اس لیے میں نے مبارکباد کے لیے خود خانپور حاضر ہونے کا ارادہ کر لیا۔

فکر و مزاج کا اختلاف فطری بات ہے لیکن اسے تنازعے کا رنگ دینا درست نہیں ہے کہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور غلط رخ پر لے جانے کے خواہشمند لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں جو بسا اوقات اچھا خاصا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں۔ اس لیے سعادت مندی کی بات یہی ہے کہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہا جائے اور خاندان کی وحدت کے ساتھ ساتھ اداروں کا بھرم قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہے کہ خیر و برکت اسی میں ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات بہت اطمینان کا باعث بنی کہ درخواستی برادران میں صلح کے ساتھ جامعہ مخزن العلوم کی وحدت بھی بحال ہوگئی ہے جو آج کے دور میں یقیناً قابل تقلید مثال ہے۔ چنانچہ اس پر مسرت کے اظہار اور مبارک باد کے لیے مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا قاری عبید اللہ عامر، قاری عبد الرؤف ساجد اور حافظ محمد زبیر جمیل کے ہمراہ پاکستان شریعت کونسل کے وفد کی صورت میں یکم ستمبر کو جامعہ مخزن العلوم خانپور میں حاضری دی اور مولانا فضل الرحمان درخواستی، مولانا خلیل الرحمان درخواستی اور مولانا عزیز الرحمان درخواستی سے ملاقات کر کے انہیں مبارک باد دی۔

ہم ۳۱ اگست کو صبح دس بجے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے روانہ ہوئے، ساہیوال سے آگے ایک بستی چک ۹۸ میں مولانا قاری جمیل الرحمان اختر کے ایک پرانے ساتھی مولانا محمد طارق ثاقب کے ہاں ظہر کی نماز پڑھی اور دوپہر کا کھانا کھایا۔ عصر کی نماز خانیوال میں جمعیۃ علماء اسلام (س) پنجاب کے سیکرٹری جنرل مفتی خالد محمود ازہر اور دیگر رفقاء کے ساتھ ادا کی۔ پھر عشاء تک احمد پور شرقیہ پہنچ گئے جہاں جامعۃ الحنیف الاسلامیہ میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر مولانا محمد احمد جالندھری نے ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مولانا قاری جمیل الرحمان اختر سمیت مختلف علماء نے خطاب کیا اور میں نے ۶ ستمبر کے یوم دفاع اور ۷ ستمبر کے یوم تحفظ ختم نبوت کی اہمیت کی طرف احباب کو توجہ دلائی۔ جامعۃ الحنیف الاسلامیہ میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ رفاہی کاموں بالخصوص یتیم بچیوں میں تعلیم اور سلائی کڑھائی جیسے فنون سکھانے کا اہتمام دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اللہ تعالٰی ملک کے دیگر اداروں کو بھی اس نہج پر کام کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین۔

یکم ستمبر کو صبح احمد پور شرقیہ کے دو قدیمی دینی اداروں جامعہ فتحیہ اور دارالعلوم الشریعہ میں حاضری دی جہاں اساتذہ و طلبہ سے مختصر گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد خانپور جاتے ہوئے سلطان واہ میں مولانا محمد اسحاق کے مدرسہ میں رکے اور طلبہ سے بات چیت کی اور پھر ظہر تک جامعہ مخزن العلوم خانپور میں حاضر ہوگئے۔ عصر کی نماز ہم نے دین پور میں ادا کی۔ حضرت مولانا میاں مسعود احمد دین پوری دامت برکاتہم کی بابرکت مجلس میں کچھ دیر بیٹھے، ان سے دعائیں لیں اور قبرستان میں بزرگوں کی قبور پر دعا کی سعادت حاصل کر کے خانپور واپس آگئے۔ اس قبرستان میں حضرت مولانا خلیفہ غلام محمد دین پوریؒ، حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ، حضرت مولانا عبد الہادی دین پوریؒ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا میاں سراج احمد دین پوریؒ، حضرت مولانا مفتی عبد المجید دین پوریؒ اور حضرت مولانا عبد الشکور دین پوریؒ سمیت بہت سے بزرگ مدفون ہیں۔ دعا کرتے ہوئے میرے ذہن میں خیال آیا کہ کوئی صاحب اس قبرستان میں آرام کرنے والے بزرگوں کی فہرست مرتب کر دیں تو بہت اچھا ہوگا۔ خانپور واپسی پر مولانا عبد الکریم ندیم کے فرزند مولانا محمد احمد ندیم نے بتایا کہ وہ دین پور کے قبرستان میں مدفون بزرگوں کے بارے میں ضروری معلومات پر مشتمل مضمون مرتب کرنے میں مصروف ہیں، یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ نوجوان علماء میں ابھی بحمد اللہ تعالٰی اس قسم کی سوچ موجود ہے۔

معروف خطیب مولانا عبد الکریم ندیم کی والدہ محترم کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا تھا ، ان کے ہاں تعزیت و دعا کے لیے حاضری دی۔ جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ میں مولانا مفتی حبیب الرحمان درخواستی کے پاس دوستوں کی اچھی خاصی محفل جم گئی جس میں رحیم یار خان سے مولانا عبدا لرؤف ربانی بھی تشریف لائے ہوئے تھے، ملکی حالات اور مختلف دینی و قومی مسائل پر باہمی تبادلۂ خیالات کا موقع مل گیا۔ اس طرح خانپور میں ہم نے یہ مصروف دن گزارا، اگلا دن جمعۃ المبارک تھا جس کے لیے میری واپسی ضروری تھی چنانچہ باقی قافلہ تو وہیں رک گیا جبکہ میں رات کو عوام ایکسپریس کے ذریعے واپس گوجرانوالہ کے لیے روانہ ہوگیا۔