کینیڈا میں ہم جنس پرستوں کی شادی کا قانون

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۵ء

روزنامہ جنگ لاہور ۲۱ جولائی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق کینیڈا کی سینیٹ نے بھی ہم جنس پرستوں کی شادی کا بل ۲۱ کے مقابلہ میں ۴۳ ووٹوں کی اکثریت سے منظور کر لیا ہے اور اس طرح بلجیئم، ہالینڈ اور اسپین کے بعد کینیڈا چوتھا مغربی ملک ہے جس نے مرد کی مرد سے اور عورت کی عورت سے شادی کو باقاعدہ قانونی شکل دے دی ہے۔ اس سے قبل متعدد مغربی ممالک کے عدالتی فیصلوں اور حکومتی اقدامات کی صورت میں ہم جنس پرستوں کی باہمی شادی کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی ہے مگر اب باقاعدہ منتخب پارلیمنٹوں کے ذریعے اسے قانونی شادی قرار دینے کا سلسلہ چل پڑا ہے اور یورپ کے تین ملکوں کے بعد اب شمالی امریکہ کے ایک ملک کینیڈا کی پارلیمنٹ نے بھی اس بل کی منظوری دے دی ہے۔ کینیڈا کی قومی اسمبلی یہ بل پہلے ہی منظور کر چکی ہے اور اب سینٹ نے اس کی توثیق کرکے اسے ملک کے باقاعدہ قانون کا درجہ دے دیا ہے جس کے بعد دو مرد یا دو عورتیں آپس میں شادی کرکے میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں گے، ان کی شادی رجسٹرڈ ہوگی، ملکی قانون میں ان کے میاں بیوی کے حقوق تسلیم کئے جائیں گے، وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور وہ اگر کوئی بچہ کہیں سے لے کر پالیں گے تو اس کا نسب ان سے ثابت ہوگا۔

آسمانی تعلیمات میں اس عمل کو لعنتیوں کا کام قرار دیا گیا ہے اور بائبل اور قرآن کریم دونوں ایسے عمل کے مرتکب افراد کے ملعون ہونے پر متفق ہیں۔ اس لعنتی عمل کے باعث حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر آنے والے خوفناک عذاب کا قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ ذکر موجود ہے اور بحیرہ مردار اس عذاب کی زندہ شہادت کے طور پر ساری دنیا کے سامنے موجود ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قیامت کی نشانیوں میں ذکر فرمایا ہے کہ مرد مرد پر اور عورت عورت پر قناعت کرنے لگے گی اور اس کی مذمت کرتے ہوئے اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سختی کے ساتھ اس سے روکا ہے۔ مگر مغرب نے اسے انسانی حقوق کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے، اسے قانونی جواز دینے کے باقاعدہ مطالبے ہوتے ہیں، بڑی بڑی ریلیاں نکلتی ہیں، اس مہم کے لیے باقاعدہ فورم کام کر رہے ہیں، عدالتیں اس کے حق میں فیصلے دے رہی ہیں اور منتخب اسمبلیاں اسے قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے پیشرفت کر رہی ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم جناب ٹونی بلیئر کو شکایت ہے کہ مسلمانوں کے انتہا پسند دینی حلقے مغرب کے طرز زندگی کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں، ہم بڑے ادب کے ساتھ ان سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ مغربی طرز زندگی کے جس ’’شاہکار پہلو‘‘ کے خلاف خود بائبل نفرت کا اظہار کرتی ہے اور جس کے خلاف خود اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبروں نے نفرت کا اظہار کیا ہے، اگر آسمانی تعلیمات پر یقین رکھنے والے راسخ العقیدہ مسلمان بھی اس طرز زندگی کے خلاف نفرت کا اظہار کریں تو اس میں ان کا قصور کیا ہے ؟

درجہ بندی: