ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ دسمبر ۲۰۰۲ء

ممتاز محقق، دانش ور اور مصنف ڈاکٹر محمد حمید اللہ گزشتہ دنوں فلوریڈا (امریکا) میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا علمی تعلق جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن سے تھا، حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی کے تلامذہ میں سے تھے اور جامعہ عثمانیہ کے علمی وتحقیقی کاموں میں ایک عرصہ تک شریک رہے۔ حیدر آباد پر بھارت کے قبضہ کے بعد پاکستان آ گئے اور پھر یہاں سے فرانس کے دار الحکومت پیرس چلے گئے جہاں انہوں نے طویل عرصہ تک اسلام کی دعوت واشاعت کے حوالہ سے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ فرانسیسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کیا اور بے شمار لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ بہت سے فرانسیسی باشندوں نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ وہ بنیادی طور پر تعلیم وتحقیق کی دنیا کے آدمی تھے اور انہوں نے ساری زندگی لکھنے پڑھنے کے ماحول میں گزار دی۔ فقیر منش اور قناعت پسند بزرگ تھے، کتاب زندگی بھر ان کی ساتھی رہی اور کتاب ہی کی خدمت میں وہ آخر دم تک مصروف رہے۔

وفات کے وقت ان کی عمر ۸۸ برس کے لگ بھگ تھی۔ راقم الحروف کے نام ایک مکتوب میں، جو ماہنامہ الشریعہ (فروری ۹۱ء) میں شائع ہو چکا ہے، انہوں نے لکھا تھا کہ ان کی ولادت محرم الحرام ۱۳۳۶ھ میں ہوئی تھی۔ ان کی متعدد علمی وتحقیقی تصانیف ہیں جن سے اہل علم ایک عرصہ سے استفادہ کر رہے ہیں اور ان کی بعض تصانیف متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے سیرت نبوی کے سیاسی پہلوؤں اور اسلام کے اجتماعی نظام کے حوالے سے نمایاں علمی خدمات سرانجام دیں۔ رسول اکرمؐ کی سیاسی زندگی اور دور نبوت کے سیاسی وثائق کے حوالے سے ان کا علمی کام اہل علم کے لیے گراں قدر تحفہ ہے اور انہوں نے ’’صحیفہ ہمام بن منبہ‘‘ کی تلاش وتحقیق اور طباعت کا اہتمام کر کے منکرین حدیث کے اس اعتراض کا عملی جواب دیا کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں احادیث کی جمع وترتیب کا کام نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے پاکستان میں اسلامی قوانین کی ترتیب وتدوین کے حوالہ سے بھی مختلف اوقات میں خدمات سرانجام دیں۔ سیرت نبوی کے مختلف عنوانات پر بہاول پور اسلامی یونیورسٹی میں ان کے خطبات نے بہت مقبولیت حاصل کی جو ’’خطبات بہاول پور‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے ہیں اور ’’رسول اکرمؐ کی سیاسی زندگی‘‘ کے عنوان سے ان کی محققانہ تصنیف کو بھی اہل علم کے ہاں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ہر وسیع المطالعہ محقق کی طرح وہ بھی مختلف مسائل پر جداگانہ رائے رکھتے تھے اور ان کے تفردات کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے لیکن اپنی رائے پر اڑنے اور ہر حال میں اس کا دفاع کرنے کے بجائے وہ غلطی ظاہر ہونے پر اسے تسلیم کرتے تھے اور اپنی رائے سے رجوع میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

مغربی دانش وروں کی طرف سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیے جانے والے اعتراضات میں ایک یہ بھی ہے کہ جب قرآن کریم میں چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی صریحاً ممانعت آ گئی اور اس کے مطابق آنحضرتؐ نے متعدد صحابہ کرام کو، جن کی چار سے زیادہ بیویاں تھیں، حکم دیا کہ وہ زائد بیویوں کو الگ کر دیں تو خود آپؐ نے بیک وقت نو بیویاں کیوں رکھیں اور قرآنی ضابطہ کے مطابق ان میں سے چار سے زائد بیویوں کو الگ کیوں نہیں کردیا؟ اس کے جواب میں جمہور علما یہ کہتے ہیں کہ یہ حضورؐ کی خصوصیات میں سے ہے اور آپؐ کو اس کی خاص اجازت دی گئی تھی۔ اس کی بہت سی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ باقی صحابہ کرام نے چار سے زائد جن بیویوں کو اپنی زوجیت سے الگ کیا، ان کے تو دوسری جگہ نکاح ہو گئے اور وہ نئے گھرو ں میں آباد ہو گئیں لیکن جناب رسول اللہؐ کی ازواج مطہرات میں سے کسی کے ساتھ آنحضرتؐ کے بعد کسی امتی کا نکاح قرآن کریم کی رو سے جائز نہیں اس لیے اگر آپؐ بھی چار سے زیادہ بیویوں کو الگ کر دیتے تو وہ بے سہارا ہو جاتیں اور ان کا کوئی ٹھکانہ باقی نہ رہتا جو امت کی ماؤں کے حوالہ سے بہت سنگین بات ہوتی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرمؐ کو تمام بیویاں اپنے نکاح میں باقی رکھنے کی بطور خاص اجازت دے دی۔

مگر ڈاکٹر حمید اللہ نے ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد کے سہ ماہی عربی مجلہ ’’الدراسات الاسلامیۃ‘‘ کے محرم تا ربیع الاول ۱۴۱۰ھ کے شمارے میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں یہ موقف اختیار کیا کہ جناب رسول اللہؐ نے قرآن کریم کے مذکورہ حکم کے بعد حقوق زوجیت کے ساتھ تو صرف چار بیویوں کو باقی رکھا اور پانچ بیویوں کو ’’اعزازی بیویوں‘‘ کی حیثیت دے دی جو آپؐ کی بیویاں تو سمجھی جاتی تھیں مگر انہیں ’’حقوق زوجیت‘‘ حاصل نہیں تھے۔ اس طرح ڈاکٹر صاحب مرحوم نے مغربی دانش وروں کے اعتراض کا اپنے طور پر جواب دینے کی کوشش کی۔

ہم نے ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ میں اس پر گرفت کی اور اکتوبر ۹۰ء کے شمارے میں پروفیسر عبد الرحیم ریحانی کا مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے ڈاکٹر صاحب مرحوم کے اس موقف کی دلائل کے ساتھ تردید کی۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے اس کے جواب میں ہمیں مضمون بھجوایا جس میں انہوں نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے اس کے حق میں دلائل دیے۔ ہم نے وہ مضمون دسمبر ۱۹۹۰ء کے شمارے میں شائع کر دیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ ہمیں ڈاکٹر صاحب کے موقف اور دلائل پر اطمینان نہیں ہے اور ہم اس کا علمی وتحقیقی جواب دیں گے۔ اس دوران ماہنامہ’’صدائے اسلام‘‘ پشاور نے بھی ڈاکٹر صاحب کے موقف پر گرفت کی جس کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے ’’صدائے اسلام‘‘ کے مدیر محترم کے نام مکتوب میں اپنے موقف سے رجوع کر لیا اور فرمایا کہ میں نے صرف اہل مغرب کے ایک اعتراض کا جواب دینے کی کوشش کی تھی، اگر جمہور علماکو اس سے اتفاق نہیں ہے تو مجھے بھی اپنے موقف پر اصرار نہیں اور میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔ ہم نے ڈاکٹر صاحب مرحوم کا یہ مکتوب ’’صدائے اسلام‘‘ کے حوالے سے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے مارچ ۱۹۹۱ء کے شمارے میں شائع کیا اور ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی حق پرستی اور فراخ دلی کا اعتراف کرتے ہوئے اس بحث کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ تفردات ہر صاحب علم اور محقق کا حق ہے۔ جو بھی مطالعہ کرے گا، تحقیق کرے گا اور کسی مسئلہ پرمتنوع علمی مواد کو سامنے رکھ کر اپنی رائے قائم کرے گا، اس کی رائے کسی نہ کسی مسئلہ پر باقی علما سے مختلف ہو جائے گی۔ یہ فطری بات ہے البتہ اہل علم کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی انفرادی رائے کو دوسروں پرمسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور کسی مرحلہ پر اپنی رائے کی غلطی ان پر واضح ہو جائے تو وہ ا سے رجوع میں بھی کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے۔یہ بات محترم ڈاکٹر حمید اللہ صاحب میں بھی ہم نے دیکھی ہے جو ان کے خلوص، للہیت اور قبول حق کے جذبہ کی علامت ہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے عمر بھر علمی وتحقیقی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک دنیا نے ان سے استفادہ کیا ہے۔ ہم خود ان کے خوشہ چینوں اور ان کی تحقیقات سے استفادہ کرنے والوں میں شامل ہیں اس لیے مجھے ان کی وفات پر ذاتی طور پر یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میرے کسی شفیق استاذ کا انتقال ہو گیا ہے۔ ایک عالم، محقق، دانش ور اور صاحب فضل وکمال شخصیت کی موت پراپنے دلی جذبات کے اظہار کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

ڈاکٹر حمید اللہ کی وفات بلا شبہ پورے عالم اسلام کے لیے صدمہ کا باعث ہے اور علمی دنیا کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی علمی ودینی خدمات کو قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین