قومی سنی کنونشن: پس منظر، اہمیت اور تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء

شیعہ سنی تنازعہ کی تاریخ بہت پرانی ہے اور پاکستان میں بھی ایک عرصے سے ماتمی جلوسوں اور تقریبات کے حوالہ سے مختلف شہروں میں یہ تنازعہ خونریز فسادات کا باعث بنتا چلا آرہا ہے۔ لیکن پڑوسی ملک ایران میں کامیاب مذہبی انقلاب کے بعد اردگرد کے دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی شیعہ سنی تنازعہ مذہبی اختلاف کا لبادہ اتار کر اپنے اصل سیاسی روپ میں ظاہر ہو رہا ہے۔

ایرانی انقلاب کی مذہبی قیادت نے اپنے انقلاب کا دائرہ گرد و پیش کی مسلم ریاستوں تک وسیع کرنے کے لیے ان ریاستوں میں شیعہ اقلیتوں کو مسلح و منظم کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور اس پالیسی کا تسلسل جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ کویت، بحرین اور خلیج کی دیگر ریاستوں میں مداخلت کے علاوہ حرم پاک میں خونریز سیاسی مظاہروں اور سعودی عرب کے ایک علاقہ میں مسلح انقلاب کی ناکام کوشش اسی سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں۔ اور پاکستان میں فقہ جعفریہ کے نفاذ کی تحریک کے ذریعہ نفاذِ اسلام کو متنازعہ بنانے کی مہم کے علاوہ تعلیم، اوقاف اور زکوٰۃ میں الگ تشخص و امتیاز کے اظہار و قیام اور مسلح دہشت گردی کے ساتھ سنی اکثریت کو خوفزدہ کرنے کے لیے فرقہ وارانہ جارحیت کے ارتکاب کی روش بھی اسی جنون کا کرشمہ ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران جھنگ، لیہ، کوہاٹ، کراچی، اٹک، خیرپور ٹامیوالی، اگوکی ضلع سیالکوٹ، گولڑہ شریف، فیصل آباد اور دیگر مقامات میں ایک درجن سے زائد سنی مسلمان اس فرقہ وارانہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ کر جام شہادت نوش کر چکے ہیں، اور علماء اور دینی کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی مبینہ سازشوں کا مختلف حلقوں کی طرف سے انکشاف ہو رہا ہے۔ حتیٰ کہ علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ اور ان کے رفقاء کی المناک شہادت کے پس منظر میں بھی اس برآمد شدہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کا ذکر اب زیادہ سنجیدگی کے ساتھ ہونے لگا ہے۔

ملک کے حالات فرقہ وارانہ مسائل کو ابھارنے کے متحمل نہیں ہیں اور نہ ہی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی پالیسی اور روایات فرقہ وارانہ کشمکش کو ہوا دینے کے رجحان کی حامل رہی ہیں لیکن اہل سنت کے جائز حقوق کا تحفظ اور خونریز فرقہ وارانہ دہشت گردی کا سدباب بھی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے جس سے کسی صورت بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی مقصد کے لیے ۱۱ جنوری ۱۹۸۸ء کو شیرانوالہ گیٹ لاہور میں ’’قومی سنی کنونشن‘‘ طلب کیا گیا ہے جس کا مقصد اس نازک صورتحال میں اہل سنت کی آئندہ جدوجہد کا لائحہ عمل اور طریق کار طے کرنا ہے۔

ہمیں امید ہے کہ یہ اجتماع ملک و قوم کو اس درآمد شدہ فرقہ واریت سے نجات دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات اور سنجیدہ لائحہ عمل پر منتج ہوگا اور علماء حق اپنی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے دہشت گردی کے اس نئے فتنہ کا راستہ روکنے میں ضرور کامیاب ہوں گے، ان شاء اللہ العزیز۔