پنجاب یونیورسٹی کا ’’عذر لنگ‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۰۴ء

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن آف پاکستان نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی شہادۃ العالمیہ کی سند کو ایم اے عربی و اسلامیات کے برابر تسلیم کر رکھا ہے اور اس کی بنیاد پر ملک کی متعدد یونیورسٹیاں وفاق المدارس کے فضلاء کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سہولت دے رہی ہیں۔ جبکہ پنجاب یونیورسٹی شہادۃ العالمیہ کی بنیاد پر ایک سرٹیفیکیٹ جاری کرتی ہے کہ اس سند کے حامل کو تعلیمی مقاصد کے لیے ایم اے اسلامیات و عربی کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے، خود راقم الحروف نے اس سند کی بنیاد پر مذکورہ سرٹیفیکیٹ پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کر رکھا ہے۔ لیکن حال ہی میں مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے فاضل مولانا ابرار احمد طور نے جو وفاق المدارس العربیہ کے بھی فاضل ہیں اور وفاق کی سند ان کے پاس موجود ہے پنجاب یونیورسٹی کو اس سرٹیفیکیٹ کے لیے درخواست دی تو پنجاب یونیورسٹی نے سرٹیفیکیٹ دینے سے انکار کر دیا ہے اور تحریری جواب میں کہا ہے کہ چونکہ مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کا نام منظور شدہ مدارس کی فہرست میں نہیں ہے اس لیے محض وفاق المدارس کی سند کی بنیاد پر یہ سرٹیفیکیٹ نہیں دیا جا سکتا اور وفاق المدارس کی سند پر صرف ان فضلاء کو سرٹیفیکیٹ دیا جائے گا جو اس کے ہیڈکوارٹر شیر شاہ روڈ ملتان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ حالانکہ وفاق المدارس العربیہ کسی مدرسہ کا نام نہیں بلکہ ایک بورڈ ہے جس کے ساتھ ہزاروں مدارس ملحق ہیں، انہی مدارس کے طلبہ کا امتحان لے کر وفاق اسناد جاری کرتا ہے اور وفاق کے ہیڈکوارٹر میں اس کا اپنا کوئی تعلیمی سسٹم موجود نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی نے اس بہانے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے فضلاء کو سرے سے مذکورہ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا سلسلہ موقوف کر دیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے اس جواب کے بارے میں ہم نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت سے رابطہ کر لیا ہے اور وہی اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت کریں گے البتہ اتنی بات ہم پنجاب یونیورسٹی کے ارباب حل و عقد سے ضرور عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا یہ ’’عذر لنگ‘‘فہم و دانش کی دنیا میں قابل قبول نہیں ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے پنجاب یونیورسٹی صوبہ بھر کے انٹرمیڈیٹ بورڈز کی اسناد کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے اور یہ موقف اختیار کرے کہ صرف ان طلبہ کی سند تسلیم کی جائے گی جنہوں نے ان بورڈز کے ہیڈ کوارٹرز میں براہ راست تعلیم حاصل کی ہے اور ان سے ملحقہ کسی سکول کی سند کو قبول نہیں کیا جائے گا۔پنجاب یونیورسٹی کے کارپردازوں کا رویہ شروع سے ہی دینی مدارس کے بارے میں اسی طرز کے تعصب پر مبنی چلا آرہا ہے جس کا اظہار وقفہ وقفہ سے ہوتا رہتا ہے مگر ہماری استدعا ہے کہ اس تعصب کے اظہار میں کم از کم فہم ودانش کا دامن تو ہاتھ سے نہ چھوڑ دیا جائے کہ یہ بہرحال پنجاب یونیورسٹی کے شایان شان نہیں ہے۔