علامہ اقبالؒ کے نام پر گمراہ کن خیالات پیش کیے جا رہے ہیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ جنوری ۱۹۸۸ء

مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے بارے میں سردار محمد عبد القیوم خان کی ناروے کی تقریر کے حوالہ سے جو باتیں منظر عام پر آئی ہیں وہ غیر محتاط ضرور ہیں لیکن یہ سب کچھ علامہ اقبالؒ کے بعض نادان دوستوں کی اس نئی مہم کا فطری ردعمل ہے جو انہوں نے اقبالؒ کو پیغمبر اور فکر اقبالؒ کو وحی کے طور پر پیش کرنے کی صورت میں شروع کر رکھی ہے۔ ہم سردار عبد القیوم خانؒ کے اندازِ بیان سے متفق نہیں ہیں لیکن یہ ضرور عرض کریں گے کہ ڈاکٹر جاوید اقبال اور ڈاکٹر یوسف گرایہ کے ساتھ ساتھ روزنامہ جنگ اور روزنامہ نوائے وقت نے علامہ اقبالؒ کو جس روپ میں پیش کرنے کی مہم کچھ عرصہ سے چلا رکھی ہے وہ بلاشبہ ایک گمراہ کرنے والے مفکر کا روپ ہے جس پر صرف اقبالؒ کے ساتھ عقیدت کے پردہ میں خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

جب علامہ اقبالؒ کی زبان سے یہ کہلوایا جائے گا کہ اسلام کے تصور آخرت و قیامت کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے اور قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح میں صحابہ کرامؓ کے متفقہ فیصلوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے تو پھر کسی کو اس خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ محض اقبال کے ساتھ عقیدت کے پردے میں ان گمراہ کن خیالات کو برداشت کر لیا جائے گا۔ علامہ محمد اقبالؒ کو ملت اسلامیہ میں بیداری کی روح پھونکنے والے انقلابی شاعر اور مفکر پاکستان کی حیثیت سے تمام طبقوں میں احترام و عقیدت کا مقام حاصل ہے۔ اور اس احترام و عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ ڈاکٹر جاوید اقبال اور ان کے رفقاء نئی نظریاتی بحثوں میں علامہ اقبالؒ کو فریق نہ بنائیں بلکہ اپنے افکار و خیالات کو خود اپنے حوالہ سے پیش کر کے منطق و استدلال کے ساتھ مخالفین کا سامنا کریں۔

ملت اسلامیہ کے اجماعی عقائد سے انحراف پر مشتمل خیالات کو علامہ محمد اقبالؒ کے نام پر پیش کر کے اقبالؒ کی عقیدت کے زور پر اسے منوانے کی کوشش نہ صرف اس عقیدت کا استحصال ہے بلکہ راسخ العقیدہ مسلمانوں کو اقبالؒ سے دور کرنے کی سازش ہے۔ اس لیے ہم بڑے ادب سے گزارش کریں گے کہ علامہ اقبالؒ کی شخصیت کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جائے۔

اس نئی مہم میں روزنامہ جنگ اور روزنامہ نوائے وقت بھی پوری طرح شریک ہیں لیکن ان میں یہ اخلاقی جرأت نہیں ہے کہ وہ مخالفین کے نقطۂ نظر کو اپنے صفحات میں مناسب جگہ دے کر انصاف کے تقاضوں کو پورا کر سکیں۔ ہم اپنے اس موقف پر کسی بھی پلیٹ فارم پر بحث و گفتگو کے لیے تیار ہیں کہ ڈاکٹر جاوید اقبال اور ڈاکٹر یوسف گورایہ علامہ اقبالؒ کو ایک گمراہ مفکر کے روپ میں پیش کر کے ان کے ساتھ عوام کی عقیدت کو مجروح کر رہے ہیں۔