تین معاصر بزرگوں کے تصنیفی کارنامے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ نومبر ۲۰۱۵ء

شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے جنازے پر حاضری نہیں ہو سکی تھی اس لیے 14 نومبر کو مرکز حافظ الحدیث درخواستیؒ ، حسن ابدال میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس اور سیرت کانفرنس کے بعد میں مولانا عبد القیوم حقانی کے ساتھ اکوڑہ خٹک چلا گیا۔ حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ کے گھر کے ساتھ ان کی تعمیر کردہ مسجد میں نماز مغرب ادا کرنے کے بعد ان کے فرزندان، دیگر اہل خاندان اور مسجد کے نمازیوں سے تعزیت کی۔حضرت مرحوم کی قبر پر حاضری اور دعائے مغفرت کی سعادت حاصل کی اور اس کے بعد دارالعلوم حقانیہ حاضر ہوا۔ حضرت مرحوم کا اصل خاندان تو دارالعلوم حقانیہ ہی ہے اور تعزیت کا سب سے زیادہ مستحق بھی وہی ہے کہ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا مادر علمی ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی بھر ان کی تدریسی و تحریکی سرگرمیوں کی جولانگاہ رہا ہے۔ حضرت مولانا سمیع الحق سے ملاقات بلکہ طویل نشست ہوئی، حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کی وفات پر تعزیت اور دعائے مغفرت کے علاوہ متعدد ملکی و قومی مسائل پر تبادلۂ خیالات ہوا اور مولانا سمیع الحق کی تصنیفی سرگرمیوں اور مساعی سے آگاہی حاصل کی۔

میں نے اس موقع پر عرض کیا کہ اپنے تین معاصر بزرگوں کی محنت دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے بلکہ رشک ہوتا ہے کہ وہ تحریری محاذ پر مستند معلومات اور تاریخ کا ایک بڑا ذخیرہ مرتب کر کے نئی نسل کے حوالے کر رہے ہیں جو بلاشبہ ملک و ملت پر احسان کی حیثیت رکھتا ہے۔

مولانا سمیع الحق

مولانا سمیع الحق نے جہاد افغانستان اور پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے حوالہ سے دستاویزات، خطوط اور خطبات کا خاصا بڑا ذخیرہ محفوظ کر رکھا ہے جو کئی جلدوں پر مشتمل ضخیم کتابوں کی صورت میں سامنے آیا ہے اور حال ہی میں مشاہیر کے خطوط و مکتوبات کئی جلدوں میں شائع ہوئے ہیں۔ مولانا نے بتایا کہ وہ ان دنوں دو موضوعات پر کام کر رہے ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے شیرانوالہ لاہور میں دورہ تفسیر پڑھا تھا، وہ اور مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ اکٹھے تھے، دونوں نے حضرت لاہوریؒ کے تفسیری افادات قلمبند کیے تھے۔ ان کے ساتھ کچھ دیگر تلامذہ کی تحریری کاپیاں بھی انہوں نے حاصل کی ہیں جنہیں سامنے رکھ کر وہ حضرت لاہوریؒ کے تفسیری افادات قلمبند کر رہے ہیں اور تقریباً دس پاروں پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ دوسرا یہ کہ جنرل محمد ضیاء الحق شہیدؒ کے دور میں ان کی قائم کردہ وفاقی مجلس شوریٰ نے نفاذ اسلام کے سلسلہ میں جو اقدامات کیے تھے اور انہیں بعد میں منتخب پارلیمنٹ نے اپنی توثیق کے ساتھ ملک کے دستور و قانون کا حصہ بنا دیا تھا، مولانا موصوف اس کی تفصیلات اور متعلقہ دستاویزات و مباحث جمع کر رہے ہیں اور انہیں مرتب کتابی شکل دے رہے ہیں۔ جو کہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کا علمی و تاریخی ریکارڈ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی مسلمان ملک میں نفاذ اسلام کی علمی و فکری بنیاد بن سکتا ہے۔ میں نے مولانا سمیع الحق سے عرض کیا کہ یہ آپ کی ہمت ہے کہ بڑھاپے اور علالت کی اس کیفیت میں بھی اتنا وقیع کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے عزم و ہمت میں اضافہ فرمائیں اور امت کو ان کے وجود و مساعی سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب کریں، آمین یا رب العالمین۔

مولانا اللہ وسایا

اس حوالہ سے دوسری قابل رشک شخصیت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا کی ہے جنہوں نے اپنی دیگر علمی و تحقیقی خدمات کے ساتھ ساتھ گزشتہ ڈیڑھ سو برس کے دوران قادیانیوں کے بارے میں مختلف مکاتب فکر کے تین سو سے زائد اصحاب قلم کی نگارشات کو ’’احتساب قادیانیت‘‘ کے نام سے ساٹھ جلدوں میں مرتب کر کے اتنے بڑے علمی و تحقیقی ذخیرہ تک علماء و طلبہ کو رسائی دینے کے علاوہ اسے تاریخ میں محفوظ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور صحت و سلامتی کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

مولانا عبد القیوم حقانی

اس سلسلہ کے تیسرے بزرگ مولانا عبد القیوم حقانی ہیں جن کی محنت کا دائرہ اکابر اور بزرگ شخصیات ہیں۔ وہ ان کی سوانح اور افادات کو مختلف حوالوں سے جمع کرتے ہیں اور ماہنامہ ’’القاسم‘‘ کی خصوصی اشاعتوں اور مستقل کتابوں کی صورت میں پیش کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں حضرت مولانا قاضی عبد الکریمؒ آف کلاچی کی حیات و خدمات اور افادات پر مولانا حقانی کی تصنیف آئی ہے جو اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ڈاکٹر شیر علی شاہؒ پر آپ کی کتاب کب آرہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس پر پہلا حق ماہنامہ ’’الحق‘‘ کا ہے اور اس کے ضخیم نمبر کی تیاری ہو رہی ہے۔

مجلس احرار کی طویل تاریخ کے بارے میں الحاج مرزا غلام نبی جانباز رحمہ اللہ تعالیٰ نے آٹھ جلدوں پر مشتمل ’’کاروان احرار‘‘ مرتب کر کے اس قافلہ حریت سے نئی نسل کو روشناس کرایا تھا۔ جبکہ ہمارے یہ تین بزرگ دوست مولانا سمیع الحق، مولانا اللہ وسایا، اور مولانا عبد القیوم حقانی بھی اسی نوعیت کی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں اور ہمارے جیسے ناکارہ لوگوں کی دعاؤں کا بڑا حصہ سمیٹ لیتے ہیں۔ حضرت مولانا سمیع الحق سے ملاقات کے بعد میں نے رات مولانا عبد القیوم حقانی کے مدرسہ جامعہ ابوہریرہؓ میں گزاری، اساتذہ و طلبہ کی ایک نشست میں چند معروضات پیش کیں، اور صبح نماز فجر کے بعد اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگیا جہاں مجھے بحریہ ٹاؤن کے سفاری کلب میں تنظیم اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ’’انسدادِ سود کنونشن‘‘ میں شریک ہونا تھا۔ میرے دورۂ حدیث کے ایک ساتھی مولانا سراجدین ان دنوں عسکری سیون راولپنڈی میں اپنے فرزند حافظ خالد محمود کے پاس رہتے ہیں جو وہاں کی جامع مسجد کے خطیب ہیں۔ صبح کا ناشتہ ان کے ساتھ کیا جس سے ان کی بیمار پرسی کا موقع ملا، اللہ تعالیٰ انہیں صحت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔