مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ۔ الشریعہ اکادمی میں فکری نشستیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ جنوری ۲۰۱۳ء

گزشتہ دو روز یعنی اتوار اور پیر کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مسلسل دو نشستیں ہوئیں، پہلی نشست حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی یاد میں تھی جبکہ دوسری نشست حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ کی وفات پر تعزیتی ریفرنس کے طور پر منعقد ہوئی، ہمارے ہاں اس سال ماہانہ فکری نشستوں کے لیے یہ عنوان طے ہوا ہے کہ اکابر علماء دیوبند کی شخصیات کے حوالہ سے تعارفی پروگراموں کا اہتمام کیا جائے، مگر اس کے آغازمیں بوجوہ تاخیر ہوتی گئی اور ۲۹ دسمبر کو یہ سلسلہ شروع کیا جا سکا۔ گزشتہ سال ان نشستوں کا عنوان برصغیر کی تحریکات تھا جن میں حضرت مجدد الف ثانیؒ ، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ ، شہدائے بالاکوٹ اور ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بارے میں گفتگو ہوتی رہی، راقم الحروف ان نشستوں میں اپنے مطالعہ اور تاثرات کا ماحصل اختصار کے ساتھ پیش کرتا ہے اور الشریعہ اکادمی کے طلبہ کے علاوہ شہر کے دیگر اصحابِ ذوق بھی ان میں شریک ہوتے ہیں۔

پہلی نشست میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے تذکرہ سے اس پروگرام کا آغاز ہوا ہے جبکہ اگلی نشست ۲۷ جنوری اتوار کو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی خدمات کے عنوان پر ہوگی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی شخصیت اور خدمات پر کی جانے والی گفتگو کا مختصر خلاصہ درج ذیل ہے۔

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا تعلق نانوتہ میں مقیم صدیقی خاندان سے تھا، انہوں نے خود اپنا نسب نامہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق وہ حضرت قاسم بن محمدؒ کی اولاد میں سے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پوتے تھے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نہ صرف بھتیجے تھے بلکہ ان کے علوم و فیوض کے ورثاء میں ان کا نام سرفہرست شمار ہوتا ہے اور وہ تابعینؒ کے دور کے سات بڑے فقہاء کرام میں شامل ہیں۔ حضرت نانوتویؒ ایک زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے لیکن قدرت نے ان کی راہ نمائی دینی تعلیم کی طرف کی اور اپنے وقت کے اکابر علماء کرام و مشائخ مولانا شاہ عبد الغنیؒ ، مولانا مملوک علی نانوتویؒ ، مولانا احمد علی سہارنپوریؒ اور حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ جیسے بزرگوں سے فیض پا کر وہ خود بھی اپنے دور کے اکابر علماء کرام میں شمار ہوئے۔ انہوں نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شاملی کے محاذ پر عملی حصہ لیا۔ ارتداد کے فتنوں کا مقابلہ کرکے پنڈت دیانند سرسوتی جیسے مناظرین کو میدان میں شکست دی۔ میلہ خدا شناسی کے نام پر منعقد ہونے والے مختلف مذاہب کے سرکردہ علماء کرام اور متکلمین کے مشترکہ اجتماع میں اسلام کی حقانیت پر معرکۃ الآراء خطاب کے ذریعہ اسلام کی حقانیت کا لوہا منوایا، وہ اپنے دور میں اسلام کے سب سے بڑے متکلم تھے اور وقت کے اسلوب کے مطابق اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے میں ان کو کمال حاصل تھا، لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ دارالعلوم دیوبند کا قیام سمجھا جاتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ برطانوی حکومت نے براہ راست متحدہ ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کی اور دفتری، عدالتی اور تعلیمی نظام یکسر تبدیل کر کے درس نظامی کے مدارس کو نہ صرف بند کر دیا بلکہ اس کے جاری رہنے کے سارے ظاہری امکانات کو ختم کر کے رکھ دیا، ہزاروں مدارس بند کر دیے گئے، ان کی جائیدادیں ضبط ہوگئیں، بہت سے مدارس بلڈوز ہوگئے، علماء کرام کی بڑی تعداد آزادی کی جنگ میں حصہ لینے کی پاداش میں شہید کر دی گئی، بے شمار علماء کرام گرفتار ہوگئے، مقدمات اور داروگیر کے وسیع سلسلہ نے علماء کرام اور دینی کارکنوں پر خوف و ہراس کی کیفیت طاری کر دی اور بظاہر اس کا کوئی امکان باقی نہ رہا کہ قرآن کریم، حدیث، فقہ، عربی زبان، فارسی اور دیگر دینی علوم کی تدریس و تعلیم کا کوئی سلسلہ یہاں باقی رہ سکے گا، اس ماحول میں دینی تعلیم کا سلسلہ از سرِ نو جاری کرنے اور مسلمانوں کی مدارس و مساجد کو آباد رکھنے کے لیے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اپنے دیگر رفقاء حاجی عابد حسینؒ ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ، مولانا ذوالفقار علی دیوبندیؒ اور دوسرے حضرات کی معاونت سے دیوبند کے قصبہ میں دینی مدرسہ کا آغاز کیا جس کی برکات سے آج پوری دنیا فیض یاب ہو رہی ہے۔ ایک گمنام سے قصبہ میں ۱۸۶۵ء میں شروع ہونے والے اس مدرسہ کی شاخیں پورے عالم میں اس طرح پھیلیں کہ آج دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں اس شجر کے گھنے سائے اور متنوع پھل سے مسلمان فیض یاب نہ ہو رہے ہوں جبکہ عالمی استعمار فکری و تہذیبی دنیا میں دیوبند کو اپنا سب سے بڑا حریف اور اپنی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دینے پر مجبور ہے۔

مولانا نانوتویؒ کا تذکرہ اس مختصر گفتگو میں سمیٹنا ممکن نہیں ہے، صرف یہ توجہ دلانا مقصود ہے کہ جن بزرگوں کا ہم مسلسل نام لیتے ہیں، جن کی طرف نسبت کو ہم اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں اور جن کا تذکرہ کر کے ہم تاریخ میں عزت اور مقام حاصل کرتے ہیں، ان کی جدوجہد، خدمات اور مشن سے ہمیں واقف ضرور ہونا چاہیے تاکہ ان کے نقش قدم پر ہم صحیح طور پر چل سکیں۔

۳۱ دسمبر کو ہمارے ہاں حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ کی وفات حسرت آیات پر تعزیتی ریفرنس کے طور پر ایک نشست ہوئی جس میں شہر کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی مہمان خصوصی تھے اور انہوں نے حضرت تونسویؒ کی خدمات اور جدوجہد پر تفصیلی خطاب کیا، ابتداء میں راقم الحروف نے اپنی گزارشات میں یہ عرض کیا کہ اہل سنت کے عقائد و مذہب اور ناموس صحابہؓ کے تحفظ و دفاع کے لیے حضرت مجدد الف ثانیؒ ، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی علمی جدوجہد کو امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ نے جو منظم شکل دی تھی اور اس کے لیے ایک پورا تربیتی نظام قائم کیا تھا پاکستان میں اس کے امین مولانا عبد الستار تونسویؒ ، مولانا دوست محمد قریشیؒ ، مولانا سید نور الحسن بخاریؒ ، مولانا قائم الدین عباسیؒ ، مولانا قاضی مظہر حسینؒ ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ ، مولانا عبد الحئی جام پوریؒ اور ان کے رفقاء تھے جنہوں نے اپنے اکابر کے طرز اور اسلوب کے مطابق مذہب اہل سنت کی خدمت اور عقائد اہل سنت کے فروغ کے محاذ کو قائم رکھا۔ آج مولانا عبد الستار تونسویؒ کی وفات سے تاریخ کا وہ باب مکمل ہوگیا ہے جبکہ آج اسی اسلوب اور طرز کو از سرِ نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا عبد الرؤف فاروقی نے مذہب اہل سنت کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور اس کے پس منظر میں حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ اور ان کے رفقاء کی جدوجہد کی اہمیت کو واضح کیا، انہوں نے کہا کہ مولانا تونسویؒ اپنے وقت میں اس فن کے امام تھے اور انہوں نے ہزاروں علماء کرام کو اس مشن کے لیے تیار کیا، انہوں نے کہا کہ آج ہمارے مدارس کے طلبہ کی غالب اکثریت کو مذہب اہل سنت کی علمی و فکری بنیادوں اور اپنے اکابر کے طرز و اسلوب سے شناسائی حاصل نہیں ہے اس لیے ضرورت ہے کہ مدارس دینیہ میں حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کی طرز پر کام کیا جائے اور علماء و طلبہ کو علمی اور تحقیقی طور پر اس کے لیے تیار کیا جائے۔

تعزیتی نشست میں حضرت علامہ عبد الستار تونسویؒ کی وفات کو علمی و دینی حلقوں کے لیے ایک عظیم المیہ اور نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی مغفرت و بلندئ درجات کے لیے دعا کی گئی۔