جعلی ڈگریاں، معاشرتی ناسور

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۱۰ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کی پڑتال اور جعلی ڈگریوں کی نشاندہی کا سلسلہ جاری ہے جس پر ملک کی سیاست میں ایک بھونچال کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔ جعلی ڈگریوں کا یہ معاملہ صرف اسمبلیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر قومی شعبوں میں بھی اس کے اثرات نظر آرہے ہیں اور مختلف اداروں میں جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازموں کی برخواستگی کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔

پاکستان بننے کے بعد ملک کے حکمرانوں کی دینی اور دستوری ذمہ داری تھی کہ وہ نو آبادیاتی دور کے معاشرتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے اور اسے قرآن و سنت کے فطری اصولوں کی بنیاد پر از سر نو ڈھالنے کے عمل کا آغاز کرتے جس کا پاکستان کے قیام کے مقصد کے طور پر بانیان پاکستان کی طرف سے واضح اعلان کیا گیا تھا۔ لیکن ہمارے حکمران طبقات اور گروہوں نے اس طرف قدم بڑھانے کی بجائے نو آبادیاتی معاشرتی ڈھانچے کے ساتھ وابستگی اور عالمی استعمار کے ساتھ وفاداری برقرار رکھنے کو ترجیح دی اور وقتی مفادات اور عیش و عشرت کو فوقیت دینے کی پالیسی اختیار کی۔ جس کی وجہ سے شخصی، گروہی اور طبقاتی مفادات کے حصول نے ہر سطح پر معاشرتی مقصد کی حیثیت حاصل کر لی اور اسی مفاد پرستی کی کوکھ سے اس کرپشن نے جنم لیا جس کا رونا آج سپریم کورٹ سمیت ملک کا ہر ادارہ رو رہا ہے اور اس سے نجات کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔

ہمارے نزدیک اس قومی کرپشن اور معاشرتی بدعنوانی سے نجات کا راستہ وہی ہے جس کا ذکر ہمارے چیف جسٹس محترم جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک کیس کی سماعت کے دوران کیا تھا کہ ہمیں اس کے لیے حضرت عمر فاروق اعظمؓ کے طرز حکومت اور طرز انتظام کی طرف رجوع کرنا ہو گا، خدا کرے کہ یہ بات ہمارے حکمرانوں کو بھی سمجھ آجائے، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: