حضرت الامیر کے انقلابی اعلانات اور ہماری ذمہ داریاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ مئی ۱۹۷۹ء

حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم نے یکم مئی کی محنت کش کانفرنسوں، جماعتی انتخابات کے نظام الاوقات میں تبدیلی اور ستمبر کے آخر میں کل پاکستان نظام مصطفٰی کانفرنس کے بارے میں جو انقلابی اعلانات فرمائے ہیں وہ اخبارات میں آپ حضرات پڑھ چکے ہوں گے، اس سلسلہ میں ملک بھر کے جماعتی احباب اور شاخوں سے گزارش ہے کہ وہ ان اعلانات کی اہمیت کے پیش نظر ان پر عملدرآمد کی طرف خصوصی توجہ دیں اور مندرجہ ذیل گزارشات کا بطور خاص خیال رکھیں۔

محنت کش کانفرنسیں

یکم مئی محنت کشوں کا عالمی دن ہے جو شکاگو میں اپنے حقوق کی خاطر جدوجہد کرنے والے مزدوروں پر فائرنگ کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی یاد میں منایا جاتا ہے، اس روز پوری دنیا میں مزدور اپنے حقوق کی خاطر جلوس نکالتے ہیں اور اجتماعات منعقد کرتے ہیں۔ ہمیں ’’یوم‘‘ منانے سے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں لیکن محنت کشوں کے مسائل اور حقوق کے بارے میں ہمارے اکابر نے ہمیشہ واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا ہے، اسلام نے دنیا کے تمام مذاہب اور نظاموں سے زیادہ محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے اور کوئی مذہب یا نظام اس معاملہ میں اسلام کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

برصغیر میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں محنت کشوں کے حقوق و مفادات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور آج دنیا میں محنت کشوں کے بڑے سے بڑے ہمدرد بھی محنت کشوں کے حقوق پر اس قدر واضح موقف اختیار نہیں کر سکے۔ ولی اللہ تحریک کے قائدین نے ہر دور میں جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی کھل کر مخالفت کی ہے اور مزدوروں، کسانوں اور دیگر محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سے دس سال قبل جب پاکستان میں جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ نظام کے ستائے ہوئے مظلوم عوام کے ردعمل کو بعض ناعاقبت اندیش جماعتوں نے کفر اور اسلام کا معرکہ بنانے کی کوشش کی اور کچھ علماء نے فتویٰ بھی صادر فرما دیا، ولی اللہی تحریک کی نمائندہ ’’جمعیۃ علماء اسلام‘‘ نے اس معرکہ میں فریق بننے اور اسے اسلام اور کفر کا معرکہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

آج جب ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا عمل شروع ہو چکا ہے یہ بات زیادہ ضروری ہے کہ محنت کش طبقہ کو بھی اس معاملہ میں اعتماد میں لیا جائے اور اسے محنت کشوں کے حقوق کے بارے میں اسلامی تعلیمات اور اسلام میں دی گئی ضمانتوں سے روشناس کرایا جائے تاکہ اسلامی نظام کا نفاذ ہمہ گیر اور مکمل ہو اور مزدوروں اور کسانوں کے نام نہاد ہمدردوں کو اس مظلوم طبقہ کا ذہنی استحصال کرنے کی گنجائش نہ مل سکے۔ حضرت الامیر مدظلہ نے اسی لیے جماعتی کارکنوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ یکم مئی کو محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر مختلف اجتماعات میں محنت کشوں کے حقوق اور اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالی جائے اور بڑے شہروں میں اس مقصد کے لیے ’’محنت کش کانفرنسوں‘‘ کا اہتمام کیا جائے۔

جماعتی انتخابات کے نظام میں تبدیلی

حضرت الامیر مدظلہ نے ایک خصوصی حکم کے تحت جمعیۃ علماء اسلام کی رکن سازی اور انتخابات کے نظام الاوقات میں ترمیم فرما دی ہے جس کے مطابق اب اس کا شیڈول اس طرح ہوگا:

  • جمادی الاخریٰ کے آخر تک ابتدائی انتخابات اور باقی ماندہ رکن سازی۔
  • رجب اور شعبان میں ضلعی انتخابات۔
  • شوال کے پہلے عشرہ میں صوبائی انتخابات۔
  • شوال کے آخری عشرہ میں مرکزی انتخابات۔

تمام جماعتی احباب اور رکن سازی کا کام کرنے والے دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اس گنجائش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رکن سازی کا کام مکمل کر لیں اور رکن سازی کا دائرہ زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کی کوشش کریں۔

کل پاکستان نظام مصطفٰی کانفرنس

حضرت الامیر مدظلہ کے اعلان کے مطابق مرکزی انتخابات کے موقع پر لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام کے زیر اہتمام دو روزہ کل پاکستان نظام مصطفٰی کانفرنس منعقد ہوگی، ان شاء اللہ تعالٰی۔ جس کے انتظامات کے لیے حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ کی سربراہی میں مجلس استقبالیہ قائم کر دی گئی ہے۔ مجلس استقبالیہ کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد اجمل خان، سیکرٹری اطلاعات زاہد الراشدی (راقم الحروف)، سیکرٹری مالیات جناب عبد الحمید بٹ اور آفس سیکرٹری مولانا غلام اکبر سلیمانی ہوں گے، باقی ارکان اور کمیٹیوں کے ناموں کا اعلان جلد کر دیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔

اس کانفرنس کی آخری نشست پاکستان قومی اتحاد کے لیے مخصوص کی گئی ہے جس میں قومی اتحاد کے مرکزی قائدین کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کو بھی خطاب کی دعوت دی جائے گی۔

اکتوبر ۱۹۷۵ء کے دوران گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والے کل پاکستان نظام شریعت کنونشن کے بعد ملک گیر سطح پر جماعتی کارکنوں کا یہ سب سے پہلا اجتماع ہوگا اور ان شاء اللہ تعالیٰ جمعیۃ کی روایات کے مطابق یہ کانفرنس تاریخ ساز ثابت ہوگی۔ تمام جماعتی احباب سے گزارش ہے کہ ابھی سے کانفرنس کی تیاریاں شروع کر دیں۔ مجلس استقبالیہ کی تشکیل کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد بہت جلد اس سلسلہ میں ان شاء اللہ تعالٰی ہدایات جاری کی جائیں گی، ان ہدایات کی روشنی میں کانفرنس کی بھرپور تیاریاں کی جائیں اور جمعیۃ کی شاندار روایات کے مطابق پورے جوش و خروش اور نظم و ضبط کے ساتھ اس عظیم الشان کانفرنس کو کامیاب بنایا جائے۔