سرکردہ علماء کرام کے ساتھ آرمی چیف کی ایک خوشگوار نشست

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳ اپریل ۲۰۱۹ء

چیف آف آرمی اسٹاف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ گزشتہ روز زندگی میں دوسری ملاقات کا موقع ملا، پہلی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب انہوں نے سپہ سالار کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے آبائی شہر گکھڑ ضلع گوجرانوالہ کے سرکردہ شہریوں کے ساتھ گوجرانوالہ کینٹ میں اجتماعی نشست کی تو میں بھی اس میں شامل تھا اور اس کے تاثرات اسی کالم میں عرض کر دیے تھے کہ صاف گو اور بے تکلف آدمی ہیں اور بات کہنے کے ساتھ ساتھ سننے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ اب ایک روز قبل یکم اپریل کو انہوں نے راولپنڈی کینٹ میں ملک کے مختلف مکاتب فکر کے معروف علماء کرام کے ساتھ محفل جمائی تو میں بھی اس میں شریک ہوا جس سے سابقہ تاثرات مزید پختہ ہونے کے علاوہ اس احساس کا اضافہ ہوا کہ گفتگو کی طوالت سے اکتانے کی بجائے اسے انجوائے کرنے کے ذوق سے بہرہ ور ہیں اور گھل مل جانے میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے۔

چار پانچ گھنٹے کی طویل ملاقات میں ملک بھر سے سرکردہ علماء کرام کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ دینی مدارس کے نظام میں مجوزہ اصلاحات موضوع بحث تھا۔ مدارس دینیہ کے وفاقوں کی قیادت مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا مفتی منیب الرحمان، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، پروفیسر ساجد میر، مولانا مفتی عبد الرحیم، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، مولانا قاضی نیاز حسین نقوی، مولانا محمد یاسین ظفر اور مولانا عبد المالک خان کی صورت میں محفل کی رونق تھی، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری اور بہت سے دیگر سرکردہ دینی راہنما بھی شریک گفتگو تھے جن کے ناموں کا تذکرہ کالم کی طوالت کا باعث بن سکتا ہے۔ آرمی چیف کے ساتھ ان کے رفقاء کار کے طور پر متعدد آرمی افسران ان کے معاون تھے اور اس طرح یہ نشست ملک کی تاریخ کی ایک ایسی منفرد محفل بن گئی جس کی کوئی مثال اس سے قبل کم از کم میرے علم میں نہیں ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے قومی و ملکی مسائل کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کی اہمیت و ضرورت، ان کے کردار کی افادیت و اثرات اور ان سے قومی حوالہ سے مستقبل کی توقعات کے حوالہ سے اس قدر تفصیل کے ساتھ بات کی کہ گویا اپنا دل سب کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ ہمیں اپنے اس سطح کے بڑوں سے ہمیشہ یہ شکوہ رہا ہے کہ ان کی گفتگو کی بنیاد ذاتی ادراک و مشاہدہ اور مطالعہ و تحقیق کی بجائے عام طور پر ماتحت اداروں کی رپورٹوں پر ہوتی ہے جس سے وہ رسمی سی بات چیت بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسی باتوں کا جواب بھی اسی طرح رسمی ہوتا ہے اور یوں اس سطح کی ملاقاتیں باہمی اعتماد و تعلق میں اضافہ اور افادیت کو اجاگر کرنے کا ذریعہ نہیں بنتیں بلکہ ’’روٹین ورک‘‘ کی صورت میں فائلوں میں گم ہو جاتی ہیں۔ اگر ایسی فائلوں کی گرد جھاڑ کر ان پر دوبارہ ایک نظر ڈالنے کا موقع نکل سکے تو گزشتہ سات عشروں کے دوران ایسی بیسیوں ملاقاتوں کی رپورٹیں اچھے خاصے باخبر لوگوں کو بھی حیران کر دینے کے لیے کافی ہوں گی۔ شہری سطح سے لے کر قومی سطح کی ایسی بہت سی محافل کا میں بھی گزشتہ نصف صدی کے دوران حصہ رہا ہوں اس لیے اب ایسے کسی مسئلہ پر گفتگو کرنے یا سننے کی نوبت آتی ہے تو ماضی کی کوئی نہ کوئی یاد بے ساختہ نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے کہ یہ باتیں تو ہم نے فلاں موقع پر بھی کی تھیں اور اس قسم کے فیصلے تو پہلے بھی فلاں فلاں مواقع پر کیے جا چکے ہیں۔

جبکہ گزشتہ شب کی مذکورہ نشست کا ماحول مجھے اس سے بالکل مختلف لگا۔ بلکہ محفل میں شریک ایک سرکردہ شخصیت نے باقاعدہ یہ تقاضہ ہاؤس کے سامنے رکھ دیا کہ اس نشست کی کارروائی کی ضروری تفصیلات بالخصوص آرمی چیف کی گفتگو کے اہم نکات کو اہتمام کے ساتھ مرتب ہو کر قومی پریس کے ریکارڈ کا حصہ بننا چاہیے۔ وہ بزرگ اگر یہ تقاضہ نہ کرتے تو میں خود اس تجویز کو تحریری صورت میں پیش کرنے کا ارادہ کر چکا تھا۔ مگر سوال چونکہ ہاؤس میں ہو چکا ہے اس لیے بہت سی تفصیلات ذہن میں محفوظ ہونے کے باوجود انہیں اس کالم کا حصہ نہیں بنا رہا اور چاہتا ہوں کہ یہ تفصیلات باضابطہ طور پر چیف آف آرمی اسٹاف کے آفس کی طرف سے سامنے آئیں تاکہ ان سے صحیح طور پر استفادہ کیا جا سکے اور انہیں مستقبل کے قومی ماحول کی نقشہ گری میں شامل کیا جا سکے۔

مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات سے ہوئی کہ آرمی چیف اور ان کے رفقاء کی ٹیم دینی مدارس کے نظام و نصاب سے براہ راست واقفیت رکھتی ہے، اس کے نفع اور نقصان دونوں پر ان کی نظر ہے اور وہ اس نظام و نصاب کو چند ناگزیر تبدیلیوں کے ساتھ موجودہ صورت میں ہی باقی رکھنے کے حق میں ہیں۔ ایک یہ کہ دینی نصاب کو فرقہ وارانہ تکفیر کے مبینہ عنصر سے پاک ہونا چاہیے۔ دوسری یہ کہ ان کے خیال میں ریاست کی پالیسی اور نظم سے ہٹ کر مسلح جدوجہد کی ہر صورت کی نفی ہونی چاہیے اور پرائیویٹ عسکریت پسندی کے ہر امکان کو ختم ہو جانا چاہیے۔ تیسری یہ کہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے فضلاء کو مسجد و مدرسہ کے نظام کا حصہ بننے کے ساتھ ساتھ دیگر قومی شعبوں اور اداروں میں کھپانے کا کوئی نظم بھی قائم ہونا چاہیے۔ اور چوتھی یہ کہ دینی مدارس کے آمد و خرچ کا حساب باقاعدہ بینکوں کے ذریعے ہونا چاہیے تاکہ یہ ریکارڈ میں آجائے۔ میرے خیال میں وہ مذکورہ بالا تحفظات کے ساتھ دینی مدارس کے نصاب و نظام کو موجودہ صورت میں ہی برقرار رکھنے کے حق میں ہیں اور اسے سپورٹ کرنے کا عزم رکھتے ہیں جو بہرحال خوش آئند ہے اور دینی مدارس کے ارباب حل و عقد کو اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے۔