بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۱ء

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۲ جون ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق بنگلہ دیش کے وزیر جناب شفیق احمد نے اعلان کیا ہے کہ بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب اسلام رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

۱۹۷۱ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان سے الگ ہو کر مشرقی پاکستان کے عوام نے جب بنگلہ دیش کے نام پر اپنی الگ اور آزاد ریاست قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اسے ایک سیکولر ریاست کی حیثیت دی گئی تھی اور بنگلہ دیش کے قائد شیخ مجیب الرحمن مرحوم نے اعلان کیا تھا کہ یہ نئی ریاست سیکولر بنیادوں پر اپنے نئے سفر کا آغاز کرے گی۔ لیکن مسلم آبادی کے لحاظ سے دنیا کی اس دوسری (یا تیسری) بڑی سلطنت کی اس حیثیت کو زیادہ دیر تک قائم نہ رکھا جا سکا اور بنگلہ دیش کے اسلام دوست اور دیندار عوام نے ۱۹۸۸ء میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے اسلام کو بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب قرار دلوانے میں کامیابی حاصل کر لی، تب سے پاکستان کی طرح بنگلہ دیش میں بھی اس حوالہ سے کشمکش جاری ہے اور بنگلہ دیش کو دوبارہ سیکولر ملک بنانے کے لیے سیاستدانوں کا ایک بڑا حلقہ مسلسل متحرک ہے۔

بنگلہ دیش کی موجودہ وزیر اعظم حسینہ واجد نے، جو شیخ مجیب الرحمن مرحوم کی بیٹی اور ان کی جماعت عوامی لیگ کی قائد ہیں، گزشتہ الیکشن سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ برسر اقتدار آکر بنگلہ دیش کی سیکولر حیثیت بحال کریں گی اور اسلام کو سرکاری مذہب قرار دینے کا دستوری فیصلہ واپس لیں گی۔ جبکہ وہ وزیر اعظم بننے کے بعد اس کے لیے کوشش بھی کرتی رہیں جس سے ملک میں مختلف سطحوں پر اس سلسلہ میں کشمکش تیز ہو گئی اور پارلیمنٹ نے دستوری ترامیم کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کر دی جس نے ارکان پارلیمنٹ اور ملک کی رائے عامہ کا جائزہ لیا اور اس دوران وزیر اعظم حسینہ واجد بھی پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں، مگر قومی رائے عامہ کے واضح رجحان کے باعث انہیں خصوصی کمیٹی کو یہ یقین دہانی کرانا پڑی کہ وہ اسلام کو سرکاری مذہب برقرار رکھنے کے دستوری فیصلہ کی مخالفت نہیں کریں گی اور بنگلہ دیش کے اسلامی تشخص کی حفاظت کریں گی۔ چنانچہ ان کی کابینہ کے وزیر جناب شفیق احمد نے گزشتہ روز باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہے کہ اسلام بدستور بنگلہ دیش کا سرکاری دین رہے گا اور اس میں کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی۔ یہ بنگلہ دیش کے ۹۰ فیصد مسلمانوں کے اسلامی جذبات کی فتح ہے جس پر بنگلہ دیش کے عوام اور اسلامی جماعتوں کے ساتھ ساتھ محترمہ حسینہ واجد بھی مبارکباد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے عوامی جذبات اور قومی رائے عامہ کا احترام کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ اعلان پاکستان کے ان حلقوں کے لیے سبق کی حیثیت رکھتا ہے جو قیام پاکستان کے مقصد، ملک کی منتخب پارلیمنٹوں کے متعدد فیصلوں اور عوام کی واضح اکثریت کے اسلامی جذبات کے علی الرغم پاکستان کو سیکولر ریاست قرار دلوانے کے لیے سرگرم ہیں اور قرارداد مقاصد سمیت دستور کی اسلامی دفعات کو ختم کرانے یا غیر مؤثر بنانے کے لیے متحرک ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ملکوں کے عوام اسلام کے حوالہ سے یکساں جذبات رکھتے ہیں، دونوں نے ۱۹۴۷ء میں نفاذ اسلام کے جذبات کے ساتھ تحریک پاکستان کی پر جوش حمایت کی تھی اور اب بھی دونوں ملکوں کے عوام اپنی قومی اور معاشرتی زندگی کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کا ایک ہی جیسا جذبہ رکھتے ہیں۔

درجہ بندی: