گلگت بلتستان کی انتظامی حیثیت کا تنازع

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ فروری ۲۰۱۳ء

محمد خان جونیجو مرحوم کی وزارت عظمیٰ کا دور تھا، پرنس عبد الکریم آغا خان کی آمد و رفت گلگت بلتستان کے علاقے میں معمول سے بڑھ گئی تھی، اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کو مستقل صوبہ بنانے کی باتیں اخبارات میں آنا شروع ہوئیں تو باخبر حلقوں میں تشویش پیدا ہونے لگی، اتنے میں یہ خبر شائع ہوئی کہ وزیر اعظم جونیجو مرحوم گلگت کا دورہ کرنے والے ہیں اور اس موقع پر گلگت بلتستان اور سکردو پر مشتمل شمالی علاقہ جات کو پاکستان کا مستقل صوبہ بنانے کا اعلان متوقع ہے۔

حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ آف کلاچی، حضرت مولانا عبد الحکیمؒ آف راولپنڈی اور راقم الحروف اس دوران جامعہ فرقانیہ راولپنڈی میں اکٹھے ہوئے اور متوقع حالات کو سامنے رکھتے ہوئے باہمی مشورہ کیا، ہمیں اس سلسلہ میں چند حوالوں سے تشویش لاحق تھی:

  • گلگت، بلتستان اور سکردو کا یہ علاقہ بین الاقوامی نقشہ کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کے اس خطہ میں شامل ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ چلا آرہا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے طے کر رکھا ہے کہ جموں، کشمیر، گلگت، بلتستان اور سکردو وغیرہ پر مشتمل ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو آزادانہ استصواب رائے کے ذریعہ یہ حق دیا جائے گا کہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان یا بھارت میں سے جس کے ساتھ چاہیں شامل ہو جائیں، اس وقت تک اس خطہ کی حیثیت متنازعہ رہے گی۔ اس لیے اگر اس متنازعہ خطہ کے کسی حصے کو پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنا دیا جائے تو بھارت کے اس عمل کو جواز فراہم ہو جائے گا جو اس نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کا آئینی حصہ بنا کر ایک عرصہ سے جاری رکھا ہوا ہے اور جسے نہ صرف پاکستان تسلیم نہیں کر رہا بلکہ آزادئ کشمیر کی جدوجہد کرنے والی جماعتیں بھی اسے قبول نہیں کر رہیں۔ اس لیے شمالی علاقہ جات کو پاکستان کا صوبہ بنانے سے بین الاقوامی فورم پر کشمیر کے کیس کو نقصان پہنچے گا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی من مانی کو سندِ جواز مل جائے گی۔
  • شمالی علاقہ جات جغرافیائی لحاظ سے انتہائی حساس اور نازک محل وقوع رکھتے ہیں اور بھارت، چین، روس اور افغانستان کے بارڈروں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے بہت محتاط پالیسی کا تقاضہ کرتے ہیں۔
  • دنیا کا بلند ترین میدان ’’دیوسائی‘‘ اس علاقے میں واقع ہے جو چین، روس، پاکستان، ایران، بھارت اور افغانستان کی صورت حال پر نظر اور کنٹرول رکھنے کے لیے انتہائی موزوں کمین گاہ ثابت ہو سکتا ہے اور اسی وجہ سے عالمی استعمار کی نگاہیں اس پر جمی ہوئی ہیں۔
  • آبادی کے تناسب کے حوالہ سے سنی، شیعہ، آغا خانی اور نور بخشی فرقوں کی جو صورت حال ہے وہ انتہائی غیر متوازن ہے اور انہیں ایک دوسرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے سے یہ علاقہ مستقل طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی اور تصادم کی آماجگاہ بن سکتا ہے جس کا آغاز ہو چکا ہے۔

ہم تینوں نے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (درخواستی گروپ) کے گروپ کی صورت میں ذمہ دار عہدہ داران کی حیثیت سے اس صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لیا، ان تمام خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کی قیادت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور مسئلہ کا حل یہ تجویز کیا کہ مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی پوزیشن اور نزاکتوں کے پیش نظر اس سوال کو اجاگر کیا جائے کہ ریاست جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقہ کے ان دو خطوں کے لیے الگ الگ نظام اور حیثیتیں نہ تو اصولی طور پر درست ہیں اور نہ ہی پاکستان کے مفاد سے مطابقت رکھتی ہیں، اس لیے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونے تک آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو یکساں حیثیت میں رکھا جائے اور آزاد کشمیر کے حصہ کے طور پر اسی طرز کا نظام عارضی طور پر یہاں نافذ کر کے عوام کو شہری اور سیاسی حقوق سے بہرہ ور کر دیا جائے۔

اس وقت آزاد کشمیر میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار محمد عبد القیوم خان برسرِ اقتدار تھے، ہم نے یعنی مولانا قاضی عبد اللطیفؒ ، مولانا عبد الحکیمؒ اور راقم الحروف نے سردار صاحب کے پاس حاضر ہو کر انہیں اپنے خدشات اور موقف سے آگاہ کیا جس سے انہوں نے اتفاق کیا اور ان کی مداخلت اور پیش رفت کی وجہ سے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کاروائی وقتی طور پر رک گئی جس پر ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے چند سال بعد پھر یہ تحریک سامنے آئی اور کچھ عرصہ قبل کوئی آئینی صورت اختیار کیے بغیر محض انتظامی آرڈر سے گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دے دی گئی جو ابھی تک چل رہی ہے۔ مگر وہ خدشات جن کا ہم نے ربع صدی قبل اظہار کیا تھا اب بھی موجود ہیں بلکہ ان کی سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی مذہبی قیادت نے اس نزاکت کا احساس کیا ہے اور گزشتہ ماہ ۷ جنوری کو اسلام آباد میں مل بیٹھ کر اپنے مشترکہ موقف کا تعین کیا ہے، اس مشاورت میں شریک ہونے والوں میں مولانا قاضی نثار احمد (تنظیم اہل سنت)، ملک مسکین (سابق سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی)، شیر عالم (دیامر جرگہ) مولانا شکرت (دیامر جرگہ)، سردار عتیق احمد خان (مسلم کانفرنس)، عبد الرشید ترابی (جماعت اسلامی)، راجہ فاروق حیدر (پاکستان مسلم لیگ ن)، جسٹس عبد المجید ملک (لبریشن لیگ)، سردار انور خان (سابق صدر آزاد کشمیر)، مولانا نذیر فاروقی (جمعیۃ علماء اسلام)، چودھری منیر حسین (شہید بھٹو گروپ) اور گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق ارکان قاری عبد الحکیم، حاجی شاہ بیگ، مولانا حق نواز، مولانا صادق، محمد کفیل، عطاء اللہ، مولانا عبد الغیاث، جناب نور الباری اور مشتاق احمد ایڈووکیٹ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ان راہنماؤں نے باہمی مشاورت سے جو متفقہ موقف طے کیا ہے وہ درج ذیل ہے:

’’آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کوآرڈی نیشن کمیٹی (اہم نکات)
۱۸۴۷ء میں جب معاہدہ امرتسر ہوا اور برطانوی ہند نے ریاست جموں و کشمیر کو مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کیا تو ریاست جموں و کشمیر میں گلگت بلتستان شامل تھا۔ استور اور بلتستان کو مہاراجہ کے کنٹرول میں رکھا گیا جب کہ گلگت اور ملحقہ ریاستوں کا دفاعی کنٹرول اپنے پاس رکھا اور انتظامی امور مہاراجہ کے گورنر گھنسارا سنگھ کے حوالے کیا گیا۔

برصغیر کی تقسیم جس فارمولے کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچنا تھی، اس کے تحت ریاست جموں و کشمیر جو مسلم اکثریتی ریاست تھی کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا، لیکن ہندو بنیے نے مختلف حیلوں بہانوں سے مہاراجہ سے ساز باز کر کے ریاست کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں آزادی کی تحریک شروع ہو چکی تھی۔ مجاہدین آزادی نے گلگت بلتستان اور موجودہ آزاد کشمیر سے ڈوگرہ افواج کو مار بھگایا۔ مجاہدین ایک کے بعد دوسرے علاقے کو فتح کرتے ہوئے سری نگر کی دہلیز تک پہنچے۔ بھارت نے اس صورت حال سے گھبرا کر اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جس کے نتیجے میں سیز فائر ہوا اور مجاہدین آزادی کو واپس بلا لیا گیا۔ یوں ریاست جموں و کشمیر ایک متنازعہ مسئلے کے طور پر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر آگئی۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پوری ریاست جموں و کشمیر جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں کو بھارت اور پاکستان کے مابین ایک متنازعہ علاقے کی حیثیت دے رکھی ہے۔ لیکن بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف کرتے ہوئے بعد میں مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا اور کشمیریوں کو بین الاقوامی فورم پر تسلیم شدہ حق خود ارادیت دینے سے انکاری ہے۔ آزادی کے بعد آزاد کشمیر کی لیڈر شپ نے انتظامی دشواریوں کے باعث گلگت بلتستان کو عارضی طور پر معاہدہ کراچی کے ذریعے پاکستان کے سپرد کیا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی حکومتیں گزشتہ پینسٹھ سالوں سے گلگت بلتستان میں کوئی قابل قبول آئینی جمہوری نظام تشکیل دینے میں ناکام ہو چکی ہیں اور بیورو کریسی کے لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی نے وہاں مختلف طبقات اور گروہوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔ سیاسی اور جمہوری روایات مفقود ہوئیں۔

پاکستان میں بعض سیاسی حکومتوں کے ادوار میں گلگت بلتستان میں اصلاحاتی پیکیجز دیے گئے لیکن ایک کے بعد دوسرے پیکج کی ناکامی نے گلگت بلتستان کو ایک جانب اہل کشمیر اور مسئلہ کشمیر سے دور رکھا ، دوسری جانب انتظامی اور ترقیاتی منصوبے قلیل بجٹ کے باعث وسیع و عریض علاقے کو جدید ترقی سے ہم آہنگ نہ کر سکے۔ چنانچہ پاکستان کو اپنی منزل اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کو اپنا اولین فریضہ قرار دینے والے محب وطن گلگت بلتستان کے عوام کی عظیم اکثریت نے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان کی سا لمیت اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا یہ تقاضا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہیں، کو باہم مربوط ہو کر ایک پلیٹ فارم تشکیل دینا ہوگا۔ لہٰذا تنظیم اہل سنت گلگت بلتستان و کوہستان، دیامر قومی جرگہ جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہے اور گلگت بلتستان کے طول و عرض میں موجود پاکستان اور کشمیر سے محبت رکھنے والے عمائدین و علمائے کرام نے ایک مشترکہ وفد کی صورت میں آزاد کشمیر کے تمام سیاسی قائدین سے انفرادی اور اجتماعی ملاقاتیں کیں۔

دونوں طرف سے قائدین پر مشتمل ایک مشاورتی اجلاس ۷ جنوری ۲۰۱۳ء کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ جس میں درج ذیل نکات پر مکمل اتفاق کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا گیا:

  • آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی قیادت نے اپنے ایک مشاورتی اجلاس میں تحریک آزادئ کشمیر کی تقویت اور پاکستان کی سلامتی کے لیے ریاست کے دونوں آزاد حصوں کے ایک مشترکہ آئینی اور انتظامی ڈھانچے کی تشکیل پر اتفاق کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ہر سازش کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
  • اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین اور گلگت بلتستان کے موجودہ انتظامی بندوبست کو بھی کشمیریوں کی وحدت کے مغائر قرار دیا اور گلگت بلتستان میں مسلسل بد امنی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وہاں موجودہ پیکج گورنس آرڈر ۲۰۰۹ء کے تحت قائم ہونے والے نظام کی ناکامی قرار دیا۔ مذہبی و سیاسی تنظیموں اور کشمیری قیادت کی تجاویز کو نظر انداز کرتے ہوئے وہاں مسلط کیا گیا۔
  • گلگت بلتستان کی سٹریٹیجک (Stratigic) اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے وہاں فی الفور ایک ایسا آئینی اور جمہوری انتظام کیا جائے جسے تمام سیاسی جماعتوں اور مکاتب فکر کا اعتماد حاصل ہو اور خطے کی تاریخی پس منظر کی روشنی میں آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ آئینی اور انتظامی لحاظ سے مربوط ہو تا کہ ریاست کے دونوں حصے تحریک آزادی کشمیر کے لیے بیس کیمپ کا کردار ادا کر سکیں اور اندرونی و بیرونی دشمنوں کے عزائم ناکام ہو سکیں۔
  • اجلاس نے مندرجہ بالا نکات پر مشتمل امور کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایک مشترکہ کوآرڈی نیشن (Co-ordination) کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا۔ جس میں آزاد کشمیر کے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور گلگت بلتستان سے آئے ہوئے جرگہ کے ممبران اور علمائے کرام و زعماء شامل ہیں۔
  • اجلاس نے متفقہ طور پر سردار محمد انور خان سابق صدر آزاد کشمیر کو کوآرڈی نیشن کمیٹی کا صدر اور مشتاق احمد ایڈووکیٹ نائب امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کو سیکرٹری نامزد کیا۔‘‘

ہم آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مذہبی و سیاسی قائدین کو ایک متوازن اور مشترکہ موقف اختیار کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں، حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ وطن عزیز کے وسیع تر مفاد اور مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس موقف کی بھرپور حمایت کریں اور اس کو عملی شکل میں لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔