سندھ میں اسلام قبول کرنے والے ہندوؤں کا مسئلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
یکم مئی ۲۰۱۹ء

بھرچونڈی شریف کا نام سامنے آتے ہی سرِ نیاز خودبخود عقیدت سے خم ہو جاتا ہے کہ سندھ کی اس عظیم خانقاہ کے بانی عارف باللہ حضرت حافظ محمد صدیق قادریؒ ان اکابر صوفیائے کرام میں سے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور جناب نبی اکرم صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کی محبت کا خوگر بنانے کے ساتھ ساتھ حریت فکر اور آزادیٔ وطن کے جذبات سے بھی مسلسل روشناس رکھا۔ جبکہ ہمارے لیے اس خانقاہ کے ساتھ بے پایاں عقیدت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ضلع سیالکوٹ کے ایک نو مسلم نوجوان کو جو بوٹا سنگھ سے عبید اللہ بنا تھا، حضرت حافظ محمد صدیقؒ کے سایۂ عاطفت اور محبت و شفقت نے سیالکوٹی سے سندھی بنا دیا اور دنیا اسے اب تحریک آزادی کے عظیم راہنما مفکر انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے نام سے یاد کرتی ہے۔

بھرچونڈی شریف کی خانقاہ کے موجودہ سجادہ نشین حضرت پیر عبد الخالق قادری کی طرف سے گزشتہ دنوں ایک دعوت نامہ موصول ہوا کہ وہ ۲۹ اپریل کو لاہور میں مشائخ عظام، سرکردہ علماء کرام اور مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں کی ایک اجتماعی مشاورت کا اہتمام کر رہے ہیں جس کا مقصد سندھ اسمبلی میں پیش کیے جانے والے اس پرائیویٹ بل کے بارے میں باہمی مشورہ کرنا ہے جو ایک ہندو رکن اسمبلی کی طرف سے پیش کیا گیا ہے اور اس میں کسی بھی غیر مسلم کے اسلام قبول کرنے کو کسی کمیٹی کے سامنے اس کے پیش ہونے اور اس سے اجازت حاصل کرنے کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ مجھے اس مشاورت کی اطلاع اور دعوت دینے والے دوست سید احسان گیلانی ایڈووکیٹ تھے جو ہمارے محترم دوست اور ملک کے نامور صاحب فکر و دانش بزرگ سید خورشید گیلانی مرحوم و مغفور کے بھائی ہیں اور یہ نسبت بذات خود میرے لیے باعث کشش ہے اس لیے دعوت قبول کرنا دونوں حوالوں سے میرے لیے خوشی اور سعادت کی بات تھی۔

چنانچہ میں مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، قاری محمد عثمان رمضان، حافظ شاہد میر اور عزیزم حافظ ارسلان خان کے ہمراہ شریک ہوا۔ مشائخ عظام اور دینی راہنماؤں کا بھرپور اور ملک گیر اجتماع تھا جس میں اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے بہت سی عملی تجاویز سامنے لائی گئیں۔ پہلے مرحلہ میں اس معاملہ کا پس منظر حضرت پیر صاحب محترم کے تفصیلی مکتوب گرامی میں سے قارئین کی خدمت میں نقل کر رہا ہوں، اس کے بعد اگلے کسی کالم میں اس اجتماعی مشاورت کے فیصلوں اور پروگرام سے قارئین کو باخبر کرنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالٰی۔حضرت پیر صاحب محترم ارشاد فرماتے ہیں کہ:

’’اسلام ایک زندہ اور تبلیغی دین ہے۔ دور جدید میں بھی تبلیغ کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ قبولِ دینِ اسلام کے لیے جبر و تشدد، دہشت و اسلحہ کے زور پر کسی کو بھی مسلمان نہیں کیا جاتا۔ صوبہ سندھ میں ہندو برادری کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ ان میں بہت بڑے بڑے زمیندار اور ساہوکار بھی موجود ہیں اور غریب مفلوک الحال عوام الناس بھی ہیں۔ ذات برادری کا بہت گہرا امتیاز اور اچھوت کا تصور ابھی تک ان کے دھرم کا طرہ امتیاز ہے۔ سندھ کے غریب ہندو عوام سے ان کے اعلیٰ درجہ کی نسل والے ہندو زمیندار اور ساہوکار وہی سلوک کرتے ہیں جو سلوک بھارت میں اچھوت قوم اور ہربجنوں سے اعلیٰ نسل کے ہندو کرتے ہیں۔ سندھ میں اعلیٰ جاتی اور سرمایہ و جاگیردار ہندو وڈیروں سے تنگ آکر سادہ غریب اور مفلوک حال ہندو دامنِ اسلام میں پناہ لیتے ہیں۔ سندھ کے اسلامی مراکز میں عموماً اور سندھ کی قادری خانقاہ بھرچونڈی شریف میں خصوصاً جبر و ظلم کے مارے ہندو غریب حاضر ہو کر اسلام کی نعمت سے مالامال ہوتے ہیں۔ ہندو جاگیرداروں اور وڈیروں کو اپنی رعایا کے اس اقدام سے سخت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ قبولِ اسلام کے بعد وہ پاکستان کے ایک معزز شہری شمار ہوتے ہیں اور اہل اسلام ان کی دنیاوی و دینی ضروریات کے لیے اپنے بازوئے محبت کشادہ کر دیتے ہیں۔

متعصب ہندو متحرک حلقوں نے پاکستان میں بھارتی حکومتی دانشوروں اور حکومتی ذمہ داران کی مکمل آشیرباد سے پاکستان میں مذہبی، آئینی، قانونی افتراق اور بحران پیدا کرنے کا ایک نیا سلسلہ تازہ ایام میں منظم انداز میں شروع کر دیا ہے اور پاکستان میں سیاست مست، بندگان مفادات اس سلسلۂ شر و فساد میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اقلیت کے حقوق کی پاسداری و تحفظ کے نام پر گمراہ کن عملی اقدامات میں مصروف ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں، ذرائع اطلاعات پر قابض، بزعم خود دانشور اور ذمہ دار اداروں میں موجود کچھ غیر ذمہ دار رویوں کے حامل افراد ان ملک دشمن فکری و سیاسی شخصیات کی مکمل پشت پناہی کر رہے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں بل پیش کیا گیا ہے کہ کوئی شخص قبولِ اسلام سے پہلے ایک مخصوص قانونی کمیٹی یا سول جج کے سامنے پیش ہو کر اپنے داخلی ایمانی جذبات کے اسباب کو اس کمیٹی کے سامنے بالوضاحت بیان کرے گا، اگر کمیٹی مطمئن ہو جائے تو اسے قبولِ اسلام کی اجازت ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کے آئینی اور قانونی احکامات، رویوں میں اس طرز کی پابندی موجود نہیں ہے کہ کوئی بھی شخص تبدیلی مذہب کے لیے سرکاری اجازت نامہ حاصل کرے، یہاں تک کہ ہندوستان میں بھی اس طرز کی جبری اور غیر فطری پابندی کا وجود نہیں پایا جاتا۔

موجودہ حالات کے تناظر میں تبدیلی مذہب کے مظاہر میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے تازہ ترین فیصلے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سندھ کی خانقاہ بھرچونڈی شریف کے زیر اثر مبلغین یا خانقاہ کے ذمہ داران کسی طرز کا بھی جبری تبلیغی رویہ نہیں اپناتے۔ دراصل ہندو سیاستدانوں اور سرمایہ دار سود خور وڈیروں کے رویوں سے تنگ آ کر غریب، مفلوک الحال افراد یا پھر تعلیم یافتہ باشعور ہندو نوجوان اسلام قبول کرتے ہیں اور خانقاہ بھرچونڈی شریف میں ایسے نومسلموں کے لیے دینی و دنیاوی تعلیم کے علاوہ ان کے ذرائع معاش کا باعزت اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ سندھ کی معاشرتی حالت تو یہ ہے کہ وہاں کے قاہر طبیعت ہندو زمیندار اپنے ماتحت مسلمان ہاریوں اور کارکنوں کو اپنے جبر و استبداد کا شکار رکھتے ہیں اور معاشی طور پر ان کا دائرہ حیات تنگ رکھتے ہیں اور اسلامی ریاست پاکستان میں از خود ایک عملی ہندو ریاست قائم کیے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں اقلیتوں کو نہ صرف آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہے بلکہ وہ مسلمانوں کے رواداری اور وسعت مذہبی کے رویوں کے باعث پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کی شہادت علماء و مشائخ کے زیر اثر افراد کی مذہبی وسعت قلبی سے میسر آتی ہے۔ سکھ، عیسائی اور ملک کے دیگر علاقوں میں بسنے والے ہندو نہایت پر امن زندگی گزار رہے ہیں۔ سندھ کا مسئلہ سندھ کے ہندو سیاستدانوں اور معاشی فرعون وڈیروں کا پیدا کردہ ہے اور اس کارِ شر میں انہیں بھارت کے خفیہ اداروں کی ہدایات اور بھارتی حکومت کی پوری سرپرستی حاصل ہے۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت دہشت گردی کے انداز میں ہو رہی ہے اور سندھ میں بھارتی مداخلت مذہبی افتراق اور نام نہاد اقلیتی حقوق کی پاسداری کے نام پر ہو رہی ہے۔

اہل دین بالخصوص علماء و مشائخ اور کالم نگار حضرات و میڈیا اینکرز کی خدمت میں یہ معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔ یہ پیش کردہ بل، انسانی، معاشرتی، اخلاقی اور بین المذاہب اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور بدقسمتی سے اس ملک میں یہ قانون بننے جا رہا ہے جس کا آئین اسلامی ہے اور جس ملک کے قیام میں مشائخ عظام اور راسخ العقیدہ علماء کرام کی جدوجہد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس ملک کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور لاکھوں پاکیزہ نفوس مسلمان خواتین نے اپنی حرمت و عزت قربان کی ہیں، بے شمار معصوم بچوں نے اس وطن عزیز کی بنیادوں کو اپنا خون پیش کیا۔‘‘