جنرل مشرف کے لیے تین نکاتی ایجنڈا

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۹ اکتوبر ۱۹۹۹ء

پاک فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے آئین معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کا منصب سنبھال لیا ہے۔ اس کے پس منظر میں واقعات کا ایک پورا تسلسل ہے جو قارئین کے سامنے ہے اور ان میں سے کسی بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عام حلقوں میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ملک کسی بڑے بحران سے بچ گیا ہے۔ نواز شریف کے سیاسی مخالفین خوشیاں منا رہے ہیں اور ان کے سیاسی ہمدرد افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے نزدیک اب تک کی صورتحال میں اطمینان کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ پاک فوج کو تقسیم کرنے کی سازش ناکام ہو گئی ہے اور فوج کے جرنیلوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنے کی خواہش دم توڑ گئی ہے۔

وطن عزیز کے ریاستی اداروں میں نقب زنی اور انہیں حکومتی خواہشات کا آئینہ دار بنانے کی جو کوششیں اب تک ہوئی ہیں، ان کو سامنے رکھتے ہوئے پاک فوج ہی ایک ایسا ادارہ باقی رہ گیا تھا جس سے قوم کی امیدیں وابستہ ہو گئی تھیں کہ وہ کسی بحران میں قوم کو سنبھالنے کی صلاحیت اور توانائی رکھتا ہے۔ اس لیے جب یہ صورتحال سامنے آئی کہ اس منظم، طاقت ور اور فعال ادارے کی وحدت میں دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش شروع ہو گئی ہے تو ہر محب وطن کا دل دہل کر رہ گیا تھا اور مجھ سے گزشتہ ہفتہ کے شدید بحرانی دور میں جس دوست نے بھی اس حوالے سے بات کی ہے، اس سے یہی عرض کیا ہے کہ اس دعا کا بطور خاص اہتمام کریں کہ فوج کی وحدت برقرار رہے اور اس میں خلفشار پیدا کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا بے حساب شکر ہے کہ اس نے پاکستانی قوم کو اس آخری اور ناقابل تلافی بدقسمتی سے بچا لیا ہے۔

ایک حکمران کے طور پر جنرل پرویز مشرف کے عزائم اور ترجیحات کیا ہوں گی، اس کے بارے میں سردست کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ آنے والے وقت میں ان کا طرز عمل بتائے گا کہ وہ ملک و قوم کو درپیش گھمبیر مسائل کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں اور ان کے حل کے لیے ان کے ذہن میں اقدامات کا خاکہ کیا ہے؟ ہم ان سے نہ تو زیادہ امیدیں قائم کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ ہی ابھی مایوسی کے اظہار کا کوئی موقع ہے:

  • ہماری ترجیحات میں اسلام، قوم اور ملک کے مفادات ہی اول اور آخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کی پالیسیاں ان مفادات سے مطابقت رکھیں گی تو ان کی حمایت کریں گے اور ان کے لیے بارگاہ ایزدی میں دست بدعا بھی رہیں گے۔
  • لیکن اگر وہ بھی اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح خواہشات اور ملکی اور بین الاقوامی ترغیبات کے جال میں الجھ کر رہ گئے تو ہم یہی سمجھیں گے کہ ابھی حق اور باطل کی کشمکش جاری ہے اور فیصلے کی منزل تک پہنچنے کے لیے کچھ اور مراحل باقی ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ہمیں کچھ زیادہ معلومات حاصل نہیں ہیں اور یہ بھی آج کے کسی اخبار میں پڑھا ہے کہ ان کی ولادت ۱۹۴۳ء میں دہلی میں ہوئی تھی اور انہوں نے بچپن کا خوبصورت دور صدیوں تک ایک عظیم مسلم مملکت کا دارالحکومت رہنے والی دہلی میں گزارا ہے۔ اس دہلی کے ساتھ ان کی یادیں بھی وابستہ ہیں جو ان کے بچپن سے تعلق رکھتی ہیں اور ہماری یادیں بھی وابستہ ہیں جن کا تعلق ملت اسلامیہ کے دور شباب سے ہے۔ خدا کرے کہ جنرل صاحب موصوف کے ذہن کے کسی خانے میں بھی یہ یادیں موجود ہوں اور اگر ان کے ذہن و فکر اور عزائم کا خمیر بچپن اور شباب کی انہی یادوں کی آنچ میں پختہ ہوا ہے تو جنوبی ایشیا کے غیرت مند مسلمانوں کی تمناؤں اور آرزوؤں کا مرکز بننے میں انہیں زیادہ دیر نہیں لگے گی، اور دل کی بات یہ ہے کہ ہم خود بھی انہیں اسی روپ میں دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔

مگر سردست خوابوں کی اس دنیا سے واپس آ کر معروضی حقائق کی دنیا میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے حکمران جنرل پرویز مشرف سے چند ابتدائی گزارشات کرنا چاہتے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہم ان کو اس بات پر مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ ان کے طیارے کو لینڈ کرنے سے روکنے کی جو شرمناک کوشش ہوئی، وہ ناکام ہو گئی اور نہ صرف ان کی اور ان کے مسافر رفقاء کی جان بچی بلکہ وطن عزیز ایک خوفناک بحران اور رسوائی سے محفوظ رہا۔ اس کے ساتھ ہی وہ اس بات پر بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی قیادت میں پاک فوج کی وحدت برقرار ہے اور انہوں نے اور ان کے رفقاء نے فوج کی قیادت میں خلفشار پیدا کرنے کی مبینہ سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔
اس کے بعد یہ گزارش ہے کہ ہمارے نزدیک وطن عزیز کے بنیادی مسائل تین ہیں:

  1. جس مقصد کے لیے برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کے نام پر الگ ملک کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، وہ اسلامی نظام کا نفاذ اور مسلم تہذیب و ثقافت کا احیا تھا۔ جس سے ہم نے نصف صدی تک مسلسل انحراف کیا ہے اور مغربی ثقافت اور عالم اسلام کے درمیان اس وقت جو ’’تہذیبی جنگ‘‘ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، اس کے پیش نظر اب ہمارے پاس اس سلسلے میں انتظار کا مزید وقت نہیں رہا۔
  2. قومی آزادی اور خود مختاری کا مسئلہ انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے اور یہ بات ہماری اولین ضرورت بن چکی ہے کہ ہم امریکی وزارت خارجہ کے جنوبی ایشیا ڈیسک اور عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نجات حاصل کر کے اپنے فیصلے اسلام آباد میں بیٹھ کر خود کرنے کا اختیار بحال کریں، اس کے بغیر ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔
  3. قومی دولت کی بے تحاشا لوٹ کھسوٹ اور قومی اداروں میں کرپشن اور بدعنوانی کے دن بدن بڑھتے ہوئے رجحانات نے قومی زندگی کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے، اس لیے قومی دولت کی واپسی اور کرپشن کے خاتمے کے لیے ٹھوس، بے لاگ اور بے لچک احتساب اور اقدامات کی ضرورت ہے۔

مستقبل کے حسین خواب اپنی جگہ ہیں اور ہم ان سے کبھی دستبردار نہیں ہو سکتے، مگر موجودہ حالات میں جنرل پرویز مشرف اور ان کے رفقاء اس تین نکاتی ایجنڈے کو ہی اپنے پروگرام میں شامل کر لیں تو ان کا قوم پر بہت بڑا احسان ہوگا اور ان کا یہ کارنامہ یقیناً ملک و قوم کے بہتر مستقبل کی نوید بن جائے گا۔