مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ اکتوبر ۲۰۰۴ء

مفتی محمد جمیل خانؒ بھی اپنے شیخ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مجھے یہ اطلاع ہمارے عزیز بھانجے مولانا عزیز الحق ہزاروی نے فون پر دی جو برطانیہ کے شہر برنلی میں کئی برسوں سے مسجد فاروق اعظمؓ کے امام و خطیب تھے اور اب ایک چرچ کا سودا کر کے اسے خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں وہ مسجد اور طالبات کا اسلامی اسکول قائم کرنا چاہتے ہیں۔ میں لندن میں مولانا محمد عیسیٰ خان منصوری کے گھر میں تھا اور ورلڈ اسلامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک مولانا عزیز الحق نے فون پر یہ روح فرسا خبر دی کہ مفتی محمد جمیل خان کو کراچی میں شہید کر دیا گیا ہے۔ ابھی موبائل فون پر ان سے یہ خبر سن رہا تھا کہ دوسرے فون پر کال آئی جس پر ختم نبوت اکیڈمی لندن کے ڈائریکٹر الحاج عبد الرحمان باوا کے فرزند سہیل باوا لائن پر تھے اور مجھے اس سانحہ کی خبر دینا چاہ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مفتی محمد جمیل خان کے ساتھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے راہنما مولانا نذیر احمد تونسویؒ بھی جام شہادت نوش کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم بہت سے دوست ابراہیم کمیونٹی کالج میں اجلاس کے لیے جمع تھے، خبر اکثر دوستوں تک پہنچ چکی تھی، جس نے سنا کلیجہ تھام لیا اور رنج و غم میں ڈوب گیا۔ دیر تک مفتی صاحبؒ کا تذکرہ ہوتا رہا اور احباب ان کی دینی خدمات کا تذکرہ کرتے رہے۔

مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کے ساتھ میرا تعلق ۱۹۷۴ء سے تھا جب وہ مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ میں زیر تعلیم تھے اور تحریک ختم نبوت کے کارکنوں میں شامل تھے۔ تحریک ختم نبوت کے لیے گوجرانوالہ میں جو کل جماعتی مجلس عمل تشکیل دی گئی مجھے اس میں سیکرٹری کی ذمہ داریاں سونپی گئیں اور چونکہ مرکزی جامع مسجد شہر اور ضلع کے لیے تحریک کا ہیڈکوارٹر تھی اس لیے علماء کرام اور کارکنوں کے ساتھ رابطہ زیادہ تر میرا ہی رہتا تھا۔ اس دوران مجھے جن نوجوانوں کا بطور خاص تعاون حاصل رہا اور جنہوں نے تحریک کے لیے سرگرم کردار ادا کیا ان میں مدرسہ اشرف العلوم کے ہونہار طالب علم محمد جمیل خان نمایاں تھے۔ وہ پشاور کے پوپلزئی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو کاروباری خاندان ہے اور کھاتے پیتے لوگ ہیں۔ مگر ان کے والد محترم نے انہیں کاروبار اور تجارت کی بجائے دینی تعلیم او رخدمت اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ اور مفتی صاحبؒ ایسے وقف ہوئے کہ مرتے دم تک دین حق کی ترویج و حفاظت کے مشن کے لیے سرگرم رہے اور نہ صرف دین بلکہ علماء دین کی خدمت کو اپنا شعار بنا لیا۔ اس کے بعد ان سے تعلق تسلسل کے ساتھ قائم رہا۔

مفتی صاحب شہیدؒ کراچی منتقل ہوگئے اور محدث جلیل حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے خصوصی خدام میں جگہ پائی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد بنوری ٹاؤن ہی میں تدریس اور افتاء کے شعبہ سے وابستہ ہوگئے لیکن حضرت بنوریؒ کے خصوصی خادم اور ان کے بعد حضرت مولانا مفتی احمد الرحمانؒ کے دست راست کے طور پر زیادہ شہرت حاصل کی۔ اکابر علماء کرام کے ساتھ وابستگی اور ان کی والہانہ خدمت کا خصوصی ذوق رکھتے تھے اور ان کے خلوص و محنت، خدمت و ایثار کی وجہ سے اکابر علماء کرام اور مشائخ بھی ان پر اعتماد کرتے تھے۔ حضرت بنوریؒ کے بعد انہیں جن بزرگوں کی خدمت کا موقع ملا اور انہوں نے جن مشائخ کی دعائیں حاصل کیں ان میں حضرت مولانا مفتی احمد الرحمانؒ، حضرت مولانا مفتی ولی حسنؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ، حضرت مولانا سید نفیس الحسینی مدظلہ اور دیگر اکابر کے ساتھ ساتھ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ بھی شامل ہیں۔ اور چونکہ حضرت والد صاحب سے ان کی خادمانہ سرگرمیوں کا میں عینی شاہد ہوں اس لیے مجھے یہ بات کہنے میں کوئی حجاب نہیں ہے کہ حقیقی اولاد بھی اپنے باپ کی اتنی خدمت نہیں کر سکتی جو مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ اور ان کے چند قریبی رفقاء نے حضرت والد صاحب کی خدمت کی ہے۔

مفتی جمیل خان شہیدؒ کے ساتھ میرا تعلق بے تکلفی کا تھا، اس لیے ان کے اعتماد پر میں اب تک اس معاملہ میں بے پروا رہا ہوں کہ مفتی جمیل خان کے ہوتے ہوئے خدمت کے حوالے سے اور کسی کی زیادہ توجہ کی ضرورت نہیں ہے۔ بزرگوں کو تلاش کرنا، ان کی خدمت میں حاضری دینا، ان کے علاج معالجہ اور دیگر ضروریات کا خیال رکھنا، انہیں کراچی میں اپنے گھر لے جا کر کئی کئی دن ٹھہرانا اور ان کی خدمت کر کے خوش ہونا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کا خصوصی ذوق تھا۔ گزشتہ ماہ بیرون ملک روانگی سے دو ہفتے قبل مجھے جھنگ جانے کا اتفاق ہوا۔ جامعہ محمدی شریف کے حضرت مولانا محمد نافع مدظلہ کی خدمت میں بھی حاضری دی جو دارالعلوم دیوبند کے پرانے فضلاء میں سے ہیں اور غالباً حضرت والد محترم مدظلہ کے ہم درس ہیں۔ وہ صاحب فراش ہیں، ان سے حال احوال دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ دو تین روز قبل مفتی محمد جمیل خان کراچی سے آئے تھے اور یہ پروگرام بتا رہے تھے کہ وہ مجھے علاج کے لیے کراچی لے جائیں گے اور اس کے لیے انہوں نے جہاز کی سیٹوں کا مرحلہ بھی طے کر لیا تھا کہ اچانک گرنے سے حضرت مولانا محمد نافع مدظلہ کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور ان کے لیے سفر کرنا مشکل ہوگیا۔

اس سے مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کے ذوق کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کی ایک محفل میں کسی دینی مشن کے حوالہ سے بزرگ علماء کرام سے رابطہ کرنے اور ان کی تائید حاصل کرنے کی ضرورت تھی، مفتی جمیل خانؒ بھی موجود تھے۔ جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ کام مفتی محمد جمیل خان کے سپرد کر دو، اس کے پاس ’’تسخیر المشائخ‘‘ کا عمل ہے او ریہ بزرگوں کو قابو کرنے کا فن جانتا ہے۔ تسخیر کا یہ عمل کیا تھا؟ خلوص تھا، خدمت تھی، محنت تھی، ایثار تھا اور مسلسل قربانی تھی جو اس مردِ قلندر کی گھٹی میں داخل تھی اور یہ عمل بڑے بڑوں کو موم کر دیا کرتا ہے۔ میں نے مفتی جمیل خان کو لندن میں علماء کرام کی خدمت کرتے دیکھا ہے، ازبکستان کے سفر میں ان کی خدمت و محنت کا مشاہدہ کیا ہے، حرمین شریفین کی حاضری میں ان کو علماء کرام بلکہ دیگر حجاج کی خدمت میں دوڑتے بھاگتے ملاحظہ کیا ہے، اور کراچی میں تو ان کا شب و روز کا معمول ہی یہ تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ علماء کرام کی صف میں اس معاملہ میں ان کی اور کوئی مثال نظر نہیں آتی۔

مولانا مفتی جمیل خان شہیدؒ کا سیاسی تعلق جمعیۃ علمائے اسلام سے تھا اور وہ جمعیۃ کے سرگرم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ کچھ عرصہ مرکزی سیکرٹری اطلاعات بھی رہے ہیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس کی کامیابی اور اخبارات میں اس کی کوریج کے لیے شب و روز مصروف تھے۔ روزنامہ جنگ سے باقاعدہ طور پر وابستہ تھے، اسلامی صفحہ کی ترتیب اور دینی عنوانات و شخصیات پر خصوصی اشاعتوں کے اہتمام میں بطور خاص متحرک رہتے تھے۔

مفتی صاحبؒ کا ایک بڑا دینی کارنامہ ’’اقراء روضۃ الاطفال‘‘ کا وہ وسیع نیٹ ورک ہے جس کی شاخیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں قرآن کریم کے ساتھ جدید تعلیم پانے والے بچوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ کچھ عرصہ سے مفتی جمیل خان شہیدؒ نے اپنی تگ و دو کو تین شعبوں اور دائروں میں محصور کر لیا تھا۔

۱. بزرگ علماء کرام کرام کی خدمت

۲. تحریک تحفظ ختم نبوت

۳. اقراء روضۃ الاطفال

وہ شب و روز انہی کاموں میں مگن تھے اور آخری لمحات بھی ان کے ختم نبوت کے دفتر میں اپنے مشن کی خدمت کرتے ہوئے گزرے۔ چند ہفتے قبل وہ گکھڑ میں حضرت والد صاحب مدظلہ کے پاس آئے تو واپسی پر گوجرانوالہ میں مجھ سے بھی ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کیا حال ہے تو مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ حال تو ٹھیک ہے مگر لگتا ہے کہ ہمارا نمبر بھی شاید لگ گیا ہے۔ میں نے اسے دل لگی پر محمول کیا مگر ان کا کہنا ٹھیک تھا۔ ان کا نمبر لگ گیا تھا کہ حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئیؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کا یہ شہید بھی اپنے سفر کی طرف رواں دواں تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت کو قبول فرمائیں اور اپنے عظیم اسلاف کے ساتھ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔