پیش لفظ ’’جنرل مشرف کا دور اقتدار‘‘

   
مجلہ: 
پیش لفظ
تاریخ اشاعت: 
۲۴ مئی ۲۰۰۷ء

نحمدہ تبارک و تعالیٰ و نصلی و نسلم علیٰ رسولہ الکریم و علیٰ آلہ و اصحابہ و اتباعہ اجمعین۔

جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار اس لحاظ سے منفرد اور امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ انھوں نے اپنے اہداف اور پروگرام کو ڈپلومیسی کی زبان میں لپیٹنے کی حتی الوسع کوشش نہیں کی۔ صحیح یا غلط جو کچھ بھی کیا، کھلے بندوں کیا اور بہت سے معاملات جو ان سے پہلے مصلحتوں کے پردوں میں ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“ کی کیفیت سے دوچار تھے، ان کے دور اقتدار میں اوپن ہو گئے ہیں۔

پاکستانی سیاست کی امریکی مفادات کے ساتھ وابستگی کا آغاز قیام پاکستان کے بعد سے ہی ہو گیا تھا، بلکہ بعض دانشوروں کے خیال میں اس کی منصوبہ بندی پاکستان کے وجود میں آنے سے بھی پہلے کر لی گئی تھی، لیکن بہت مدت تک یہ وابستگی ”ریموٹ کنٹرولڈ“ رہی اور اس کے اتار چڑھاؤ سے کماحقہ واقفیت صرف باشعور سیاسی حلقوں کے دائرے میں ہی گردش کرتی رہی۔ لیکن اسے جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار کا کمال کہیے، نائن الیون کے سانحہ کا نتیجہ گردانیے یا ہر معاملہ کی تہہ تک میڈیا کی رسائی کا کرشمہ قرار دیجیے کہ سارے حجابات درمیان سے اٹھ گئے ہیں اور اب تک درپردہ طے پانے والے معاملات اب ”اوپن تھیٹر“ کی صورت میں ملک کے ہر شہری کو سامنے دکھائی دینے لگے ہیں۔ صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور اقتدار میں ان کے بھائی اور اس وقت کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سردار بہادر خان مرحوم نے جب ایک موقع پر قومی اسمبلی کے فلور پر یہ کہا کہ پاکستان میں کوئی حکومت بھی امریکہ کی مرضی کے بغیر تبدیل یا قائم نہیں ہوتی تو میرے جیسے سیاسی کارکنوں کو اس وقت بہت تعجب ہوا تھا، لیکن آج قومی سیاست میں کوئی ہلکی سی ہلچل دیکھ کر بھی ملک کے ایک عام شہری کی نظر بے ساختہ واشنگٹن کے ایوانوں کی طرف اٹھ جاتی ہے کہ وہاں کا سیاسی موسم کیا ہے اور ہواؤں کا رخ کدھر کو ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے، متعدد سانحات پیش آئے اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر انھیں مختلف چیلنجز کا سامنا رہا، لیکن وہ اپنے مشن اور پروگرام پر پوری جرات اور حوصلہ مندی کے ساتھ قائم رہے۔ میاں محمد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کا معاملہ ہو، نائن الیون کا سانحہ ہو، افغانستان پر امریکی اتحاد کی فوج کشی کا المیہ ہو، ملک میں دینی قوتوں کو کارنر کرنے کا محاذ ہو، عدالت عظمیٰ کا بحران ہو، لال مسجد کی قیامت صغریٰ ہو، وزیرستان، سوات اور بلوچستان میں فوجی طاقت کا استعمال ہو، نواب اکبر بگٹی کا المناک قتل ہو، میاں محمد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی واپسی اور پھر بے نظیر بھٹو کی شہادت ہو، فروری ۲۰۰۸ء کے الیکشن میں جنرل پرویز مشرف کی حامی سیاسی جماعتوں کی واضح شکست ہو، الیکشن کے بعد سیاسی جماعتوں کا جنرل پرویز مشرف کے خلاف متحدہ محاذ ہو، یا اس نوعیت کے دیگر سنگین قومی معاملات، ان سب میں جنرل پرویز مشرف نے ”کمانڈو“ کی حیثیت سے اپنی پیشہ ورانہ تربیت اور صلاحیتوں کا خوب استعمال کیا ہے۔ اور اب جبکہ قومی سیاست کی بڑی جماعتوں، عدلیہ، میڈیا اور دینی قوتوں سمیت ہر جانب سے انھیں مخالفانہ یلغار کا سامنا ہے، انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آنے والی جماعتوں کی طرف سے ان کے آئینی اور قانونی صدر ہونے کے بارے میں تحفظات کا کھلم کھلا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، وہ اب بھی ایک کمانڈو کے طور پر ان سب کا سامنا کر رہے ہیں اور پوری طرح ایکشن میں نظر آتے ہیں۔

یہ ان کی کمانڈو تربیت کا کمال ہے یا ان کے مضبوط کھونٹے (امریکہ اور فوج) کا کرشمہ کہ وہ آج بھی خود کو منتخب اور آئینی صدر قرار دیتے ہوئے نہ صرف اپنی صدارتی مدت پوری کرنے کے عزم پر قائم ہیں بلکہ اپنے تمام تر اختیارات کے دفاع اور اپنے ایجنڈے میں مزید پیشرفت کے لیے بھی مستعد ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف پوری قوم کھڑی ہے اور دوسری طرف چند ساتھیوں کے ساتھ صدر پرویز مشرف مورچہ زن ہیں اور دیکھنے والوں کو ابھی تک یہ تاثر نہیں مل رہا کہ وہ اپنے موقف، پوزیشن اور ایجنڈے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار ہو سکتے ہیں۔ ان گزارشات کی اشاعت تک حالات خدا جانے کیا رخ اختیار کرتے ہیں، مگر تادم تحریر صورت احوال یہی ہے اور اسی تناظر میں یہ سطور قلم بند کی جا رہی ہیں۔

جنرل مشرف کی پالیسیوں اور ایجنڈے پر بحث کا آغاز ان کا دور اقتدار شروع ہوتے ہی ہو گیا تھا جو نہ صرف ان کے اقتدار پر فائز رہنے تک جاری رہے گا بلکہ اس کے بعد بھی ان کے مثبت اور منفی اثرات و نتائج پر مدتوں مباحثے ہوتے رہیں گے۔ چنانچہ ایک دینی کارکن اور اس کے ساتھ ایک صحافی اور کالم نگار کے طور پر میں نے بھی جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں، اقدامات، ایجنڈے اور اہداف کے حوالے سے مسلسل لکھا ہے اور بہت کچھ لکھا ہے جو روزنامہ پاکستان، روزنامہ اسلام، ماہنامہ الشریعہ اور دیگر جرائد میں شائع ہوتا رہا ہے۔ عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر نے اس سلسلے میں میری تحریروں کا زیر نظر مجموعہ مرتب کر کے انھیں قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت کا بھی اہتمام کر دیا ہے۔ خدا کرے ہماری یہ کوشش قومی سیاست میں مثبت رجحانات کے فروغ اور اسلامی اقدار و روایات کی نمائندگی اور پاسداری میں مفید ثابت ہو۔ آمین یا الہ العالمین۔