تعلیمی نظام اور بین الاقوامی مطالبات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ مارچ ۲۰۰۴ء

ملک کا تعلیمی نظام اس وقت سہ طرفہ یلغار کی زد میں ہے اور اعلیٰ سطح پر اس سلسلہ میں جو سرگرمیاں نظر آرہی ہیں یا درپردہ جاری ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام و نصاب کا کوئی شعبہ بھی ان تبدیلیوں کے اہداف سے باہر نہیں ہے جو پاکستان کے حوالے سے طے کر لی گئی ہیں اور انہیں روبہ عمل کرنے کے لیے ’’ہوم ورک‘‘ تیزی کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے۔

  1. ایک طرف دینی مدارس کا نظام و نصاب ہے جس میں اصلاح و ترمیم کے لیے مختلف شعبے سرگرم عمل ہیں، اور اصلاح و ترمیم کا اصل ہدف امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی اس حالیہ بریفنگ کے بعد بالکل واضح ہو گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ دینی مدارس بنیاد پرستی اور دہشت گردی کی اصل آماجگاہ ہیں جو امریکہ کے لیے باعث تشویش ہے اور اس کا اصل حل یہ ہے کہ ان میں جو نظریہ پڑھایا جاتا ہے، اسے تبدیل کیا جائے۔ یہ بات اس سے قبل سابق امریکی صدر بل کلنٹن بھی جدہ میں اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب کے نصاب تعلیم میں عقیدہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور اپنے مذہب کے ساتھ بے لچک کمٹمنٹ کا درس دیا جاتا ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

    گویا بات بڑھتے بڑھتے اپنے اصل نکتہ اور ہدف تک آگئی ہے کہ امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کو اصل اعتراض اس پر ہے کہ سعودی عرب، پاکستان یا دوسرے مسلم ممالک کے دینی تعلیمی اداروں میں عقیدہ کے حوالہ سے جو تعلیم دی جاتی ہے اور یہ پڑھایا جاتا ہے کہ اسلام حق مذہب ہے اور دوسرے مذاہب باطل ہیں اس لیے دنیا میں ایک حق مذہب کے طور پر اسلام کی بالادستی نسل انسانی کی ضرورت ہے، یہ تعلیم بعض مغربی دانشوروں کے نزدیک غلط ہے اور ان کے بقول عالمی رواداری اور ہم آہنگی میں رخنے پیدا کرتی ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ اپنے دائرہ میں مذہب کی تعلیم دی جائے لیکن دوسرے مذاہب کو غلط نہ کہا جائے اور انہیں باطل قرار دے کر ان کی مخالفت نہ کی جائے۔ یہ بات اسلام کے مزاج اور بنیادی عقیدہ کے خلاف ہے اور اسی طرح کی بات ہے جو مشرکین مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشکش کے طور پر کہی تھی کہ آپ ہمارے بتوں کو غلط کہنا چھوڑ دیں اور ہم آپ کے رب کی پرستش میں شریک ہو جاتے ہیں، اس طرح ایک دوسرے کی مخالفت کیے بغیر ہم باہمی رواداری کے ساتھ اکٹھے رہ سکیں گے۔ لیکن قرآن کریم نے سورہ الکافرون کی صورت میں اس پیشکش کو یکسر مسترد کر دیا تھا اور عقیدہ کے حوالے سے کوئی لچک یا ایڈجسٹمنٹ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ آج بھی دینی نصاب تعلیم کے حوالہ سے یہی صورتحال ہے، مسلمانوں سے تقاضا ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کی نفی نہ کریں، انہیں بھی اسلام کی طرح ایک صحیح مذہب کے طور پر برداشت کریں اور ان کے بارے میں رواداری کا وہ ماحول پیدا کریں جو مغرب میں ہے، جہاں دوسرے مذاہب تو کجا، خود اپنے مذہب کے بارے میں بھی رواداری کے نام پر بے تعلقی اور عدم دلچسپی کو عقیدہ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

    دینی مدارس سے دوسرا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے نصاب سے وہ تمام چیزیں خارج کریں جو آج کے مروجہ عالمی کلچر میں مسلم معاشرہ کے ضم ہونے میں رکاوٹ ہیں۔ جبکہ دینی مدارس کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے کہ قرآن کریم اور سنت نبویؐ کا جو محفوظ اور جامع ذخیرہ ان کے پاس موجود ہے، وہ انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اور اس لیے بھی کہ قرآن کریم اور سنت رسولؐ کی چھانٹی کر کے ان میں سے کسی چیز کو حذف کرنے، ان میں کوئی اضافہ کرنے یا ان کی طے کردہ ترجیحات کو آگے پیچھے کرنے کا مسلمانوں میں سے کسی کے پاس کسی درجے میں کوئی اختیار موجود نہیں ہے۔ نہ حکمرانوں کے پاس، نہ منتخب اداروں کے پاس، نہ علماء کرام اور دانشوروں کے پاس اور نہ ہی براہ راست عوام کے پاس اس نوعیت کا کوئی اختیار ہے۔ اس لیے اس حوالہ سے مغربی حکمرانوں کا دباؤ اور امریکہ بہادر کے تحریص اور تخویص کے حربے دینی مدارس کی مشکلات میں تو ضرور اضافہ کریں گے اور اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ ریاستی قوتیں بلکہ بین الاقوامی طاقت دینی مدارس کے موجودہ ڈھانچے میں تھوڑے بہت ردوبدل میں کامیابی حاصل کر لیں، لیکن ان کا یہ ہدف کہ قرآن و سنت کی تعلیمات میں آج کے عالمی نظام اور بالادست کلچر کے تقاضوں کی روشنی میں نظر ثانی ہو اور ترامیم یا ترجیحات میں تبدیلی کے کسی عمل سے انہیں گزارا جائے، یہ قطعی طور پر ناممکن ہے جو قیامت تک نہیں ہو سکے گا۔

    بہرحال یہ کشمکش جاری ہے اور آگے بڑھ رہی ہے۔ دینی مدارس اس سے قبل ۱۸۵۷ء کے بعد کے متحدہ ہندوستان میں اور پھر اس کے بعد سیکولر ترکی اور کمیونسٹ وسطی ایشیا میں اس قسم کی بلکہ اس سے زیادہ شدید اور سنگین صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں اور ان بحرانوں سے کامل سرخ روئی کے ساتھ عہدہ برآ ہوئے ہیں، اس لیے ان کی قیادت زیادہ پر اعتماد نظر آتی ہے کہ وہ اس بحران میں بھی سرخرو ہوں گے اور دینی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو بچانے میں کامیاب ہوجائیں گے، ان شاء اللہ تعالٰی۔

  2. دوسری طرف ملک کے ریاستی اور سرکاری تعلیمی اداروں کا نصاب و نظام تعلیم بھی ردوبدل کے اس عمل سے دوچار ہے اور اسے دو حوالوں سے یلغار کا سامنا ہے۔ ایک یہ کہ اس میں جس درجہ میں بھی دینی تعلیم اور اسلامی اقدار کا مواد موجود ہے، اسے نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جہاد کی آیات نصاب سے نکالنے کی کوشش پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ ہو چکا ہے اور حکمران گروہ لوگوں کو یہ یقین دلانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے کہ نصاب میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔ جبکہ سرکاری تعلیمی بورڈ کو آغا خان فاؤنڈیشن کے تعلیمی نظام کے ساتھ نتھی کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آغا خان فاؤنڈیشن کے ذریعے سے ایجوکیشن بورڈز اور تعلیمی نصابوں کو ازسرنو سیکولر تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اسلام کی تعلیم کا جو عنصر کسی بھی درجہ میں موجود ہے، اسے خارج کرکے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے نام پر پورے نصاب تعلیم کو سیکولر بنا دیا جائے۔ ایک طرف وفاقی وزراء نصاب سے اسلامی مواد خارج نہ کرنے کی یقین دہانی کرانے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف آغا خان فاؤنڈیشن کے ساتھ تعلیمی بورڈز کو نتھی کر کے عملاً تمام تبدیلیوں کی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔
  3. اس عالمی یلغار کے تیسرے ریلے کا رخ بھی ریاستی اور حکومتی تعلیمی نظام و نصاب کی طرف ہے اور اس کا ہدف یہ ہے کہ تعلیمی نصاب میں جو مواد بھارت کے بارے میں منفی جذبات کا باعث بن رہا ہے، وہ خارج کر دیا جائے۔ اس کی زد میں تاریخ بھی ہے کہ مغلوں کی بادشاہت کا تذکرہ بھارت کے لیے قابل قبول نہیں ہے، تحریک آزادی کے بہت سے مسلم ہیرو بھارت کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتے، کشمیر اور اس کی تحریک آزادی کا تذکرہ بھارت کے خلاف منفی جذبات ابھارتا ہے اور ۱۹۶۵ء کی جنگ کے شہداء بھی بھارت کی جارحیت کے خلاف دفاع وطن کا جذبہ پیدا کرنے میں خاصا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سارا مواد تعلیمی نصاب سے خارج کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگا کر پاکستان کو عالم اسلام اور اسلامی برداری سے الگ کرنے کے بعد اب دوسرے مرحلے میں اسے جنوبی ایشیا کی کسی یونین یا کنفیڈریشن کا حصہ بنانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ اور ہمیں اس مہم کو دیکھ کر برادر مسلم ملک ترکی یاد آرہا ہے جسے کہا گیا تھا کہ وہ ترکی ہے، یورپین ہے اور مغرب کا حصہ ہے، اسے عالم اسلام کی چودھراہٹ سے کیا سروکار ہے؟ وہ مسلم دنیا کی چودھراہٹ چھوڑ دے، عالم عرب اور عالم اسلام سے الگ ہوجائے اور ’’سب سے پہلے ترکی‘‘ کو اپنا ہدف بنائے۔ اس غریب نے ایسا ہی کیا اور اس کے لیے بہت کچھ قربان کر دیا لیکن ’’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘ کے مصداق اس کے ہاتھ سے عالم اسلام کی چودھراہٹ بھی گئی، خلافت اور اسلامی نظام قانون بھی ہاتھ سے جاتا رہا، اور یورپی یونین میں شرکت کا خواب بھی پورا نہ ہوا۔

    پاکستان بنانے والوں نے اسے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے مرکز اور مسلم دنیا کی قیادت کے لیے تشکیل دینے کا تصور پیش کیا تھا۔ علامہ محمد اقبالؒ کا خواب یہی تھا اور قائد اعظمؒ تحریک پاکستان کے دوران میں مسلسل یہ بات دہراتے رہے کہ وہ اسلامی تہذیب کے احیا اور ایک فلاحی اسلامی ریاست کا نمونہ پیش کرنے کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن آج یہ سارا فلسفہ، پوری سوچ اور مکمل جدوجہد جنوبی ایشیا کی اجتماعیت اور عالمی ہم آہنگی کے نام پر عالمی استعمار کے ایک اشارۂ ابرو پر قربان کی جا رہی ہے۔ یہ امتحان کا وقت ہے اور آزمائش کا مرحلہ ہے، علماء کرام کے لیے بھی اور محب وطن دانشوروں کے لیے بھی کہ وہ قوم کو اس بحران سے نکالنے کے لیے کیا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری دینی قیادت اور قومی دانش کو اس نازک مرحلہ میں صحیح اور دانش مندانہ فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔