تعلیمی نصاب میں اصلاحات کی نئی بحث اور SDPI کی رپورٹ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ مارچ ۲۰۰۴ء
اصل عنوان: 
تعلیمی نصاب میں اصلاحات کی نئی بحث

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کی بحث ابھی جاری تھی کہ ریاستی تعلیمی نصاب میں اصلاحات و ترامیم کا ’’پنڈوراباکس‘‘ بھی کھول دیا گیا ہے اور مختلف رپورٹوں اور تجاویز کی صورت میں یہ تقاضے شروع ہوگئے ہیں کہ عالمی اور جنوبی ایشیا کی سطحوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ریاستی تعلیمی نظام کی ’’اوورہالنگ‘‘ کی جائے اور نصاب کے اہداف اور مواد، دونوں پر نظر ثانی کرکے اسے ازسرِنو ترتیب دیا جائے۔

عالمی تبدیلیوں اور جنوبی ایشیا کے حالات میں تغیر کے حوالے سے ہمارے بعض دانشوروں کا خیال یہ ہے کہ مغرب نے ٹیکنالوجی، دولت اور عسکری بالادستی کے زور پر جو فلسفہ حیات اور تہذیب دنیا پر مسلط کر دی ہے، وہ اب ’’حرف آخر‘‘ ہے اور چونکہ مغربی دانشور موجودہ دور کو ’’اینڈ آف دی ہسٹری‘‘ قرار دے کر اب مزید ارتقا اور تغیر کے امکانات کو رد کر رہے ہیں اور موجودہ عالمی صورتحال کو ہی انسانی سوسائٹی کی ترقی اور ارتقا کی معراج تصور کر رہے ہیں، اس لیے ہمیں بھی اس پر ’’ایمان‘‘ لے آنا چاہیے اور اپنی تعلیم و تہذیب، عقیدے اور روایات و اقدار کے ہر اس حصے سے دستبردار ہو جانا چاہیے جو مغرب کے فلسفے اور تہذیب سے متصادم ہے یا اس کی بالادستی اور عملداری میں کسی بھی درجے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اسی طرح جنوبی ایشیا کے لیے دنیا کی بالاتر قوتوں نے مستقبل کا جو کردار متعین کر دیا ہے، وہ بھی کسی نظرثانی، ترمیم یا استرداد کا محتاج نہیں ہے، لہٰذا ہمیں اسے صدق دل سے قبول کر کے وہ تمام لکیریں اور دائرے مٹا دینے چاہئیں جو دنیا کے اس خطے کے بارے میں بالادست قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کی راہ میں حائل ہو رہے ہیں۔

اس وقت دنیا میں ٹیکنالوجی، دولت اور اسلحہ پر جن قوتوں کی اجارہ داری ہے، وہ یہ سمجھتی ہیں کہ نسل انسانی کی علمی و فکری اور تہذیبی قیادت بھی انہی کا حق ہے اور ان کے علم، فلسفہ اور تہذیب کے علاوہ اور کسی علم، فلسفہ و فکر اور ثقافت کو دنیا میں زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کا حق حاصل نہیں رہا۔ اس لیے وہ یہ چاہتی ہیں کہ سیاست و معیشت اور عسکریت کے شعبوں کی طرح تعلیم اور تہذیبی میدانوں میں بھی انہی کی بات مانی جائے اور انہی کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔ مغرب کے بالادستی کے اس جنون کی راہ میں مذہب اور ثقافت کے دو عنصر ہی رکاوٹ بن سکتے تھے، اس لیے اس نے دنیا کے مختلف حصوں میں مذہب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کرنے اور علاقائی ثقافتوں کو مغربی ثقافت میں ضم کرنے کے لیے مسلسل محنت کی جس میں اسے خاصی کامیابی بھی حاصل ہوئی اور بہت سے مذاہب کے پیروکاروں اور علاقائی ثقافتوں کے علمبرداروں نے ہتھیار ڈال کر دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ لیکن مسلم دنیا میں اسلام کے ساتھ مسلمانوں کی عملی و تہذیبی وابستگی بالادست قوتوں کے اس جنون کی تکمیل میں ’’کباب کی ہڈی‘‘ ثابت ہو رہی ہے اور دو صدیوں کی مسلسل محنت کے باوجود مسلم معاشروں کو اس بات کے لیے تیار نہیں کیا جا سکا کہ وہ معاشرتی زندگی کے ساتھ مذہب کے تعلق سے دستبردار ہو جائیں اور اپنی علاقائی ثقافتوں کو مکمل طور پر مغربی ثقافت میں ضم کر دیں۔

اس سلسلہ میں سب سے زیادہ مشکل پاکستان میں پیش آ رہی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا قیام ہی مسلم تہذیب و ثقافت کے تحفظ و احیا کے نعرے کے ساتھ عمل میں آیا تھا، اور جنوبی ایشیا میں اس کا الگ تشخص صرف اور صرف یہ ہے کہ مسلم تہذیب و ثقافت کو اس خطے کی دوسری اقوام کی تہذیب و ثقافت سے الگ قرار دیتے ہوئے اس کے لیے الگ مملکت کا قیام ضروری سمجھا گیا تھا۔ ورنہ اگر یہ امتیاز اور تشخص تسلیم نہ کیا جائے تو ایک الگ ملک کے طور پر پاکستان کے قیام کا اور کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا جسے بطور ملک پاکستان کے الگ وجود کی بنیاد قرار دیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام و نصاب میں اصلاح کی بات عالمی ماحول کے حوالے سے ہو یا جنوبی ایشیا کے پس منظر میں، دونوں صورتوں میں اس کا سب سے بڑا ہدف اسلامی تعلیمات ہی قرار پاتی ہیں اور قرآن و سنت کی تعلیمات اور اسلامی تاریخ کے مواد کو تعلیمی نصاب سے خارج کیے بغیر ملک کے تعلیمی نصاب کو ان گلوبل اور علاقائی تقاضوں کے سانچے میں ڈھالنا ممکن دکھائی نہیں دیتا، جن تقاضوں کو ’’تقدیر‘‘ کا درجہ دے کر ہم سے انہیں بہرحال پورا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ظاہر بات ہے کہ جب تعلیمی نصاب میں قرآن کریم اور حدیث نبویؐ کا معتد بہ حصہ شامل ہوگا تو اسے ایمان و عقیدہ کے ساتھ پڑھنے والے نوجوانوں کے لیے نہ عالمی سطح پر بالاتر تہذیب و ثقافت کو قبول کرنا آسان ہوگا اور نہ جنوبی ایشیا کی بالادست ہندو ثقافت کو ہضم کرنا ان کے بس میں ہوگا۔ کیونکہ قرآن و سنت میں عقیدہ، خاندانی نظام اور ثقافتی اقدار کے حوالے سے مسلمانوں کو اپنا الگ امتیاز و تشخص قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، دوسری قوموں کے عقائد، خاندانی سسٹم اور تہذیب و ثقافت کے ساتھ اختلاط سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہے، اور اپنے عقیدہ و ثقافت کے ساتھ صرف وابستگی ہی کی تلقین نہیں کی گئی، بلکہ اسے دوسری قوموں کے سامنے پیش کرنے اور اس کا دائرہ دنیا کی تمام اقوام تک وسیع کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں، جن کی موجودگی میں دنیا کی تمام اقوام کے عقیدوں، تقاضوں اور خاندانی نظاموں کے ادغام و اختلاط کا وہ مقصد مسلم معاشرے میں حاصل ہونا قطعی طور پر ناممکن ہو جاتا ہے جو آج کی بالادست قوتوں کی تمام تر تگ و تاز کا سب سے بڑا ہدف بن چکا ہے۔

اسی طرح اسلامی تاریخ کا معاملہ ہے۔ عالمی حوالے سے حضرت خالد بن ولید، حضرت ابو عبیدہ، طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی، اور نور الدین زنگی جیسے جرنیلوں، اور جنوبی ایشیا کے پس منظر میں محمد بن قاسم، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، ظہیر الدین بابر، اور احمد شاہ ابدالی جیسے فاتحین کا تذکرہ نصاب میں ہوگا تو مسلمانوں اور ہندوؤں میں رواداری اور ہم آہنگی کا وہ ماحول پیدا نہیں کیا جا سکے گا جو آج کی بالادست قوتیں پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ پھر جہاد کا مسئلہ بجائے خود سب سے زیادہ اہمیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیم ہوگی تو جہاد کی تعلیم بھی ہوگی، اس کے فضائل بھی ہوں گے، اس کے احکام بھی ہوں گے اور اس کی ترغیب بھی ہوگی۔ اب یہ بات تو کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے کہ قرآن کریم پڑھایا جائے، حدیث و سنت کی تعلیم دی جائے اور فقہ اسلامی کی تدریس ہو مگر ان میں سے جہاد کے حصوں کو نکال دیا جائے۔

یہ بات سیکولر حلقوں کے لیے الجھن کا باعث بنی ہوئی ہے اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس سب کچھ کی موجودگی میں پاکستانی معاشرے کو نہ تو عالمی ماحول اور بالادست قوتوں کے لیے پوری طرح قابل قبول بنایا جا سکتا ہے اور نہ جنوبی ایشیا اور سارک ممالک کے ساتھ اس سطح پر ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے جس کو اس خطہ میں عالمی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ضروری سمجھ لیا گیا ہے۔ ہمارے سیکولر دانشوروں نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ پاکستان کے ریاستی نصاب تعلیم سے قرآن و سنت اور اسلامی تاریخ کے ان حصوں کو خارج کر دیا جائے جو مسلم اور غیر مسلم کا فرق قائم رکھنے کا ذہن پیدا کرتے اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس لیے ان دونوں حوالوں سے ملک کے مروجہ ریاستی تعلیمی نصاب و نظام کے بارے میں جو رپورٹیں سامنے آرہی ہیں، ان میں اس کا ’’پوسٹ مارٹم‘‘ کیا جا رہا ہے، اس کی خامیوں کی نشان دہی کی جا رہی ہے، اور اصلاحات و ترامیم تجویز کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں اسلام آباد کے ایک ادارے ’’سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ‘‘ (SDPI) کی ایک تفصیلی رپورٹ کا خلاصہ ہمارے سامنے ہے جس میں مروجہ ریاستی تعلیمی نصاب کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق پاکستان کے ریاستی نصاب تعلیم میں جو باتیں قابل اعتراض اور لائق اصلاح ٹھہرائی گئی ہیں، ان میں سے چند اہم باتیں درج ذیل ہیں:

  • نظریہ پاکستان کے نام سے ہندوؤں، مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان نفرت پیدا کی جا رہی ہے اور اسرائیل کے خلاف بھی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔
  • جہاد اور شہادت کو عظمت دی جا رہی ہے جس سے ہماری نسلوں میں دہشت گردی پیدا ہو رہی ہے۔
  • قرآن کی تدریس غیر ضروری طریقے سے سب پر ٹھونسی جا رہی ہے۔
  • ہر طرف سے اسلامیات کے مضمون کو حاوی کر دیا گیا ہے۔
  • جو لوگ مسلمان نہیں ہیں، انہیں کافر قرار دے کر ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔
  • راجہ داہر کو لٹیرا، راہزن اور برے حکمران کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے اور محمد بن قاسم، محمود غزنوی اور محمد غوری کو ہیرو بنایا جا رہا ہے جبکہ تاریخی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
  • پاکستان کو اسلامی ملک قرار دیتے ہوئے اس کے نظام تعلیم کو اسلامی رنگ میں رنگنے اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینے پر زور بڑھتا جا رہا ہے۔

یہ ان اعتراضات و تنقیدات کے چند پہلو ہیں جو صرف نمونے کے طور پر نقل کیے جا رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کے ریاستی تعلیمی نصاب کو عالمی اور جنوبی ایشیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے نام پر اس میں کس قسم کی ترامیم کا خاکہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی کم تشویشناک نہیں ہے کہ ملک کے تعلیمی نصاب کو آغا خان فاؤنڈیشن کے ساتھ وابستہ کیا جا رہا ہے، اگرچہ اس کی عملی شکل اس وقت ہمارے سامنے واضح نہیں ہے۔

ہمیں عالمی ماحول اور جنوبی ایشیا کے مستقبل کے تقاضوں سے انکار نہیں، نہ ہی مشترکہ امور میں ہم آہنگی کی ضرورت کو مسترد کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے اپنے وجود، تشخص، عقیدہ، تہذیب، مذہب اور ماضی سے دستبردار ہو کر ان میں ضم ہونا ضروری نہیں، بلکہ اپنے عقیدہ و ثقافت اور روایات و اقدار پر قائم رہتے ہوئے بھی مشترکہ امور میں تعاون و مفاہمت کی فضا پیدا کی جا سکتی ہے۔ ہم نے اپنے عروج و اقتدار کے دور میں ایک ہزار سال تک مذہب اور ثقافت کے فرق کو برقرار رکھتے ہوئے جنوبی ایشیا میں باہمی رواداری اور ہم آہنگی کا جو ماحول قائم رکھا ہے، آج اس رواداری اور ہم آہنگی کے لیے مذہبی تعلیمات اور تہذیبی امتیازات سے دستبردار ہونا کیوں ضروری سمجھا جا رہا ہے؟ سیکولر دانشوروں سے گزارش ہے کہ وہ گلوبلائزیشن اور جنوبی ایشیا کے سیاسی تغیرات کو سیاست ہی کے دائرے میں رہنے دیں اور اس تاریخی حقیقت کو نگاہوں سے کبھی اوجھل نہ ہونے دیں کہ مسلمانوں نے اپنے عقیدہ اور ثقافت کے حوالے سے کسی بھی منفی کوشش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا۔