محنت کش اور اسلامی نظام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
یکم اپریل ۱۹۸۳ء

محنت انسانی عظمت کا ایک ایسا عنوان اور اجتماعیت کا ایک ایسا محور ہے جس کے گرد انسانی معاشرہ کی چکی گھومتی ہے اور جس کے بغیر نوع انسانی کی معاشرت اور اجتماعیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کے خالق و مالک نے انسانی معاشرہ کے لیے جو فطری نظامِ زندگی نازل فرمایا اس میں محنت کی عظمت کا نہ صرف اعتراف کیا گیا ہے بلکہ دینِ خداوندی کو پیش کرنے والے عظیم المرتبت انبیاء علیہم السلام کو ’’محنت کشوں‘‘ کی صف میں کھڑا کر کے خداوندِ عالم نے محنت کو پیغمبری وصف کا درجہ عطا فرمایا۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق:

  • آدم علیہ السلام نے کاشت کاری کی، سوت کاتا۔
  • نوح علیہ السلام نے لکڑی کا کام کیا اور اپنی محنت سے کھاتے تھے۔
  • ادریس علیہ السلام درزی تھے۔
  • شیث علیہ السلام سوت کاتتے تھے۔
  • داؤد علیہ السلام بادشاہ ہونے کے باوجود لوہے کی زرہیں بناتے اور ان کی کمائی کھاتے تھے۔

خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت کو اپنا شعار بنایا، بیت اللہ کی تعمیر نو، مسجد کی نبویؐ کی تعمیر اور مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے خندق کھودتے وقت آپؐ نے ’’محنت کش‘‘ کا جو عظیم کردار دنیا کے سامنے پیش کیا وہ محنت کشوں کے لیے مشعلِ راہ ہے:

  • حضرت جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ ہم غزوۂ احزاب کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک سخت چٹان آڑے آگئی۔ آنحضرتؐ کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا تو آپؐ اس حالت میں کہ تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا اور بھوک کی شدت کے باعث پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا، تشریف لائے، کدال اٹھائی اور چٹان کو ریزہ ریزہ کر دیا ۔ (بخاری ص ۸۸ ج ۲)
  • حضرت براء بن عاذبؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ خندق کی کھدائی کے موقع پر اپنے ہاتھوں سے مٹی اٹھا اٹھا کر باہر پھینکتے تھے۔ (بخاری ص ۵۸۹ ج ۲)
  • صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اکثر محنت کش تھے۔ بخاری ص ۲۷۸ ج ۱ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ اور ابوداؤد ص ۵۱ ج ۱ میں حضرت عکرمہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الہ علیہ وسلم کے صحابہ کرامؓ ’’عمال انفسہم‘‘ (اپنے کام کاج خود کرنے والے) محنت کش تھے اور موٹا جھوٹا پہنتے تھے جس کی وجہ سے جمعہ کے اجتماع کے موقع پر ان کے پسینہ کی بو پھیلتی تھی۔ اسی بنا پر آنحضرتؐ نے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’محنت کش‘‘ کی کمائی کو سب سے اچھی کمائی قرار دیا۔ بخاری ص ۲۷۸ ج ۲ میں حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اس سے اچھی کمائی کوئی نہیں کہ انسان اپنے ہاتھ کی محنت سے کھائے۔

اس کے ساتھ ہی جناب رسول اللہؐ نے محنت کشوں کو معاشرہ میں ان کا صحیح مقام دلانے کے لیے جو ہدایات فرمائیں اور قرآن و حدیث میں محنت کشوں کے معاشرتی مقام کا جو نقشہ کھینچا دنیا کا کوئی نظام بھی اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا۔ آنحضرتؐ کی بعثت سے قبل محنت کشوں، غلاموں اور نچلے طبقے کے لوگوں کو معاشرہ میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، نام نہاد بڑے لوگ ان کے ساتھ بیٹھنا توہین سمجھتے تھے اور انہیں وہ حقوق حاصل نہ تھے جو انسانی معاشرہ میں حاصل ہونے چاہئیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت کشوں کو ان کے صحیح مقام و مرتبہ سے سرفراز فرمایا۔ محنت کشوں سے ’’وڈیروں‘‘ کی نفرت کا اندازہ اس واقعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں جناب نبی اکرمؐ کی مجلس میں حضرت بلالؓ، حضرت خبابؓ، حضرت عمارؓ اور حضرت زیدؓ جیسے حضرات بھی تھے۔ اتنے میں چند کافر سردار آئے کہ ہم آپ کی بات سننا چاہتے ہیں اور شاید سمجھ کر مان بھی لیں لیکن ’’ضعفاء‘‘ کے ساتھ بیٹھنا ہماری توہین ہے، آپ ہمیں الگ مجلس میں اپنی بات سمجھائیں۔ سرداروں اور وڈیروں کی یہ فرمائش اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ کے ساتھ رد فرمائی ہے کہ:

’’اے حبیبؐ! (ان کافروں وڈیروں کی وجہ سے ) ان لوگوں کو دور نہ ہٹائیں جو صبح شام اپنے رب کو اس کی رضا کے لیے یاد کرتے ہیں، نہ ان کے حساب کی آپ پر ذمہ داری ہے اور نہ آپ کے حساب کی ان پر ذمہ داری ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ ان کو (اپنی مجلس سے) ہٹا دیں تو آپ کا شمار نا انصافوں میں ہو جائے‘‘۔ (سورہ الانعام)

نبی اکرم صلی الہ علیہ وسلم نے غلاموں کے بارے میں، جو محنت کشوں کا سب سے نچلا درجہ اور کمزور طبقہ شمار ہوتا تھا، حسن سلوک کی بار بار نصیحت فرمائی، حتیٰ کہ آپ کی آخری وصیت (الصلاۃ وما ملکت ایمانکم) بھی نماز کی پابندی اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی دو ہدایات پر مشتمل تھی۔ آپؐ نے غلاموں کو معاشرہ میں معیارِ زندگی کے لحاظ سے دوسرے لوگوں کے مساوی درجہ عطا فرمایا اور واضح طور پر ہدایت فرمائی کہ:

’’یہ غلام تمہارے ہی بھائی اور ساتھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے۔ پس تم میں سے کسی شخص کے تحت اس کا بھائی ہو تو اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے، وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے اور ایسا کوئی کام اس کے ذمہ نہ لگائے جو اس کے بس سے باہر ہو۔‘‘ (بخاری ص ۹ ج ۱)

جناب رسول اللہؐ کے اس واضح ارشاد سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے کہ جب مالک اور اس کے خرید کردہ غلام کے درمیان معیارِ زندگی کی برابری اسلامی نظام کا بنیادی تقاضا ہے تو آج کارخانہ دار اور مزدور کے درمیان بھی معیار زندگی کی برابری قائم کر کے ہی اسلامی نظام کو صحیح طور پر روبہ عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ آنحضرتؐ کے اس ارشاد پر صحابہ کرامؓ نے انفرادی اور اجتماعی طور پر جس طرح عمل کیا اور خلافتِ راشدہ کی صورت میں اسلامی نظام کا جو مثالی معاشرہ دنیا کے سامنے پیش کیا، دنیا کی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

انفرادی طور پر:

  • حضرت عثمانؓ اپنے غلاموں کو خود اپنے معیار کا کھانا اور لباس مہیا فرماتے۔
  • حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اپنی لڑکیوں اور لونڈیوں کو ایک جیسا زیور پہناتے۔
  • حضرت ابوذر غفاریؓ اپنا اور اپنے غلام کا لباس ایک ہی کپڑے سے سلواتے۔

اور اجتماعی طور پر:

  • اس معاشرہ میں جہاں بڑے اور چھوٹے طبقوں کی واضح تقسیم موجود تھی، اسلام نے خلافتِ راشدہ کی صورت میں ایسے معاشرہ کی بنیاد ڈالی جس میں بڑے چھوٹے اور متوسط طبقوں کا وجود باقی نہیں رہا تھا۔ معاشرہ میں امیر المؤمنین، صوبوں کے گورنر اور عمال کا طبقہ بھی موجود تھا اور اس حکمران طبقہ کا معیارِ زندگی وہی تھا جو ایک عام آدمی کا تھا۔
  • حضرت ابوبکرؓ کے لیے بیت المال سے وظیفہ کے تعین کے لیے مشورہ ہو رہا تھا تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آپ کی اور آپ کے اہل و عیال کی ضروریات کو معروف طریقہ سے (عام آدمی کی طرح) پورا کرنے کے لیے جتنا وظیفہ ضروری ہو وہی آپ کا ہے۔ اصحابِ شوریٰ نے حضرت علیؓ کے قول کو پسند کیا اور اسی پر فیصلہ ہوگیا (طبری ص ۱۶۴ ج ۴) ۔ جبکہ حضرت عمرؓ نے بھی اپنا اور اپنے گورنروں اور عمال کا وظیفہ عام آدمی کے گزارے کے مطابق مقرر فرمایا۔
  • معاشرہ میں حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اور حضرت عثمان جیسے مالدار تاجر بھی تھے مگر ان کا رہن سہن اور کھانا پینا معاشرہ کے عام آدمی کی طرح تھا۔ اور ان کی دولت ذاتی تعیش اور نمود پر صرف ہونے کی بجائے غرباء اور معاشرہ کی فلاح و بہبود میں صرف ہوتی تھی۔

الغرض آج جس طرح معاشرہ بڑے طبقے، متوسط طبقے اور چھوٹے طبقے میں تقسیم ہو چکا ہے اور اصحابِ ثروت نے دولت کے اظہار و تعیش کے لیے ہر شہر میں اپنے الگ الگ محلے بسا لیے ہیں، خلافتِ راشدہ کے دور میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بلکہ اسلام نے پہلے سے موجود طبقاتی تقسیم کو ختم کر کے خلافتِ راشدہ کی صورت میں ایک خالصتاً غیر طبقاتی معاشرہ پیش کیا۔ اور یہاں اس حقیقت کا اظہار شاید بے محل نہ ہو کہ آج کمیونزم کے جس خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہے اس کی بنیادی وجہ معاشرہ کی طبقاتی تقسیم ہی ہے جس کے نتیجہ میں ایک طرف دولت سے کھیلنے والوں اور بات بات پر دولت کی نمائش کرنے والوں کا طبقہ بلند و بالا محلوں میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے اور دوسری طرف اسی معاشرہ میں آبادی کی اکثریت روز مرہ ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ کمیونزم ہمیشہ معاشرہ کی طبقاتی تقسیم سے جنم لیتا ہے اس لیے کمیونزم کا راستہ بھی صرف اسی صورت میں روکا جا سکتا ہے کہ معاشرہ میں معیار زندگی کی برابری کا اصول اپنا کر خلافتِ راشدہ کی طرز پر غیر طبقاتی معاشرہ کی تشکیل کے لیے اجتماعی اور ہمہ گیر جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔ ورنہ کمیونزم کا راستہ صرف نعروں اور جذباتی تقریروں سے نہیں روکا جا سکے گا۔

ہمارا آج کا موجودہ اقتصادی و معاشی نظام نوآبادیاتی دور کی یادگار ہے، اسلام کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس نظام کو تبدیل کر کے محنت کشوں کو معاشرہ میں دوسرے طبقوں کے برابر معیار زندگی کی سہولتیں فراہم کی جائیں اور حقِ ملکیت میں مساوات کا وہ واضح اور اٹل اصول اپنایا جائے جو اسلامی نظام کی اصل روح ہے۔ نامناسب نہ ہوگا اگر یہاں حقِ ملکیت میں مساوات کے اصول کی تھوڑی سی وضاحت کر دی جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اسلام معاشرہ کے مختلف طبقات اور افراد کے درمیان مساوات کا کیا اصول قائم کرتا ہے۔

اسلام نے فرد کی ملکیت کے حق کو تسلیم کیا ہے اور اسے یہ بھی اجازت دی ہے کہ وہ جائز اور حلال ذرائع سے اپنی ملکیت اور دولت میں جس قدر چاہے اضافہ کر لے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام یہ پابندی بھی لگاتا ہے کہ:

  • دولت کی اجتماعی گردش صرف سرمایہ داروں میں محدود نہ رہے بلکہ معاشرہ کے تمام طبقے اس سے فیض یاب ہوں۔ ’’لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم‘‘ (سورۃ الحشر)
  • دولت کی ایسی نمائش اور عیش و عشرت کے ایسے مواقع جن سے محروم طبقے مایوسی کا شکار ہوں یا ان میں مسابقت اور معیار زندگی میں آگے بڑھنے کا جذبہ ناجائز ذرائع کو اختیار کرنے کی سوچ پیدا کر دے، قانوناً ممنوع قرار دیے جائیں۔
  • معیارِ زندگی مثلاً خوراک، لباس اور رہائش وغیرہ معاملات میں معاشرہ کے مختلف طبقات کے درمیان یکسانیت کا اصول کار فرما رہے اور اگر اس مقصد کے لیے کسی قانونی قدغن کی ضرورت ہو تو اس سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ نے بصرہ شہر کی تعمیر کے وقت پابندی لگا دی تھی کہ کوئی شخص تین کمروں سے زائد مکان نہ بنائے اور یہ بھی ہدایت فرما دی تھی کہ مکانوں کو بلند کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ نہ کرو۔‘‘ (بحوالہ اسوۂ صحابہؓ ص ۲۶۵ ج ۱)
  • دولت اور اس کے جو ذرائع حکومت کی طرف سے تقسیم کیے جائیں ان میں بالکل برابری اور مساوات کا اصول اپنایا جائے جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ نے بیان فرمایا۔ حضرت صدیق اکبرؓ کے خلیفہ بننے کے بعد جب بحرین وغیرہ سے مال آیا تو آپؓ نے اسے مدینہ کے شہریوں میں برابر تقسیم کر دیا۔ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ حضرت لوگوں میں کچھ فضیلت اور مرتبہ والے بھی ہیں لیکن آپؓ نے سب کو برابر حصہ دیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ جہاں تک فضیلت اور درجہ کا تعلق ہے اس کا ثواب اللہ تعالیٰ دیں گے۔ ’’وھذا معاش فالاسوۃ فیہ خیر من الاثرہ‘‘ (کتاب الخراج ص ۵۰) اور یہ معیشت ہے اس میں برابری اور مساوات کا اصول ترجیح سے بہتر ہے۔
  • اور جیسا کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دولت کی مساوی تقسیم کو ہی اسلامی معیشت کا صحیح اصول قرار دیا ہے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے امام مہدیؑ کے ظہور کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب امام مہدیؑ آئیں گے تو زمین ظلم و جور سے پر ہوگی اور امام مہدیؑ ظلم و جبر کا خاتمہ کر کے دنیا بھر میں عدل و انصاف کو غالب کر دیں گے۔ پھر فرمایا ’’ویقسم المال صحاحا قال لہ رجل ما صحاحا قال بالسویۃ بین الناس، رواہ احمد و ابو یعلی و رجالہما ثقات‘‘ (مجمع الزوائد ص ۳۱۴ ج ۷) کہ امام مہدیؑ لوگوں میں صحیح طریقہ سے تقسیم کریں گے، ایک شخص نے پوچھا کہ صحیح طریقہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ لوگوں میں برابری اور مساوات کی بنیاد پر۔

الغرض اسلام نے جائز ذرائع سے دولت کمانے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ معیارِ زندگی کی برابری اور قومی سطح پر دولت اور اس کے ذرائع کی تقسیم میں مساوات کو اصول قرار دیا ہے۔ اور مساوات کے اس اصول کو قائم کرنے کے لیے بوقت ضرورت اصحابِ ثروت سے ان کا زائد مال حاصل کر کے دوسرے لوگوں میں تقسیم کرنے کا تصور بھی موجود ہے، جیسا کہ:

  • حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراحؓ نے ایک سفر کے دوران جب آپؓ کے ہمراہ تین سو صحابہؓ تھے، زادِ راہ ختم ہونے پر سب لوگوں کے زادِ راہ ان سے حاصل کر لیے اور برابری کی بنیاد پر اس میں سے ان کو خوراک دیتے رہے۔ (محلی ص ۱۵۸ ج ۶)
  • اسی طرح حضرت عمرؓ نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ جو بات میں نے اب محسوس کی ہے اگر اسے پہلے محسوس کر لیتا تو مالداروں کے زائد اموال ان سے چھین کر مہاجر فقراء میں تقسیم کر دیتا۔ (محلی ص ۱۵۸ ج ۶)

اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر معاشرہ کسی وقت اس نوعیت کی صورتِ حال سے دوچار ہو جائے تو معیارِ زندگی میں برابری اور دولت و ذرائع دولت کی تقسیم میں مساوات کے اصول کو دائرہ عمل میں لانے کے لیے اصحابِ ثروت کے زائد اموال کو ضبط کیا جا سکتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت اور محنت کش کی عظمت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ معاشرہ میں محنت کشوں کو تمام طبقوں کے برابر معیارِ زندگی کی ضمانت دی، اور دولت کے قومی ذرائع سے ہر شہری کے برابر مستفیذ ہونے کے حق کو اصول قرار دیا۔ یہ انسانی معاشرت کے ایسے فطری اور محکم اصول ہیں جن سے بہتر اصول اور کوئی نظام پیش نہیں کر سکتا۔

آخر میں ہم اپنی گزارشات کا اختتام امیر المومنین حضرت علیؓ کے اس ارشاد گرامی پر کرنا چاہتے ہیں کہ:

’’اللہ تعالیٰ نے اغنیاء کے مالوں میں فقراء کا اتنا حق رکھا ہے جس سے ان کی ضروریات کی کفایت ہو سکے۔ پس اگر فقراء بھوکے رہیں یا ننگے ہوں یا اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مشقت کا شکار ہوں تو یہ اغنیاء کی بے پرواہی اور ان کی طرف سے فقراء کے حقوق میں کوتاہی کے باعث ہوگا۔ اور ایسے اغنیاء اللہ تعالیٰ سے محاسبہ اور عذاب کے مستحق ہیں۔‘‘ (المحلی لابن حزم ص ۱۵۶ ج ۱)

درجہ بندی: