مدرسہ آرڈیننس کے مضمرات

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ جولائی۲۰۰۲ء

گزشتہ روز ملتان میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں وفاق کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی خصوصی دعوت پر شرکت کا موقع ملا۔ اگرچہ وفاق میں شامل ایک تعلیمی ادارہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی سالوں سے تدریس کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں، مگر وفاق المدارس کے کسی اجلاس میں حاضری کا پہلی بار اتفاق ہوا۔ وفاق کا قیام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا شمس الحق افغانی اور حضرت مولانا مفتی محمود رحمہم اللہ کی مساعی سے عمل میں آیا تھا جو ان بزرگوں کی مخلصانہ کوشش اور خلوص و للہیت کی وجہ سے بحمداللہ تعالیٰ اب اس مقام تک پہنچ گیا ہے کہ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کے بقول اس سال وفاق کے سالانہ امتحانات میں اٹھانوے ہزار سے زائد طلبہ اور طالبات شریک ہو رہے ہیں۔ مدارس کے نظام و نصاب میں ہم آہنگی، باہمی ربط و تعاون اور امتحانات میں یکسانی کی غرض سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مسلسل محنت اور پیشرفت دیکھ کر دیگر مذہبی مکاتب فکر بھی متوجہ ہوئے اور ان کے ہاں بھی اس قسم کے وفاقوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ چنانچہ اس وقت تمام مکاتب فکر کے پانچ وفاق کام کر رہے ہیں اور ان کے تحت کم و بیش سترہ ہزار مدارس مصروف کار ہیں جن میں سب سے بڑی تعداد وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مدارس کی ہے۔

وفاق نے نصاب تعلیم کے معیار کو بلند کرنے اور امتحانات کی نگرانی کے لیے جو متوازن طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے، اس کی وجہ سے نہ صرف یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے وفاق المدارس العربیہ کی سندات کو مختلف درجات و مراحل میں تسلیم کیا ہوا ہے بلکہ ملک کی بہت سی یونیورسٹیاں بھی اس کے معیار کو قبول کرتی ہیں۔ چنانچہ وفاق کے سربراہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان نے اس سفر کے دوران میں ایک ملاقات میں بتایا کہ انہوں نے چند سال قبل کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو دعوت دی کہ وہ خود تشریف لا کر وفاق کے امتحانات کا معائنہ کریں اور امتحانات کے دوران میں کسی روز وفاق کے نظام امتحانات کو چیک کریں۔ وہ خود تو تشریف نہ لائے البتہ شعبہ عربی اور شعبہ اسلامیات کے سربراہوں کو اس مقصد کے لیے بھیجا جنہوں نے طلبہ کو امتحانات کے مراکز میں پرچے حل کرتے دیکھا اور اپنے تاثرات یوں بیان کیے کہ ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ دینی مدارس میں امتحانات کا اس قدر مضبوط و مربوط نظام ہو گا اور نگران حضرات کی کڑی نگرانی میں طلبہ اس خاموشی اور متانت کے ساتھ پرچے حل کر رہے ہوں گے۔ ان حضرات کا کہنا تھا کہ ہمیں یوں لگ رہا تھا جیسے ہم انسانوں میں نہیں بلکہ فرشتوں کے درمیان بیٹھے ہیں اور ہم اس نظام سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔

میں نے اس موقع پر وفاق کے صدر حضرت مولانا سلیم اللہ خان اور سیکرٹری جنرل حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری سے یہ عرض کیا کہ دینی مدارس کے نظام اور معیار تعلیم وغیرہ کے حوالے سے بین الاقوامی حلقوں میں جو شدید منافرت اور غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور جسے مخصوص عالمی لابیاں اپنے مقاصد کے لیے مسلسل بڑھاتی جا رہی ہیں، ان کو کم کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وفاق المدارس تعلیم سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی اداروں کو خود دعوت دے کہ وہ پاکستان کے بڑے مدارس کا دورہ کریں، ان کے تعلیمی نظام کا براہ راست جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ امتحانات کے موقع پر مانیٹرنگ بھی کریں تاکہ ان کو اس بات کا صحیح طور پر علم ہو کہ پاکستان کے دینی مدارس کے خلاف عالمی سطح پر پھیلائی جانے والی کردارکشی کی باتوں میں کس حد تک صداقت ہے اور اس قسم کا پراپیگنڈا کرنے والوں کا اصل مقصد کیا ہے؟ وفاق کے دونوں ذمہ دار حضرات نے میری اس گزارش سے اتفاق کیا اور فرمایا کہ وہ اس تجویز کا سنجیدگی سے جائزہ لیں گے۔

وفاق المدارس العربیہ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ریگولیشن کے حوالے سے حکومت کا مجوزہ آرڈیننس زیر بحث آیا جس کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے وزراء کی طرف سے بارہا یہ یقین دہانی کرائی جاتی رہی ہے کہ اس آرڈیننس کا مقصد دینی مدارس کے نظام میں مداخلت کرنا نہیں اور نہ ہی کوئی آرڈیننس دینی مدارس کے وفاقوں کی مشاورت کے بغیر نافذ کیا جائے گا، حتیٰ کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنی ۱۲ جنوری ۲۰۰۲ء کی نشری تقریر میں پوری قوم کے سامنے یہ بات کہی تھی کہ وہ دینی مدارس کو سرکاری کنٹرول میں لے کر انہیں خراب نہیں کرنا چاہتے، لیکن جب ۶ جولائی کے مذاکرات میں دینی مدارس کے وفاقوں کو وفاقی کابینہ کا منظور کردہ مسودہ دیا گیا تو وہ ان دونوں یقین دہانیوں کے برعکس تھا۔ اسے وفاقی کابینہ میں منظور کرنے سے قبل دینی مدارس کی قیادت کو اس کے حوالے سے اعتماد میں لینے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور دینی مدارس کے داخلی نظام میں مداخلت نہ کرنے کے بار بار اعلانات کے برعکس اس آرڈیننس کو دینی مدارس کے لیے ایک ایسا شکنجہ بنا دیا گیا ہے کہ خدانخواستہ اس آرڈیننس کے نفاذ کی صورت میں ملک کا کوئی دینی مدرسہ اپنے تعلیمی کام کے تسلسل کو آزادانہ ماحول میں جاری نہیں رکھ سکتا۔

  • اس آرڈیننس کی رو سے ملک میں اس وقت موجود تمام دینی مدارس کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ خود کو حکومت کے قائم کردہ ’’مدرسہ تعلیمی بورڈ‘‘ کے ساتھ ملحق کریں اور جو مدرسہ اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد چھ ماہ تک اپنا الحاق اس بورڈ سے نہیں کرائے گا، اسے بند کر دیا جائے گا اور بورڈ کو اختیار ہو گا کہ وہ اس مدرسے کی انتظامیہ کو برطرف کر کے اپنی طرف سے انتظامیہ قائم کر دے یا اس مدرسے کو بند کر کے اس کے اثاثے اور جائیداد اپنی صوابدید پر کسی دوسرے مدرسے کو منتقل کر دے۔
  • اس آرڈیننس کی رو سے ’’سرکاری مدرسہ تعلیمی بورڈ‘‘ دینی مدارس کے نصاب میں اضافہ تجویز کرے گا جن کو قبول کرنا لازمی ہو گا۔ بورڈ امتحانات کا طریق کار وضع کرے گا، دینی مدارس کے لیے قواعد و ضوابط طے کرے گا، اساتذہ کی اہلیت کے معیار کا تعین کرے گا، امتحانات کی نگرانی کرے گا اور مختلف درجات کی سندات کے لیے نصاب کا معیار اور مواد بھی بورڈ ہی تجویز کرے گا۔ جو مدرسہ بورڈ کے طے کردہ قواعد و ضوابط اور ہدایات کی پابندی نہیں کرے گا، اس کے ذمہ دار حضرات کے لیے دو سال قید یا پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا کے ساتھ مدرسے کے انتظام سے ان کی علیحدگی بھی ضروری ہو جائے گی۔
  • آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر مدرسہ اپنی آمدنی کے ذرائع اور چندہ دینے والوں کے کوائف بورڈ کو دینے کا پابند ہو گا اور بیرون ملک سے آنے والی کسی بھی قسم کی رقوم کو بورڈ کی اجازت کے بغیر وصول نہیں کر سکے گا۔ اس کے علاوہ ہر مدرسہ اپنا اکاؤنٹ بھی بورڈ کے منظور کردہ بینک میں کھلوا سکے گا، بورڈ ہی کے مقرر کردہ آڈیٹر سے حسابات چیک کرانے کا پابند ہو گا اور بورڈ کے مقرر کردہ افسر مجاز کی طرف سے مالی بدعنوانی یا بورڈ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی شکایت پر مدرسے کی انتظامیہ کو برطرف کر کے بورڈ کی صوابدید پر نئی انتظامیہ مقرر کی جا سکے گی۔

گویا اس آرڈیننس کی رو سے حکومت نے ملک کے تمام دینی مدارس کو اپنے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ خود جنرل پرویز مشرف کے بقول ان کے نظام کو خراب کیا جائے اور ان کے اس معاشرتی و دینی کردار کا خاتمہ کر دیا جائے جس کا خود ہمارے موجودہ حکمران بھی کئی بار کھلے بندوں اعتراف کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ نے اس آرڈیننس کو ’’انسداد دینی مدارس آرڈیننس‘‘ قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے، جبکہ اس سے اگلے روز تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کے پانچوں وفاقوں نے لاہور میں اجلاس کر کے مشترکہ طور پر اس آرڈیننس کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلہ میں رائے عامہ کو منظم کرنے اور دینی و سیاسی حلقوں کو اعتماد میں لینے کے لیے مختلف شہروں میں علماء اور دینی کارکنوں کے کنونشن منعقد کرنے اور ۷ اگست کو لاہور میں کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ وفاق المدارس العربیہ اور ملک کے دیگر وفاقوں کا یہ مشترکہ موقف اور پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ معاشرہ میں دینی تعلیم کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے دینی مدارس کی آزادی اور خودمختاری اسی طرح ضروری ہے جس طرح نماز کے لیے وضو ضروری ہے۔ مجھے یاد ہے کہ حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز جب صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ تھے تو بعض دوستوں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ صوبہ کے حکمران ہیں، اس لیے انہیں صوبائی حکومت کی طرف سے دینی مدارس کی امداد کے لیے کوئی نظام وضع کرنا چاہیے۔ مفتی محمود صاحب خود اس وقت وفاق المدارس العربیہ کے سربراہ تھے، لیکن انہوں نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا اور فرمایا کہ میں نے ہمیشہ حکمران نہیں رہنا۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور ان کے مفادات اور ترجیحات بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں، اس لیے دینی مدارس کے نظام کو ان تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے اور ان کی آزادی کی حفاظت ہر چیز پر مقدم ہے۔

جنرل پرویز مشرف سے بھی یہی گزارش ہے کہ وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، کیونکہ دینی مدارس کی جن اچھائیوں کا وہ خود اعتراف کر رہے ہیں، ان اچھائیوں کی بنیاد ان کی آزادی اور خودمختاری پر ہے جس کے لیے انہیں سرکاری اہلکاروں کی مداخلت اور بیوروکریسی کے کنٹرول سے بچانا ضروری ہے، ورنہ ان کی کابینہ کے منظور کردہ آرڈیننس کے (خدانخواستہ) نفاذ کی صورت میں دینی مدارس کا حشر کیا ہو گا، اس کا حال معلوم کرنے کے لیے وہ جامعہ عباسیہ بہاولپور اور جامعہ عثمانیہ گول چوک اوکاڑہ کی فائلیں منگوا کر پڑھ لیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ملک کے تمام دینی مدارس کو جامعہ عباسیہ اور جامعہ عثمانیہ بنانا پسند نہیں کریں گے۔