وحدت امت اور تحفظ ختم نبوت کے ضروری تقاضے

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۲ نومبر ۲۰۱۹ء

لاہور میں ’’جامعۃ العروۃ الوثقٰی‘‘ کے نام سے اہل تشیع کا ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے جو آغا سید جواد نقوی کی سربراہی میں کام کر رہا ہے اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد وہاں مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ مشترکہ دینی و قومی معاملات میں ملی مجلس شرعی کے فورم پر ان کا ہمارے ساتھ رابطہ رہتا ہے اور نقوی صاحب کے نائب علامہ توقیر عباس اجلاسوں میں ان کی اکثر نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک عرصہ سے ان کا تقاضہ تھا کہ جامعہ کی سالانہ کانفرنس میں شریک ہوں مگر موقع نہیں بن رہا تھا۔ گزشتہ دنوں چیمبر آف کامرس گوجرانوالہ میں منعقدہ ہمارے ایک پروگرام میں آغا سید جواد نقوی تشریف لائے تو انہوں نے ۱۷ نومبر کو منعقد ہونے والی ’’وحدت امت ختم نبوت کانفرنس‘‘ میں شرکت کی دعوت دی جو میں نے قبول کر لی اور اپنے عزیز ساتھیوں حافظ امجد محمود معاویہ، حافظ نصر الدین خان عمر اور حافظ شاہد میر کے ہمراہ کانفرنس کی ظہر سے پہلے والی نشست میں شریک ہوا۔ جامعہ کا ماحول دیکھ کر احساس ہوا کہ مجھے یہاں بہت پہلے آنا چاہیے تھا اس لیے کہ علمی، فکری اور لٹریری ماحول جہاں بھی ہو ہمیشہ سے میری کمزوری چلا آرہا ہے۔ اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ کانفرنس کا عنوان ’’وحدت امت ختم نبوت کانفرنس‘‘ ہے۔ وحدت امت ہماری ضرورت ہے اور ختم نبوت اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، خدا کرے کہ یہ اجتماع اس کے لیے مفید ثابت ہو، آمین۔

ہماری وحدت امت نسل انسانی کی ضرورت بھی ہے کہ اس وقت پوری انسانی سوسائٹی کو جس ہدایت اور راہنمائی کی ضرورت ہے وہ قرآن و سنت کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے مگر ہم اسے دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچانے کی طرف متوجہ نہیں ہیں۔ اس کے لیے ہمارے ہاں یکسوئی اور وحدت درکار ہے کہ ہم اجتماعی احساس و ادراک کے ساتھ دنیائے انسانیت کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کی طرف توجہ دلا سکیں۔

وحدت امت ہماری ملی ضرورت بھی ہے کہ عالم اسلام اس وقت جن مشکلات و مسائل میں گھرا ہوا ہے اور مصائب کی جس دلدل کا شکار ہے اس سے نکلنے کے لیے وحدت ضروری ہے۔ مگر صورتحال یہ ہے کہ ہمیں لڑانے والے ہوشیار بھی ہیں، طاقتور بھی ہیں اور مسلسل متحرک بھی ہیں۔ جبکہ وحدت کی آواز اٹھانے والوں کی آواز مؤثر نہیں ہو پا رہی۔ ہمیں ہر جگہ اور ہر سطح پر باہمی تنازعات اور جھگڑوں میں الجھا دیا گیا ہے اور ان کو سمیٹنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ جبکہ پاکستان کے داخلی ماحول میں بھی وحدت امت ہی ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے جس کے لیے محنت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

اس وحدت امت کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور اسوۂ حسنہ ہماری سب سے بڑی بنیاد ہے، بالخصوص ناموس رسالتؐ اور ختم نبوت کے تحفظ کے عنوانات ہمیشہ ہماری وحدت اور یکجہتی کا ذریعہ بنتے ہیں اور ہم سارے تنازعات کے باوجود ان دونوں بنیادوں پر ہمیشہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ مگر ختم نبوت کے حوالہ سے میں ایک بات عرض کرنا چاہوں گا جو ایک عرصہ سے ہر سطح پر اور ہر ماحول میں کر رہا ہوں کہ ہمارے تین بڑے مسائل (۱) مسلم معاشرہ میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری، (۲) ناموس رسالتؐ کی پاسداری، اور (۳) عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ جو ہماری بنیادی ملی ضروریات کی حیثیت رکھتے ہیں، اس وقت عالمی اداروں اور لابیوں میں موضوع بحث ہیں اور ان تینوں حوالوں سے جو کشمکش موجود ہے وہ بین الاقوامی معاہدات کے ٹائٹل کے ساتھ عالمی اداروں، ورلڈ میڈیا اور انٹرنیشنل لابیوں میں بڑھتی جا رہی ہے، مگر وہاں تک نہ ہماری رسائی ہے اور نہ ہی نمائندگی ہے جو بہت بڑا المیہ ہے۔

میں ہر جگہ یہ بات کہہ رہا ہوں بلکہ خود مواقع تلاش کر کے مختلف حلقوں میں کہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ گزشتہ سال کے دوران مکہ مکرمہ میں رابطہ عالمی اسلامی کی کانفرنس میں حاضری ہوئی تو میں نے وہاں کے ذمہ دار حضرات کو اس طرف توجہ دلائی، جبکہ اس کے بعد تہران یونیورسٹی کی ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا تو وہاں بھی یہی گزارش پیش کی، اس کے علاوہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے متعدد پروگراموں میں یہ آواز اٹھا چکا ہوں اور وہی بات آج کے اس ماحول میں بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ (۱) شریعت کے احکام کی عملداری، (۲) ناموس رسالتؐ کی پاسداری، اور (۳) ختم نبوت کے تحفظ کے تینوں حوالوں سے اصل کشمکش بین الاقوامی اداروں میں ہے، جہاں رسائی حاصل کر کے اپنی بات وہاں تک پہنچانے اور اپنا کیس اصل جگہ لڑنے میں ہم ابھی تک سنجیدہ نہیں ہیں۔ گویا ہم فضائی جنگ زمین پر لڑنے میں مصروف ہیں وہ بھی ضروری آلات اور تکینیک اختیار کیے بغیر، یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے اور آپ حضرات کے سامنے بھی یہی درد دل لے کر حاضر ہوا ہوں۔

ہمیں دراصل بین الاقوامی معاہدات نے جکڑا ہوا ہے جو ہم پر ہماری کمزوریوں کی وجہ سے مسلط کر دیے گئے ہیں۔ عالمی اداروں نے ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں اور مغربی فلسفہ کی علمبردار لابیاں، جنہیں ہر قسم کی قوت اور سپورٹ میسر ہے، ہمارے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ تیز کرتی جا رہی ہیں۔ میں ’’وحدت امت ختم نبوت کانفرنس‘‘ کے اس فورم سے بھی یہی پیغام متعلقہ اداروں، حلقوں اور مراکز تک پہنچانا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنی علمی، فکری، ثقافتی اور دینی جنگ اس کے اصل مورچوں میں لڑنے کی صورت نکالنی ہوگی ورنہ ہم اپنی جدوجہد اور موقف کے ساتھ انصاف نہیں کر پائیں گے۔ اللہ تعالٰی ہمیں اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: