یکساں نصاب تعلیم اور دینی مدارس

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۵ جنوری ۲۰۲۰ء

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلٰی مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے گزشتہ روز درویش مسجد پشاور میں علماء کرام اور کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات و جذبات کا اظہار کیا ہے وہ پورے ملک کے دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کے دل کی آواز ہیں، بالخصوص ان کا یہ کہنا کہ حکومت کے ساتھ جو معاہدات ہوئے ہیں ان پر اگر ان کی روح کے مطابق عمل نہ ہوا تو ہم ان کی پابندی ضروری نہیں سمجھیں گے۔

دینی مدارس کے وفاقوں کی مشترکہ تنظیم ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ کے قائدین کے ساتھ وفاقی وزیر تعلیم کے چند ماہ قبل ہونے والے مبینہ معاہدہ کے بارے میں جن تحفظات کا مختلف سطحوں پر کچھ دنوں سے اظہار ہو رہا ہے اس کے پیش نظر وفاقوں کی قیادت کی طرف سے اپنے موقف کا واضح اظہار اور دینی مدارس کے منتظمین، اساتذہ، طلبہ اور معاونین کو اعتماد میں لینا ضروری ہوگیا تھا، جس کا آغاز پشاور سے ہوا ہے اور امید ہے کہ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی اس کا اہتمام کیا جائے گا۔

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان نے دو روز قبل دینی مدارس کے وفاقوں کی ذمہ دار قیادت کے ساتھ اس سلسلہ میں تفصیلی بات کی ہے ،جبکہ مختلف مکاتب فکر کے مشترکہ فورم ملی مجلس شرعی پاکستان کا ایک اجلاس لاہور میں راقم الحروف کی صدارت میں منعقد ہوا ہے جس میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ راہنماؤں نے شرکت کی اور ان کی طرف سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ان سرگرمیوں کی خبریں تفصیل کے ساتھ اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آ چکی ہیں اس لیے ان کا اعادہ کرنے کی بجائے ہم ان خدشات و تحفظات کا ایک بار پھر تذکرہ کرنا چاہیں گے جن کا اگرچہ بار بار ذکر ہوتا آ رہا ہے، مگر موجودہ حالات کے پیش نظر انہیں پھر سے ایک ترتیب کے ساتھ پیش کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے۔

  • دینی و عصری تعلیم کے درمیان پائی جانے والی موجودہ تقسیم کی ذمہ داری عام طور پر دینی مدارس پر ڈال دی جاتی ہے حالانکہ واقعاتی ترتیب یہ ہے کہ دینی و عصری تعلیموں کے یہ الگ الگ نظام ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی سے قبل موجود نہیں تھے، اور دینی و عصری علوم ایک ہی چار دیواری میں ایک ہی چھت کے نیچے صدیوں سے اکٹھے پڑھائے جا رہے تھے۔ مگر ۱۸۵۷ء کے بعد برطانوی حکومت نے نئے نظام تعلیم سے قرآن کریم، حدیث و سنت، فقہ و شریعت، عربی اور فارسی زبانوں کے مضامین خارج کر دیے جن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دینی مدارس کا نظام وجود میں آیا، جو بحمد اللہ تعالٰی پوری کامیابی اور اعتماد کے ساتھ ان علوم کی تعلیم و تدریس کا ماحول اب تک قائم رکھے ہوئے ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ان مدارس کا جداگانہ وجود و نظام اس وقت تک بہرحال موجود و متحرک رہے گا جب تک یہ مضامین ریاستی نظام تعلیم میں اسی طرح دوبارہ شامل نہیں کر دیے جاتے جیسا کہ ۱۸۵۷ء سے قبل تھے۔ کیونکہ قرآن، حدیث، فقہ اور عربی کے مضامین مسلمانوں کی ناگزیر دینی و ملی ضروریات کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں نہ ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی حیثیت میں کوئی کمی کی جا سکتی ہے۔
  • یکساں نصاب تعلیم ہماری قومی و دینی ضرورت ہے مگر یہ مذکورہ بالا علوم و مضامین کو ان کی اہمیت و ضرورت کے مطابق تعلیمی نصاب و نظام کا حصہ بنائے بغیر ممکن نہیں ہے، اور اس کے بغیر یکساں نصاب تعلیم کے نام سے کوئی کورس رائج کرنا یکسانیت کی بجائے برطانوی حکومت کے اس تعلیمی ایجنڈے کو مسلط کرنے کے مترادف ہوگا جو اس نے ۱۸۵۷ء کے بعد نافذ کیا تھا اور جسے قبول نہ کرتے ہوئے امت مسلمہ نے دینی مدارس کا الگ نظام تشکیل دیا تھا۔
  • اس تناظر میں یکساں نصاب تعلیم کی موجودہ اسکیم کے بارے میں دو واضح تحفظات سامنے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی پشت پر دو غیر ملکی ادارے متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک ’’واٹر ایڈ‘‘ نام کی برطانوی این جی او ہے جس کا عنوان تو صاف پانی کی سپلائی میں مدد دینا ہے مگر اس کی عملی سرگرمیاں تعلیمی شعبوں بالخصوص نصاب کی تیاری میں مسلسل جاری ہیں۔ جبکہ دوسری تنظیم ایک امریکی ادارہ ’’یو ایس کمیشن ان انٹرنیشنل ریلجیس فریڈم‘‘ ہے جس کے کارندے اس سارے عمل کے ہوم ورک میں سب سے زیادہ متحرک بتائے جاتے ہیں۔ اس لیے اس بات کو پس منظر میں رکھنا اب مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن سا ہو گیا ہے کہ یہ نئی تعلیمی اسکیم قومی ضروریات اور ملی تقاضوں سے زیادہ بیرونی مداخلت اور غیر ملکی دباؤ کا پس منظر رکھتی ہے، جسے قبول کرنا پاکستانی قوم بالخصوص اسلام اور نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والے عوام کے لیے کسی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔
  • یہ معروضی حقیقت بھی اس یکطرفہ تاثر کو مضبوط بنانے کا باعث بنی ہے کہ نصاب سازی کا عمل کام کرنے والے گروپوں میں دینی مدارس کے اساتذہ کی نمائندگی دکھائی نہیں دے رہی، حالانکہ دینی مدارس اور عصری سکولوں کے لیے مشترکہ نصاب تشکیل دینے والے ورکنگ گروپوں میں دونوں کی مؤثر نمائندگی اس کے مشترکہ ہونے کا منطقی تقاضہ ہے جسے یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
  • تحفظات کے دائرے میں ایک بات یہ بھی کہی جا رہی ہے کہ یکساں نصاب تعلیم اگر قومی دائرے میں ہے تو اس میں پاکستانی قوم کے ایک بڑے حصے کو تعلیم دینے والے دیگر پرائیویٹ تعلیمی نظام بھی شامل ہونے چاہئیں جو کہ نظر نہیں آرہے۔ ورنہ اگر یہ یکساں نصاب تعلیم صرف دینی مدارس اور ریاستی اسکولوں کے لیے لازمی قرار دیا جا رہا ہے اور بیکن ہاؤس طرز کے دیگر تمام پرائیویٹ تعلیمی نیٹ ورک اس سے باہر ہوں گے تو اسے ’’یکساں قومی نصاب تعلیم‘‘ قرار نہیں دیا جا سکے گا۔
  • حکومت کی طرف سے پرائمری سطح پر مشترکہ نصاب تعلیم کا خاکہ جاری کر دیا گیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے بہرحال فائنل کر کے مارچ سے عملاً نافذ کر دیا جائے گا۔ اس خاکے پر مختلف تعلیمی حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ملی ’’مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے اسے قبول نہ کرتے ہوئے اپنی طرف سے یکساں نصاب تعلیم کا متبادل خاکہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک اچھی کوشش ہوگی۔ البتہ اس سلسلہ میں میری یہ تجویز ایک عرصہ سے ریکارڈ پر موجود ہے کہ دینی مدارس کے وفاقوں کو قومی تعلیمی ضروریات اور مفادات و تحفظات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا ایک جامع مسودہ مرتب کر کے پیش کرنا چاہیے کیونکہ جب تک دونوں طرف کے مسودے سامنے نہیں ہوں گے، کوئی واضح فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔

اس لیے میں دینی مدارس کے تمام وفاقوں کی قیادت سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جس طرح ہمارے اکابر نے دستوری حوالہ سے ۲۲ متفقہ نکات پیش کر کے ایک جامع دستاویز قوم کے حوالے کی تھی اسی طرح عصری و دینی تعلیم کے جملہ شعبوں اور مراحل کے حوالہ سے ایک جامع خاکہ بھی سامنے آجانا چاہیے، تاکہ وہ ۲۲ متفقہ دستوری نکات کی طرح تعلیمی شعبوں میں قوم کی راہنمائی کی مستقل اساس بن جائے، اس کے سوا میرے خیال میں اس مسئلہ کا شاید کوئی مناسب حل نہیں نکل سکے گا۔