لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے مذاکرات میں علماء کا رویہ: چند توضیحات

   
مجلہ: 
نامعلوم
تاریخ اشاعت: 
۱۷ جولائی ۲۰۰۷ء
اصل عنوان: 
مذاکرات میں علماء کا رویہ: چند توضیحات

حامد میر صاحب ہمارے محترم دوست ہیں، تجربہ کار صحافی اور تجزیہ نگار ہیں، میرے محسن ہیں کہ کسی درجے میں چھوٹی موٹی کالم نگاری کر رہا ہوں تو اس کا باعث وہی ہیں کہ انہوں نے اور مولانا اللہ وسایا قاسم شہیدؒ نے مل کر مجھے اس راہ پر لگایا تھا۔ میں سالہا سال تک روزنامہ اوصاف، اسلام آباد میں حامد میر صاحب کی ٹیم کے ایک رکن کے طور پر ’’نوائے قلم‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتا رہا ہوں اور جب انہوں نے روزنامہ اوصاف سے علیحدگی اختیار کی تو میں بھی اوصاف کے ساتھ رفاقت قائم نہ رکھ سکا۔ حامد میر صاحب انتہائی باخبر صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں، حالات کا بہت خوبی کے ساتھ تجزیہ کرتے ہیں اور کسی بھی گفتگو کو اپنے ’’ٹارگٹ“‘‘ تک لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن کبھی کبھی ’’بادشاہی‘‘ پر بھی اتر آتے ہیں اور یہ ایک ایسا مقام ہے کہ اچھا بھلا آدمی بھی اس کے قریب سے گزرتے ہوئے بہت سے سوالیہ نشانوں کا ہدف بن جاتا ہے۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے معاملات میں قوم کو حقائق اور حالات کے معروضی تناظر سے آگاہ کرنے میں جن صحافیوں نے دن رات محنت کی اور اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں سے بھرپور کام لیا، ان میں حامد میر صاحب سرفہرست ہیں جس پر پوری قوم کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ لیکن انہوں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں لال مسجد کے حوالے سے حکومت اور عبد الرشید غازی شہیدؒ کے ساتھ مذاکرات کرنے والے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے علمائے کرام کے بارے میں کچھ ایسی باتیں لکھی ہیں جو نہ صرف یہ کہ حقائق کے منافی ہیں بلکہ حامد میر کے درجے کے صحافی کے شایان شان بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ:

  1. وفاق المدارس کے علماء حکومت کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ نہ تھے۔
  2. انہوں نے مذاکرات کے دوران کھانا منگوا کر کھانا شروع کر دیا۔
  3. وہ مذاکرات کے دوران قہقہے لگاتے رہے۔
  4. اور وہ جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کو وفاق المدارس کے حوالے کرنے کے سوال پر مذاکرات چھوڑ کر واپس چلے گئے۔

جہاں تک غیر سنجیدگی کا تعلق ہے، میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ مذاکرات کے دونوں فریق ہم سے جس قسم کی سنجیدگی کی توقع کر رہے تھے، ہم اس کا مظاہرہ نہیں کر پائے۔

  • حکومتی حلقوں کے نزدیک سنجیدگی کا معیار یہ تھا کہ وفاق المدارس کی طرف سے اسلام آباد جانے والے علمائے کرام لال مسجد کے قریب ٹاکنگ پوائنٹ پر وزراء کے ساتھ کھڑے ہو کر لال مسجد میں موجود لوگوں سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کریں، جس کے لیے ہمیں بار بار کہا گیا، لیکن ہم نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
  • دوسری طرف عبد الرشید غازی شہید کے حمایتی حلقوں کے نزدیک سنجیدگی کا مطلب یہ تھا کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہو کر تصادم کے اس ماحول میں حکومت کے خلاف محاذ آرا ہو جائیں۔ ظاہر بات ہے کہ ہم اس کے لیے بھی تیار نہیں تھے، اس لیے کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے اس تنازع کے آغاز سے جو موقف اختیار کر رکھا تھا اور جس پر ہم آج بھی قائم ہیں کہ طاقت کا استعمال کسی بھی فریق کی طرف سے درست نہیں ہے اور یہ تنازع مذاکرات کے ذریعے سے حل ہونا چاہیے۔ اس کے تحت ہم ان میں سے کوئی صورت بھی اختیار نہیں کر سکتے تھے۔

اب معلوم نہیں کہ محترم حامد میر صاحب سنجیدگی کے ان دونوں پہلوؤں میں سے کون سے پہلو کے حوالے سے وفاق المدارس العربیہ کے علمائے کرام کو غیر سنجیدہ قرار دے رہے ہیں۔

باقی رہی بات کھانا منگوانے کی تو وہ منگوایا گیا تھا اور کھایا بھی گیا تھا، لیکن منگوانے والے اور کھانے والے صرف علمائے کرام نہیں، بلکہ وزرائے کرام بھی ساتھ ہی تھے۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ آرڈر کس نے دیا تھا، لیکن میرا مشاہدہ یہ ہے کہ کھانے میں سب شریک تھے اور میں نے کسی کو کھانے سے انکار کرتے نہیں دیکھا اور یہ کوئی عیب کی بات بھی نہیں تھی۔ جو لوگ شام پانچ بجے سے اس مذاکراتی عمل میں شریک تھے اور صبح تک انہوں نے اسی عمل میں شریک رہنا تھا، انہوں نے اگر اس دوران سادہ سا کھانا منگوا کر کھا لیا ہے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا بھی کوئی سنجیدگی کی بات نہیں ہے۔

یہی صورت قہقہہ کے حوالے سے بھی ہے۔ چودھری شجاعت حسین صاحب ان مذاکرات کے دوران بیڈ پر تھے اور میں ان کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا۔ مجھے نہیں یاد کہ شام سات بجے سے رات اڑھائی بجے تک کے دوران کوئی ایسا موقع آیا ہو کہ کمرہ میں قہقہوں کی گونج اٹھی ہو اور چودھری صاحب لوگوں کو قہقہہ لگانے سے منع فرما رہے ہوں۔ اور اگر پانچ چھ گھنٹے کی مسلسل گفتگو کے دوران مختلف نوع کی باتوں میں سے کسی بات پر کسی شخص کے منہ سے قہقہہ نکل بھی گیا ہے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ اسے باقاعدہ طعن و تشنیع کا عنوان بنایا جائے اور ملک کے بڑے بڑے علمائے کرام پر اس کی پھبتی کسی جائے۔

البتہ جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کو وفاق المدارس کے حوالے کرنے کے سوال پر مذاکرات کو چھوڑ کر واپس آ جانے کی بات واقعتاً سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے۔ لیکن یہ بات خلاف واقعہ ہے، اس لیے کہ جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کو وفاق المدارس کے سپرد کرنے کی بات وفاق المدارس کے علماء کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ یہ غازی عبد الرشید شہید کی شرط تھی جو اس سے بہت پہلے حضرت مولانا محمد تقی عثمانی کے ساتھ غازی شہید کی گفتگو کے دوران سامنے آئی تھی۔ اور وہ ان دو اداروں سے اسی شرط پر دستبردار ہونے کے لیے تیار ہوئے تھے کہ انہیں وفاق المدارس کے سپرد کر دیا جائے۔ اس کے باوجود وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اسی مجلس میں کہہ دیا تھا کہ ہمیں اس بات سے دلچسپی نہیں ہے کہ ان دونوں مدارس کا انتظام وفاق المدارس ہی کے حوالے کیا جائے، بلکہ صرف اس بات سے دلچسپی ہے کہ یہ دونوں مدرسے قائم رہیں اور ان کی مدرسے کی حیثیت تبدیل نہ ہو۔ اگر انہیں وفاق المدارس کے حوالے نہیں کیا جاتا تو اسلام آباد اور راولپنڈی کے علمائے کرام کی کمیٹی بنا کر اس کے حوالے کر دیا جائے، بلکہ ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں کہ چودھری شجاعت حسین صاحب کو جامعہ حفصہ کا مہتمم بنا دیا جائے، لیکن مدرسہ کی حیثیت اور کردار تبدیل نہ کیا جائے۔

یہ ساری باتیں ان مذاکرات کے دوران ہوئی ہیں اور چودھری شجاعت حسین صاحب کے سامنے ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود اگر یہ کہا جاتا ہے کہ وفاق المدارس کے علمائے کرام جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کو تحویل میں نہ دیے جانے پر مذاکرات چھوڑ کر چلے گئے تھے تو اسے ’’بادشاہی‘‘ کے سوا اور کس عنوان سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟

اس سلسلہ میں ایک اور بات جو حامد میر صاحب نے تو نہیں لکھی لیکن بعض اور دوستوں نے سوال کیا ہے کہ رات اڑھائی بجے علمائے کرام ٹاکنگ پوائنٹ سے واپس کیوں چلے گئے، جبکہ مذاکرات ان کے بعد بھی مولانا فضل الرحمن خلیل کے ذریعے سے مزید ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہے؟ یہ بات درست ہے کہ جب ہم سے یہ کہا گیا کہ ایوان صدر سے لائے جانے والے مسودہ میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگا اور آدھے گھنٹے کے اندر اندر اس کا ہاں یا نہ میں جواب دیا جائے، اس کے بعد غازی عبد الرشید شہید کو یہ مسودہ فون پر سنایا گیا تو انہوں نے اسے قبول نہ کرنے کا حتمی فیصلہ سنا دیا تو ہمارے لیے ان مذاکرات کو مزید جاری رکھنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔ اور اس موقع پر ہم نے محسوس کیا کہ دونوں فریق اب مزید کوئی بات ہمارے بغیر صرف مولانا فضل الرحمن خلیل کے واسطے سے کرنا چاہتے ہیں تو ہم نے اسی میں مصلحت سمجھی کہ فوراً وہاں سے چلے جائیں تاکہ وہ گفتگو اگر آگے بڑھتی ہے تو ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ جب ہم وہاں سے اٹھے ہیں تو کسی نے بھی ہمیں یہ نہیں کہا کہ گفتگو ابھی جاری ہے، اس لیے آپ تھوڑی دیر اور رکیں، جس سے ہمارا یہ اندازہ اور پختہ ہو گیا کہ اب یہ حضرات ہمارے بغیر اور صرف مولانا فضل الرحمن خلیل کے ذریعے سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ ہم جب اپنی قیام گاہ پر پہنچے تو ہم نے ایک فیصلہ اور کیا کہ چونکہ مولانا فضل الرحمن خلیل کے ذریعے سے گفتگو کا ایک دور ابھی چل رہا ہے اور ہماری خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نکل آئے، اس لیے ہم سردست میڈیا سے کوئی بات نہیں کریں گے تاکہ ہماری کوئی بات خدانخواستہ اس گفتگو پر اثر انداز نہ ہو اور گفتگو ناکامی سے دوچار نہ ہو جائے۔ اسی وجہ سے ہم نے اپنے موبائل فون بند کر لیے اور کمرے بھی بند کر کے نماز فجر ادا کرنے کے بعد سو گئے۔ اسے اگر حامد میر صاحب غیر سنجیدگی سے تعبیر فرماتے ہیں تو ان سے رائے کا حق نہیں چھینا جا سکتا، لیکن ہم بحمد اللہ تعالیٰ پوری طرح مطمئن ہیں کہ ہم نے جو کچھ کیا، پورے خلوص اور شرح صدر کے ساتھ کیا اور اس المناک خونریزی کو روکنے کی اپنی بساط کی حد تک ہر ممکن کوشش کی۔