دینی مدارس کا تعلیمی نصاب اور چند ناگزیر جدید تقاضے

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ اکتوبر ۲۰۰۴ء

دو تین روز جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم کی تعلیمی مشاورت میں گزرے۔ یہ جامعہ ’’مدنی ٹرسٹ نوٹنگھم‘‘ کے زیر اہتمام مصروف عمل ہے جس کے چیئرمین میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مولانا حکیم اختر الزمان غوری اور سیکرٹری سیاکھ آزاد کشمیر کے مولانا رضاء الحق ہیں۔ دونوں کا تعلق بڑے علمی خاندانوں سے ہے۔ غوری صاحب کے والد محترم مولانا حکیم حیات علی چشتیؒ کشمیر کے بزرگ علماء اور مشائخ میں سے تھے۔ حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوریؒ اور حضرت مولانا حافظ محمد صدیق آف بھر چونڈی شریف جیسے عظیم بزرگوں کی زیارت اور ان سے استفادہ کا شرف رکھتے ہیں۔ جبکہ مولانا رضاء الحق کے دادا محترم حضرت مولانا محمد ابراہیم سیاکھویؒ اور ان کے بھائی حضرت مولانا محمد عبد اللہ سیاکھویؒ کا شمار آزاد کشمیر کے اکابر علماء کرام اور مجاہدین میں ہوتا ہے۔ مدنی ٹرسٹ میں ان کے ساتھ میرپور آزاد کشمیر کے علاقہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور دوست بھائی محمد امین ہیں جو عالم دین تو نہیں ہیں مگر دینی تعلیم کے فروغ کے لیے ان کی محنت اور جامعۃ الہدیٰ کے لیے ان کی مسلسل خدمات بہت سے علماء کرام کے لیے قابل رشک ہیں۔

جامعۃ الہدیٰ کے دو حصے ہیں۔ طالبات کے لیے اس کا تعلیمی نظام نوٹنگھم میں ہے جو ایک وسیع اور خوبصورت بلڈنگ میں ہے اور جہاں اسکول کی مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ معیاری دینی تعلیم کا نظم موجود ہے۔ گیارہ سال کی عمر کی بچیوں کے لیے سات سالہ اور سولہ سال کی بچیوں کے لیے چار سالہ کورس ہے جس میں قرآن و حدیث، فقہ اسلامی، تاریخ، عربی زبان اور دیگر متعلقہ علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مختلف درجات میں دو سو کے لگ بھگ طالبات ہیں جو ہاسٹل میں رہتی ہیں۔ لڑکوں کے لیے شیفیلڈ میں ایک اسکول کی عمارت خرید کر اس میں جامعۃ الہدیٰ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس کی تعلیمی مشاورت اور امتحانی نظام میں محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی آف اسلام آباد اور حضرت مولانا سید سلمان ندوی آف لکھنو کو سرپرست کی حیثیت حاصل ہے جو وقتاً فوقتاً جامعہ میں آتے رہتے ہیں۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا محمد اکرم ندوی اور راقم الحروف بھی اس مشاورتی نظام کا حصہ ہیں، اس لیے جب بھی حاضری ہوتی ہے، جامعہ کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی باقی مصروفیات کو سمیٹ کر دو تین روز کی مسلسل مشاورت کی بساط پھیلا لیتے ہیں۔ جامعہ کے تعلیمی نظام کا جائزہ لیا جاتا ہے، کارکردگی پر بحث ہوتی ہے، نصاب کی کانٹ چھانٹ ہوتی ہے اور مستقبل کے منصوبے زیربحث آتے ہیں۔

اس دفعہ بھی یہی ہوا اور ۲۴،۲۵،۲۶ ستمبر کے تینوں ایام اسی مشاورت میں گزرے۔ ہمارے ہاں پاکستان میں اس طرح کی طویل نشستوں کا معمول نہیں ہے۔ ہم تو زیادہ سے زیادہ چار پانچ گھنٹے کی مشاورتی محفلوں کے عادی ہیں مگر مولانا رضاء الحق برطانوی نظام تعلیم سے واقف ہیں، ان کے سسٹم کو سمجھتے ہیں اور اپنے تعلیمی کام کو جاری رکھنے کے لیے ان سے واسطہ رکھتے ہیں، اس لیے دوچار گھنٹے کی کسی نشست پر ان کی تسلی نہیں ہوتی اور کسی بھی مسئلہ کی جزئیات و تفصیلات کو اچھی طرح کھنگالے بغیر ان کا گزارا نہیں ہوتا۔ اس لیے سات سالہ اور چار سالہ نصابوں پر نظرثانی میں ہمیں تین دن لگ گئے، پھر بھی سب امور پر حتمی فیصلے نہیں کر سکے اور بعض امور کو اگلے سال کی میٹنگ تک مؤخر کرنا پڑا۔ اس سال کی مشاورت میں حکیم اختر الزمان غوری، مولانا رضاء الحق، مولانا محمد اکرم ندوی، مولانا قاری عارف محمود سیاکھوی، مولانا قاری سید ابرار حسین شاہ ہزاروی اور راقم الحروف کے علاوہ اسلام آباد کے معروف تعلیمی مرکز ادارہ علوم اسلامی بھارہ کہو کے قاری محبوب الٰہی رحیمی بھی شریک تھے۔

یہاں کے تعلیمی مسائل بھی کم و بیش وہی ہیں جن سے ہمیں پاکستان میں واسطہ پڑتا ہے۔

  1. عصری تعلیم یہاں لازمی ہے، اس کے ساتھ دینی علوم میں سے کون سے امور کو شامل کیا جا سکتا ہے اور دونوں میں توازن قائم رکھنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے؟
    • دونوں نصاب پورے پڑھائے جائیں تو چند ذہین بچوں کے سوا باقی طلبا و طالبات کے لیے بھاری بھر کم اور ڈبل نصاب بوجھ بن جاتا ہے۔ اسکول کی تعلیم کے نصاب اور معیار میں کمی رہ جائے تو طلبا اور ان کے والدین مطمئن نہیں ہوتے بلکہ یہاں کے لوکل تعلیمی سسٹم کو بھی شکایت ہوتی ہے۔
    • اور اگر دینی تعلیم کا معیار کمزور ہو تو ہماری تسلی نہیں ہوتی اور ایسے جامعات کے قیام کا مقصد فوت ہو کر رہ جاتا ہے۔
  2. دوسرا مسئلہ طلبہ و طالبات کے ذوق اور نفسیات کا ہے۔ انہیں جن مضامین کا امتحان دینے پر سرکاری سند یا ڈگری ملتی ہے، ان پر ان کی توجہ طبعی طور پر زیادہ ہوتی ہے، اور وہ دینی علوم جن پر حاصل ہونے والی سند ان کے لیے ملازمت یا مزید تعلیمی ترقی کے لیے زیادہ سود مند نہیں ہوتی، وہ اس درجہ کی توجہ نہیں حاصل کر پاتے۔
  3. تیسرا مسئلہ اساتذہ کا ہے کہ تعلیمی نصاب و نظام میں جن تبدیلیوں کے ہم خواہاں ہیں، ان کے لیے اساتذہ کی ذہنی تیاری اور عملی تربیت کا ماحول موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کسی اور ماحول میں تعلیم حاصل کی ہے اور ہم ان سے مختلف ماحول میں کام لینا چاہتے ہیں۔
  4. پھر جامعۃ الہدیٰ میں ایک اور تجربہ سے بھی گزرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں عرب اساتذہ اور استانیاں بھی ہیں اور جنوبی ایشیا کے مدارس سے تعلیم اور تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ اور استانیاں بھی ہیں، دونوں کا تعلیمی پس منظر مختلف ہے۔ مثلاً عربی زبان کی تعلیم کو لے لیجیے۔ ہمارے ہاں زیادہ زور گریمر اور قواعد و ضوابط پر دیا جاتا ہے جبکہ عرب اساتذہ کے نزدیک اس کی چنداں اہمیت نہیں ہے اور وہ عربی زبان کو عرب ماحول کے مطابق بول چال کی زبان کے طور پر پڑھانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں حدیث نبویؐ پڑھانے کا انداز اور ہے اور عربوں کا انداز اس سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے ساتھ یہ الجھن بھی پیش آجاتی ہے کہ ہمارے اساتذہ اور استانیاں متصلب حنفی ہوتی ہیں جبکہ عرب اساتذہ اور استانیوں کا حنفی ہونا ضروری نہیں ہے۔ کوئی شافعی المذہب ہوگا، کوئی سلفی ہوگا اور کوئی حنبلی یا مالکی ہوگا۔ ان کے درمیان ہم آہنگی کا ماحول قائم ہوتے ہوئے وقت لگے گا اور اس عمل کو کئی رکاوٹوں اور مشکلات کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔
  5. یہاں ایک مرحلہ وہ بھی آتا ہے کہ اسکول کی عصری تعلیم لازمی نہیں رہتی اور تعلیمی نصاب کی بنیاد دینی علوم پر رکھی جا سکتی ہے۔ مگر پھر یہ سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ نصاب کی بنیاد دینی علوم پر رکھ کر اس میں عصری علوم میں سے کون سا مواد شامل کرنا ضروری ہے اور کون سے مضامین کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ مثال کے طور پر اسی مشاورتی دور میں ہونے والی ایک گرماگرم بحث کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ مسئلہ زیر بحث یہ تھا کہ سولہ سال سے اوپر کے طلبا جو یہاں کے سرکاری تعلیمی نظام کے مطابق لازمی تعلیم کے دائرے سے نکل جاتے ہیں اور ان کے لیے ہم دینی علوم کی زیادہ سے زیادہ تعلیم کا اہتمام کر سکتے ہیں، ان کے نصاب میں سائنس، انگلش زبان اور ٹیکنالوجی کے مضامین شامل کیے جائیں یا نہیں؟ بعض دوستوں کی رائے یہ تھی کہ انہیں درس نظامی کے مطابق صرف دینی علوم پڑھائے جائیں، مگر میری گزارش یہ تھی کہ پہلے آپ اپنا ہدف طے کریں کہ:
    • اس تعلیمی نظام کے ذریعے سے آپ معاشرہ کو دینی قیادت فراہم کرنا چاہتے ہیں اور امام، خطیب، مفتی، مدرس، قاری اور مبلغ و داعی پیدا کرنا آپ کا مقصود ہے؟
    • یا آپ یہ چاہتے ہیں کہ دینی تعلیم اور تربیت سے بہرہ ور لوگ یہاں کی یونیورسٹیوں میں جائیں، اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں ممتاز مقام حاصل کریں؟

    یہ دو الگ الگ ہدف ہیں، دونوں کی اہمیت و ضرورت مسلم ہے اور دونوں کے تقاضے مختلف ہیں۔ دینی قیادت فراہم کرنا مقصد ہے تو پھر دینی علوم کو ترجیح دینا ہوگی اور قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی میں کامل مہارت کا اہتمام کرنا ہوگا۔ اور اگر آپ اپنے تربیت یافتہ افراد کو یونیورسٹیوں اور سرکاری شعبوں میں بھیجنے کے خواہش مند ہیں تو پھر عصری علوم میں ان کا معیار بلند رکھنا ہوگا، کیونکہ اس کے بغیر وہ آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ پھر دینی قیادت کے حوالے سے بھی یہ مسئلہ غور طلب ہے کہ دینی علوم میں مکمل مہارت کے باوجود اگر ان کی انگلش معیاری نہیں ہے، عصر حاضر کے بارے میں ان کی معلومات ناقص ہیں، یا وہ جن لوگوں میں کام کرنا چاہتے ہیں، ان کی نفسیات اور ذہنی سطح سے واقف نہیں ہیں تو دینی علوم میں ان کی مہارت بے معنی ہو کر رہ جائے گی اور وہ اس معاشرہ میں کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔

  6. اسی بحث میں یہ پہلو بھی گرماگرم گفتگو کا موضوع بنا کہ دینی تعلیم کے نصاب میں سائنس اور جغرافیہ کا شامل ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ ایک دوست اس بات پر مصر تھے کہ کوئی ضرورت نہیں ہے، مگر میری رائے یہ تھی کہ بطور فن کے تو ضروری نہیں ہے، مگر بنیادی اور جنرل معلومات کی حد تک ان دونوں علوم کا شامل نصاب ہونا ضروری ہے۔ مثلاً ایک خطیب صاحب کو یہ معلوم نہیں کہ میکسیکو نامی ملک کون سے براعظم میں ہے اور وہ کسی حوالہ سے اپنے خطبہ میں اسے یورپ کا ملک بتا دیتے ہیں تو اس سے ان کے پڑھے لکھے سامعین میں ان کے بارے میں جو تاثر پیدا ہوگا، وہ ان کی دینی راہنمائی کے معیار کو بھی مشکوک بنا دے گا۔ اسی طرح اگر کسی عالم دین کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ ایٹم بم کیا ہے اور کیسے بنتا ہے اور وہ اس کے بارے میں درس میں کوئی اوٹ پٹانگ بات کہہ دیتا ہے تو اس سے اس کی شخصیت اور اعتماد پر جو منفی اثر پڑے گا، وہ ان کی دینی معلومات کے معیار کو بھی مجروح کر دے گا۔ اس لیے سائنس، جغرافیہ اور عمرانی علوم کا بنیادی معلومات کی حد تک دینی تعلیم کے نصاب میں شامل ہونا انتہائی ضروری ہے اور ان سے مکمل صرف نظر کرنا حکمت و دانش کے خلاف ہے۔

اس مشاورت کے دوران اور بعض دیگر محافل میں بھی یہ سوال کیا گیا کہ ہم مدرسہ نصرۃ العلوم اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ان ضروری تبدیلیوں کے حوالے سے کیا کر رہے ہیں جن کا ہم اکثر تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ میں نے دوستوں کو بعض باتوں سے آگاہ کیا تو ایک صاحب نے کہا کہ ان کا ذکر آپ کے کسی کالم میں تفصیل کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ دوسرے حضرات بھی اس کے بارے میں سوچ سکیں اور کوئی رائے قائم کر سکیں۔ میں نے دوستوں کو بتایا کہ:

  • مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے دورۂ حدیث کے نصاب میں حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی حجۃ اللہ البالغۃ ابتدا سے مستقل طور پر شامل ہے۔ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم نے کم و بیش چالیس سال تک یہ کتاب دورۂ حدیث کے طلبا کو پڑھائی ہے اور اب چند سال سے یہ خدمت میرے سپرد ہے۔
  • اس کے علاوہ گزشتہ دو سال سے ہم نے دورۂ حدیث کے مضامین میں دو باتوں کا اضافہ کیا ہے: ایک یہ کہ آج کے بین الاقوامی قوانین بالخصوص انسانی حقوق کا فلسفہ و نظام کیا ہے اور اسلامی احکام و قوانین کے ساتھ اس کا کہاں کہاں ٹکراؤ ہے۔ دوسرے نمبر پر معاصر ادیان مثلاً یہودیت، مسیحیت، ہندو ازم، بدھ مت، سکھ مت وغیرہ کا ضروری تعارف اور آج کے معروضی حالات میں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ بھی ایک مضمون کے طور پر شامل کیا گیا ہے اور یہ دونوں مضامین میں خود پڑھاتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ احادیث کی قراءت و تعلیم کے دوران میں طلبا کو یہ بتایا جائے کہ اس حدیث کا آج کے علمی مسائل کے ساتھ کیا تعلق ہے اور جدید فکری، علمی اور فقہی مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں کیسے تلاش کیا جانا چاہیے۔
  • اسی طرح الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ہم درس نظامی کے فضلاء کا ایک سالہ کورس چلا رہے ہیں جس میں انہیں حجۃ اللہ البالغۃ کے منتخب ابواب کے علاوہ معاصر ادیان و مذاہب کا تقابلی مطالعہ، انگلش اور عربی زبانیں، نفسیات و معاشیات اور جنرل سائنس کا تعارفی مطالعہ، کمپیوٹر ٹریننگ اور ضروری تاریخ کے ساتھ ساتھ مضمون نویسی کی مشق کرائی جاتی ہے اور کسی موٖضوع پر ان سے مقالہ لکھوایا جاتا ہے۔ گزشتہ دو سال میں ہمارے پاس اس کورس میں پانچ پانچ علماء کرام نے شرکت کی ہے جبکہ تیسرے سال کا کورس رمضان المبارک کے بعد شروع ہو رہا ہے جس کے داخلہ کے لیے ہم نے یہ شرط رکھی ہے کہ درس نظامی کا فارغ التحصیل ہو، لکھنے پڑھنے کا ذوق رکھتا ہو، اور کم از کم میٹرک ہو۔

    اس کے علاوہ گزشتہ سال شوال میں ہم نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں دینی مدارس کے اساتذہ کے ایک سیمینار کا اہتمام کیا تھا جس میں خود دینی مدارس کے اساتذہ نے اپنے نصاب و نظام کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا تھا اور اس کی بنیاد پر ایک رپورٹ مرتب کی گئی۔ جبکہ اس سال ۱۰ شوال (۲۲ نومبر) کو دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس کا عنوان ’’دینی مدارس میں عمرانی علوم کی تعلیم و تدریس کی اہمیت‘‘ طے کیا گیا ہے۔ مختلف دینی مدارس کے اساتذہ تشریف لائیں گے اور اس موضوع پر اظہار خیال کریں گے اور ان کے خیالات و ارشادات کی روشنی میں ایک رپورٹ مرتب کر کے دینی مدارس کے ارباب حل و عقد کی خدمت میں پیش کی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔