پاکستان اور عالم اسلام کا مستقبل

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ اگست ۲۰۰۳ء

مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام کا وفد بھارت کے دورے سے واپس آگیا ہے، وفد میں جمعیت کے تین دوسرے لیڈر حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب خان، اور مولانا قاضی حمید اللہ خان بھی شامل تھے۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں حاضری کے علاوہ جمعیت علماء ہند کے راہنماؤں اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سمیت متعدد بھارتی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں جن میں انڈین نیشنل کانگریس کی لیڈر سونیا گاندھی بھی شامل ہیں۔ اس دورے کا اصل پس منظر تو یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل پشاور میں جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لیے دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ہند کے قائدین پاکستان تشریف لائے تھے، اور اب جمعیت علماء اسلام کے قائدین نے ضروری سمجھا کہ وہ بھی بھارت جائیں اور دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ہند کے مراکز میں حاضری دیں، مگر اس کے ساتھ چونکہ سیاسی ماحول سے فائدہ اٹھانا اور اپنی ہر بات سے سیاسی فوائد حاصل کرنا ہر سیاسی لیڈر کا حق سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے موجودہ علاقائی سیاست اور ماحول کے تناظر میں اس کی کوشش بھی ہوئی اور اس کے اثرات و ثمرات بھی سامنے آئے۔

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹریک ٹو اور بیک چینل ڈپلومیسی کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے، دانشوروں، صحافیوں، ریٹائرڈ افسروں، جرنیلوں اور ثقافتی فنکاروں کے وفود آ جا رہے ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور دونوں ملکوں کو میز پر بٹھانے اور باہمی گفتگو کے ذریعے تنازعات کو حل کرانے کی تگ و دو ہو رہی ہے۔
  • بڑے صنعتی ممالک کے گروپ جی ایٹ کو اس بات کی جلدی ہے کہ تنازعات جلدی کسی کنارے پر لگیں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں کو پابندیوں کو ختم یا کم از کم کر کے ’’فری ٹریڈ‘‘ کے ذریعے اس وسیع و عریض منڈی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
  • پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور ایک مضبوط فوج کو زائد از ضرورت سمجھنے والوں کی خواہش ہے کہ پاک بھارت مصالحت کا اہتمام کر کے پاکستان سے کہا جائے کہ اب اسے ایٹمی صلاحیت اور اتنی بڑی فوج کی ضرورت نہیں رہی، اس لیے وہ ان سے دستبردار ہونے کی تیاری کر لے۔
  • پاکستان کی نظریاتی حیثیت اور اسلامی تشخص کو عالم اسلام کے مستقبل کے حوالے سے خطرہ باور کرنے والوں کا جی چاہتا ہے کہ اسے یورپی یونین طرز کی کسی ’’انڈین یونین‘‘ کا حصہ بنا کر اس کی چودھراہٹ کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا جائے، تاکہ یہ امکان ہی سرے سے باقی نہ رہے کہ عالم اسلام کبھی اسلام کے نام پر دوبارہ متحد ہو سکتا ہے اور پاکستان اس کی قیادت کر سکتا ہے۔

اس تناظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کر نے کی کوششوں میں یہ پہلو بھی خاصا مؤثر ثابت ہو سکتا ہے کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان اور جمعیت علماء ہند کے درمیان تعلقات سے فائدہ اٹھایا جائے۔ دارالعلوم دیوبند کے ساتھ پاکستان کے ہزاروں علماء کرام اور لاکھوں دینداروں کی عقیدت اور تعلیمی و فکری تعلق کو دونوں ملکوں کی باہمی کشیدگی اور کشمکش میں کمی لانے کا ذریعہ بنایا جائے۔ چنانچہ اس پس منظر نے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے قائدین کے دورۂ بھارت میں اچھا خاصا سیاسی رنگ بھر دیا۔ اسے ’’علماء ڈپلومیسی‘‘ کا نام دیا گیا اور اس کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے باہمی قرب میں اضافہ کی نوید سنائی گئی۔ وفد کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے رفقاء نے بھی اس ’’رنگ آمیزی‘‘ سے دامن بچانے کی کوشش نہیں کی۔ اور خدا جانے یہ خود ان کی حکمت عملی تھی یا کسی ’’بریفنگ‘‘ کا نتیجہ کہ ان کے اس دورے کو پاک بھارت کشیدگی کم کر نے کی اس مہم سے پوری طرح جوڑ دیا گیا۔ جمعیت علماء اسلام کے راہنماؤں کے بھارت جانے سے عمومی تاثر یہی سامنے آیا کہ وہ بھی اس ’’ٹریک ٹو ڈپلومیسی‘‘ کا حصہ بن گئے ہیں جو پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے ایک عرصہ سے جاری ہے، اور جسے مذکورہ بالا مقاصد کے لیے بتدریج آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

اس دوران میڈیا کے ’’گوریلا سیکشن‘‘ نے اس صورتحال سے خوب فائدہ اٹھایا، مولانا فضل الرحمن کے حوالے کے گرماگرم خبریں سامنے آئیں، چٹ پٹے بیانات پڑھنے کو ملے، پاکستان اور بھارت کو دوبارہ متحد کرنے کے امکان پر بات ہوئی، اور جرمنی کے اتحاد کا حوالہ بھی دیا گیا، کشمیری مجاہدین کی مسلح جدوجہد کے سلسلہ میں تحفظات کا اظہار ہوا، جموں و کشمیر کی کنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد بنانے کا ذکر ہوا، شملہ معاہدے کو تنازعات کے حل کے لیے بنیاد بنانے کی تجویز منظر عام پر آئی، اور بھارتی وزیراعظم کی پاکستان آنے کی آمادگی کی خوشخبری بھی قوم نے سنی۔ مولانا فضل الرحمن نے ان میں سے بہت سی باتوں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے یہ باتیں نہیں کہیں اور خاص طور پر ’’اکھنڈ بھارت‘‘ والی بات تو انہوں نے قطعاً نہیں کہی اور نہ وہ اس پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے حوالے سے یہ باتیں ایک بار بین الاقوامی پریس میں آچکی ہیں تو ایک عرصہ تک گفتگو اور تبصروں کا موضوع رہیں گی، اور مولانا فضل الرحمن کی واضح تردید کے باوجود ہر موقع پر ان کا حوالہ دیا جائے گا۔

جناب سرور کائناتؐ نے غالباً اسی قسم کی صورتحال کے حوالے سے فرمایا تھا کہ ’’اتقو امواضع التہم‘‘ تہمت کے مقامات سے بچو۔ یعنی ایسی جگہ مت کھڑے ہو جہاں تمہیں دیکھ کر لوگ خواہ مخواہ شک و شبہ سے دوچار ہوں اور کسی کو تمہارے بارے میں کچھ کہنے کا موقع مل جائے۔ ہمیں یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے یہ باتیں نہیں کہیں اور وہ جو تردید کر رہے ہیں سو فیصد درست ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ’’ٹریک ٹو ڈپلومیسی‘‘ کے جس قافلے میں وہ شامل تھے اور ان سے قبل جو لوگ بھارت گئے ہیں یا بعد میں جانے والے ہیں ان میں اکثر لوگ اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں، اور وہ صرف زبانی نہیں بلکہ بیانات اور کالموں میں بھی یہ باتیں آرہی ہیں، اس لیے اس کیچڑ میں چلتے ہوئے کپڑے بار بار سمیٹنے کے باوجود وہ اس کے چھینٹوں سے اپنا دامن نہیں بچا سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے واضح تردیدی بیانات کے باوجود ایک دوست نے مجھ سے پوچھ ہی لیا کہ کیا مولانا فضل الرحمن نے یہ باتیں کہیں ہیں اور آپ کا اس سلسلہ میں کیا موقف ہے؟ میں نے جواب میں عرض کیا کہ جب مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ انہوں نے اس قسم کی کوئی بات نہیں کی اور یہ سب کچھ میڈیا کے ’’گوریلا سیکشن‘‘ کی کارستانی ہے تو ہمیں ان کی بات پر یقین کر لینا چاہیے اور ان پر اعتماد کرنا چاہیے۔ باقی رہی بات ہمارے موقف کی تو اس کی وضاحت قیام پاکستان کے فورًا بعد تحریک پاکستان کے دو بہت بڑے مخالفوں نے کر دی تھی۔

ان میں ایک سید حسین احمد مدنیؒ جن کا مکتوب اٹک کے مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ کی کتاب ’’چراٖغ محمد‘‘ میں موجود ہے، جس میں انہوں نے فرمایا کہ قیام پاکستان سے قبل ہمارے اختلاف کی نوعیت ایسی ہی تھی جیسے کسی محلہ میں مسجد بنانے پر اختلاف ہو جائے۔ ایک گروہ اس کے سائز، مقام اور نقشہ میں ایک رائے رکھتا ہو اور دوسرے فریق کی رائے اس سے مختلف ہو۔ ان میں ایک فریق غالب آگیا اور اس نے اپنی تجویز کے مطابق مسجد بنا لی، دوسرے فریق کی رائے نہ چل سکی۔ لیکن جب مسجد بن گئی تو وہ سب کی مسجد ہے اور اس کے تقدس کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔

دوسرے بزرگ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ہیں جو تحریک پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ لیکن جب پاکستان بن گیا تو انہوں نے لاہور میں کھلے بندوں جلسہ عام منعقد کر کے اعلان کیا کہ ہماری ایک رائے تھی جسے قوم نے قبول نہیں کیا، اس لیے ہم قوم کا فیصلہ قبول کرتے ہیں، پاکستان ہمارا وطن ہے اس کی بقا اور استحکام ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اس کی سالمیت اور تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

اس کے بعد کسی اور حوالہ کی ضرورت اگرچہ باقی نہیں رہی، لیکن اس حوالے سے ایک اور بات کو تذکرہ بھی ضرور کرنا چاہوں گا۔ جن دنوں ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان کا بحران درپیش تھا اور جنرل یحیٰی خان، شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان پاکستان کے مستقبل کے بارے میں مذاکرات جاری تھے، اس موقع پر قومی اسمبلی کے چھوٹے گروپوں نے بھی مذاکرات میں حصہ لیا تھا اور اس مذاکراتی وفد میں مولانا مفتی محمودؒ شامل تھے۔ مفتی صاحبؒ نے جمعیت علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں یہ بات بتائی کہ وہ اور خان عبد الولی خان دونوں شیخ مجیب الرحمن سے ملاقات و گفتگو کے لیے گئے تو انہوں نے شیخ صاحب مرحوم سے مخاطب ہو کر کہا تھا:

’’شیخ صاحب! آپ مسلم لیگی ہیں اور ہمیں کانگریسی کہا جاتا ہے۔ کل آپ پاکستان بنا رہے تھے تو ہم نے کہا تھا کہ ایسا نہ کرو، اس سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو نقصان ہوگا، مگر آپ نے ہماری بات نہیں سنی۔ آج آپ لوگ پاکستان توڑ رہے ہیں تو ہم آپ کو یہ کہنے آئے ہیں کہ پاکستان کو نہ توڑو، اس سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو نقصان ہو گا.......‘‘

کیونکہ پاکستان جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی امیدوں اور تمناؤں کا مرکز ہے، اور جس حالت میں بھی ہے، ان کی آزادی اور خود مختاری کی علامت ہے۔ اس کی بقا و استحکام اور سالمیت و خودمختاری سے صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مستقبل وابستہ ہے، اس لیے اسے ختم یا کمزور کرنے کی کسی کوشش کو حضرت مدنیؒ اور امیر شریعتؒ کے کسی پیروکار کی حمایت حاصل نہیں ہو سکتی۔