مجلس تحفظ حدود اللہ کا قیام اور متحدہ مجلس عمل کی ریلی

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ دسمبر ۲۰۰۶ء

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے بارے میں اسلامی نظریہ کونسل کی حالیہ رائے، مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی طرف سے ’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کے قیام کے ساتھ اس بل کے خلاف جدوجہد کے اعلان اور متحدہ مجلس عمل کی لاہور سے گجرات تک ریلی کے بعد اس سلسلہ میں صورتحال خاصی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے، مگر اس حوالے سے کچھ عرض کرنے سے قبل ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔

تحفظ حقوق نسواں بل کی منظوری کے فوراً بعد ۱۸ نومبر کو شائع ہونے والے اپنے اسی کالم میں راقم الحروف نے لکھا تھا کہ اس بل کے ذریعے ’’زنا بالرضا‘‘ کی صورت میں شرعی حد (سنگسار یا سو کوڑے) ختم کر دی گئی ہے اور اس طرح زنا کے جرم میں شرعی حد کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا ہے۔ اسی کالم میں یہ وضاحت بھی موجود تھی کہ ابھی تک بل کا اصل متن سامنے نہیں ہے اور اس تاثر کی بنیاد صدر جنرل پرویز مشرف کی نشری تقریر کا یہ جملہ ہے کہ زنا بالرضا کے معاملے میں چار گواہوں کی شرط ختم کر دی گئی ہے اور ماہرین قانون اور پاکستان مسلم لیگ کے ارکان اسمبلی نے غور و خوض کے بعد ۴۹۶۔ بی کی دفعہ متعارف کرائی ہے جس کے تحت زنا بالرضا پر پانچ سال سزا ہو سکتی ہے۔ صدر محترم کے اس ارشاد سے نہ صرف ہم نے، بلکہ موقر معاصر ’’نوائے وقت‘‘ کے اداریہ نگار نے بھی یہی مفہوم سمجھا کہ زنا بالرضا پر شرعی حد ختم کر کے پانچ سال قید کی سزا مقرر کر دی گئی ہے، لیکن بعد میں بل کا متن سامنے آنے پر معلوم ہوا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے اور اس نئے قانون میں زنا بالرضا کی صورت میں مکمل شرعی ثبوت فراہم ہونے پر حد شرعی (سنگسار یا سو کوڑے) کی سزا بحال رکھی گئی ہے، البتہ زنا کا مکمل ثبوت فراہم نہ ہونے کی صورت میں اس سے نچلے درجے کے جرائم کو فحاشی کا عنوان دے کر ان پر پانچ سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

اس وضاحت کے بعد اب اسلامی نظریاتی کونسل کی اس رائے کی طرف آتے ہیں جو گزشتہ روز صدر جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت منعقد ہونے والے کونسل کے اجلاس میں دی گئی ہے اور اس میں اسلامی نظریاتی کونسل نے اخباری رپورٹ کے مطابق ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کی حمایت کر دی ہے۔ اس سے قبل کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کا یہ بیان اخبارات کی زینت بن چکا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے تحفظ حقوق نسواں بل پر باقاعدہ طور پر غور نہیں کیا اور ان سمیت کونسل کے بعض ارکان نے ذاتی طور پر اپنی رائے دی ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق اس کے بعد بھی ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ باقاعدہ رائے کے لیے کونسل کو نہیں بھجوایا گیا اور کونسل کی رائے اس بل کے حق میں شو کرنے کے لیے صدر جنرل مشرف کی صدارت میں اسلامی نظریہ کونسل کے اجلاس کا اہتمام ضروری سمجھا گیا۔ جبکہ اجلاس میں شریک ہونے والے کونسل کے ایک رکن محترم جاوید احمد غامدی کی طرف سے یہ وضاحت آئی ہے کہ وہ کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہوچکے ہیں اور صدر جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں انہوں نے اس لیے شرکت کی ہے کہ ان کا استعفٰی ابھی منظور نہیں ہوا مگر اجلاس میں انہوں نے اس بل کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی۔

اس پس منظر میں اگر یہ کہا جائے کہ اسلامی نظریہ کونسل نے ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کی حمایت کی ہے تو اس کی اخلاقی اور قانونی حیثیت کے بارے میں مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی، البتہ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود کی رائے اور پوزیشن اس سے ضرور واضح ہو گئی ہے۔ ہم نے کچھ عرصہ قبل ایک کالم میں ان سے گزارش کی تھی کہ وہ ملک کے دینی و سیکولر حلقوں کے درمیان اسلامی احکام و قوانین کی تعبیر و تشریح کے بارے میں جاری کشمکش میں فریق بننے کی بجائے توازن اور اعتدال کا راستہ اختیار کریں، مگر انہوں نے درمیان میں رہنے کی بجائے ان دانشوروں کی صف میں کھڑا ہونا پسند کر لیا ہے جو عورت کے بارے میں مغرب اور مسلمانوں کے درمیان موجودہ فکری و تہذیبی تنازع میں مغرب کو اس کی غلطیوں کی طرف توجہ دلانے کی بجائے قرآن و سنت کے احکام و قوانین میں ردوبدل کر کے انہیں مغرب کے سانچے میں ڈھالنے کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جہاں تک اسلامی نظریہ کونسل اور اس کے چیئرمین کی موجودہ پوزیشن کا تعلق ہے، اسے دیکھ کر صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں قائم ہونے والا ’’ادارہ تحقیقات اسلامی‘‘ یاد آنے لگا ہے جس کے سربراہ ڈاکٹر فضل الرحمن تھے اور انہوں نے بھی دین کی تعبیر و تشریح کے بارے میں یہی رویہ اختیار کر رکھا تھا جو اب ڈاکٹر خالد مسعود اور ان کے رفقاء نے اپنایا ہے۔ اس وقت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم کی شخصیت اپنے تمام جاہ و جلال کے ساتھ ان کی پشت پر تھی اور تمام سرکاری وسائل ان کے ساتھ تھے، لیکن ملک کے دینی حلقوں اور عوام کو ان کا یہ رویہ برداشت نہیں ہوا تھا اور جب عوام سڑکوں پر آگئے تو ڈاکٹر فضل الرحمن کو ہی میدان چھوڑنا پڑا تھا۔

دوسری طرف ملک کے تمام معروف دینی حلقے ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے خلاف صف آرائی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور میں ۲۷ نومبر کو منعقد ہونے والے ’’تحفظ حدود اللہ کنونشن‘‘ میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور اہل تشیع کے سرکردہ علماء کرام نے مجتمع ہو کر اس بل کے خلاف بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جبکہ جامعہ نعیمیہ لاہور میں اس کے دو روز بعد بریلوی مکتب فکر کے علماء کرام بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا موقف تسلسل کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بطور خاص نوٹ کرنے کی ہے کہ حکومتی حلقے ملک بھر میں کسی جگہ بھی دینی مکاتب فکر کے معروف حلقوں میں سے کسی ایک عالم دین کی حمایت بھی اس بل کے لیے حاصل نہیں کر سکے اور تمام مکاتب فکر اس مسئلے میں مکمل اتحاد اور ہم آہنگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کا قیام اسی یکجہتی کے اظہار کی عملی صورت ہے جسے پورے ملک میں ضلعی سطح پر منظم کرنے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے۔ ۱۰ دسمبر کو کراچی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مشائخ عظام اور دینی کارکنوں کے بھرپور اور نمائندہ کنونشن کا اعلان کر دیا گیا ہے جس میں مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان کے تنظیمی ڈھانچے اور آئندہ جدوجہد کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اس سلسلے میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں اور ہمارا اندازہ ہے کہ جن لائنوں پر وہ کام کر رہے ہیں اگر اس کا تسلسل جاری رہا تو وہ تحریک تحفظ ختم نبوت کی طرز پر ملک کے دینی حلقوں کو متحد کرنے اور سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اب متحدہ مجلس عمل کی ریلی کے معاملات پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ حکومتی حلقوں نے اسے ناکام قرار دیا ہے لیکن اس ’’ناکامی‘‘ کے لیے صوبائی حکومت کو جو پاپڑ بیلنے پڑے اس پر لاہور سے گجرات تک کے عوام عینی شاہد ہیں۔ خود میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ مجھے اس روز پسرور سے سیالکوٹ جانے والے راستے پر واقع گاؤں لوہارکے میں ظہر کے بعد طالبات کے ایک مدرسے میں بخاری شریف کے سبق کے آغاز کی تقریب میں شریک ہونا تھا۔ وہیں کے ایک دوست گاڑی پر مجھے وہاں لے گئے، مگر جب ہم پسرور پہنچ کر سیالکوٹ روڈ کی طرف مڑے تو پولیس کے ناکے پر ہمیں روک لیا گیا۔ ناکے کے انچارج پولیس آفیسر کوئی صاحب بہادر قسم کے تھے، انہوں نے ایک اہلکار کو بھیجا کہ مولوی صاحب کو کہو کہ انہیں آفیسر بلا رہے ہیں، میں نے اپنے میزبان ساتھی سے کہا کہ وہ جا کر صاحب بہادر کی بات سن لیں۔ وہ گئے تو پوچھا گیا کہ آپ لوگ کدھر جا رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ لوہارکے جا رہے ہیں۔ صاحب بہادر نے کہا کہ ادھر تو سیالکوٹ ہے، گویا ہمارا سیالکوٹ جانا ان کے نزدیک جرم تھا۔ ہمارے ساتھی نے جواب دیا کہ ہم لوہارکے جا رہے ہیں اور میں اسی علاقے کا رہنے والا ہوں، اس دوست نے عقل مندی سے کام لیا کہ میرا تعارف نہیں کروایا، ورنہ شاید ہماری یہ بات تسلیم نہ کی جاتی کہ ہم واقعی سیالکوٹ نہیں بلکہ لوہارکے جا رہے ہیں۔ وہاں سے فارغ ہو کر ہم نے ڈسکہ کے راستے گوجرانوالہ واپسی کا پروگرام بنایا تو ڈسکہ میں نہر کے پل پر ٹریفک بلاک تھی۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ ناکہ بندی کی وجہ سے پل بلاک ہے اور ادھر سے سردست گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک نکلنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ مغرب کے قریب کا وقت تھا، چنانچہ ہم نہر کے ساتھ ساتھ کچے راستے پر چلتے ہوئے نہر کے اگلے پل تک پہنچے اور گلوٹیاں سے ہوتے ہوئے گوجرانوالہ واپس آ سکے۔

متحدہ مجلس عمل کی ریلی نے لاہور سے جی ٹی روڈ پر گجرات جانا تھا مگر جی ٹی روڈ سے کم از کم پچاس کلو میٹر دور پسرور میں ناکہ بندی کا یہ حال تھا تو خود لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات کا کیا حال ہوگا؟ لوہارکے میں دوستوں نے ہمیں بتایا کہ آج ادھر ٹریفک بند ہے اور ان کے بقول ایک ویگن ڈرائیور کو اس جرم میں پولیس اہلکارروں سے مار پڑی ہے کہ وہ گاڑی سڑک پر کیوں لایا ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے گوجرانوالہ میں ریلی سے خطاب کیا ہے اور ان کی گرفتاری کے بعد ریلی کے کچھ حضرات تمام تر رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے گجرات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اسے ’’ناکام‘‘ کہنے کا اعزاز چودھری پرویز الٰہی اور جناب محمد علی درانی ہی حاصل کر سکتے ہیں۔

بہرحال تحفظ حقوق نسواں بل کے حوالے سے ایک نئی صورتحال سامنے آرہی ہے جو اس حوالے سے نئی نہیں ہے کہ دینی حلقے مذہبی اقدار کے تحفظ کے لیے ایک بار پھر متحد ہو کر سامنے آرہے ہیں۔ اس سے قبل تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے لیے کئی بار ایسا ہو چکا ہے، جبکہ امریکی وزارت خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں حدود آرڈیننس کو بھی تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے قوانین کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے حکومت پاکستان پر ان قوانین کے خاتمے کے لیے زور دیا گیا ہے۔ البتہ اس حوالے سے یہ صورتحال ضرور نئی ہے کہ چودھری ظہور الٰہی مرحوم کا خاندان اس بار دینی حلقوں کا ساتھ دینے کی بجائے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ چودھری ظہور الٰہی مرحوم تحریک ختم نبوت میں بھی دینی حلقوں کے ساتھ تھے اور تحریک نظام مصطفی کے تو قائدین میں شامل تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی، صدر پرویز مشرف کا قرب حاصل کرنے اور پیپلز پارٹی کو مات دینے کی مہم میں چودھری ظہور الٰہی مرحوم کی روایات سے کہاں تک دامن چھڑا سکتے ہیں۔