امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۱۹۸۹ء

جمعیۃ المسلمین واشنگٹن ڈی سی امریکہ کے زیر اہتمام ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۹ء کو بعد نماز مغرب پیرس ہال میں ایک جلسۂ عام منعقد ہوا جس سے تحریک ختم نبوت کے عالمی راہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی، مدیر الشریعہ مولانا زاہد الراشدی، جمعیۃ المسلمین کے امیر مولانا عبد الحمید اصغر نقشبندی اور مولانا عبد المتین نے خطاب کیا۔ مولانا چنیوٹی نے اپنے مفصل خطاب میں قادیانیت کے باطل عقائد اور اسلام دشمن سرگرمیوں پر روشنی ڈالی جبکہ مدیر الشریعہ نے امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے مندرجہ ذیل خطاب کیا۔ (ادارہ الشریعہ)

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ میں مسجد الہدٰی واشنگٹن ڈی سی کی انتظامیہ اور جمعیۃ المسلمین کے ذمہ دار حضرات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج یہاں اس محفل کا انعقاد کر کے ہمیں اپنی دینی ذمہ داریوں کے بارے میں کچھ کہنے سننے کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں۔ تفصیلی خطاب تو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا ہوگا جو قادیانیت کی فتنہ خیزیوں کے بارے میں آپ سے کھل کر بات کریں گے، مجھے مختصر وقت میں آپ دوستوں سے یہاں امریکہ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص پاکستانی دوستوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق دیں اور دین حق کی جو بات سمجھ میں آئے اللہ تعالیٰ اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ میں آپ دوستوں کو چند اہم امور کی طرف متوجہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

ایک یہ کہ آپ اپنے اردگرد نظر ڈالیں گے تو آپ کو بے شمار ایسے خاندان نظر آئیں گے جو کسی زمانے میں مسلمان تھے، بالخصوص اسپینش اور میکسیکن قوم میں آپ کو ایسے خاندانوں کی ایک بڑی تعداد نظر آئے گی جن کے آباؤ اجداد کسی زمانہ میں یہاں بحیثیت مسلمان آئے تھے لیکن اب ان کی اولاد مسلمان نہیں رہی۔ میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑتا کہ امریکہ میں پہلے کولمبس آیا تھا یا اسپین کے مسلمان اس زمین پر پہلے وارد ہوئے تھے، لیکن اس تاریخی حقیقت کی طرف آپ کو متوجہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسپین میں عیسائیت کے دوبارہ تسلط کے وقت وہاں سے بے شمار خاندان سمندر پار کر کے امریکہ میں آبسے تھے لیکن آج وہ خاندان مسلمان نہیں ہیں۔ آپ ذرا کریدیں گے تو آپ کو ان خاندانوں میں اسلام کے آثار آج بھی نظر آ سکتے ہیں لیکن یہ لوگ مذہب کے ساتھ تعلیمی تعلق باقی نہ رہنے کی وجہ سے نہ صرف یہاں کے معاشرے میں ضم ہوگئے بلکہ ایمان سے محروم ہو کر عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے۔ پھر آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو مشرقی یورپ میں کمیونزم کے تسلط کے وقت وہاں سے ایمان بچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے، ان میں سے کچھ خاندان یہاں امریکہ میں آکر آباد ہوئے ان میں سے بھی بہت سے خاندان آپ کو ایسے ملیں گے جو آج مسلمان نہیں رہے اور یہاں کا کلچر اور مذہب انہیں پوری طرح ہضم کر چکا ہے۔

حضراتِ محترم! میں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے اردگرد ان مشاہدات کو دیکھتے ہوئے آج آپ نے ایک فیصلہ کرنا ہے، وہ یہ کہ اس خطہ میں جہاں آپ دنیا کی زندگی کے لیے بہتر وسائل کی تلاش میں آئے ہیں آپ کی اولاد کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا آپ فی الواقع اپنی اولاد اور آنے والی نسل کے دینی مستقبل سے دستبردار ہو چکے ہیں؟ اور کیا آپ واقعتاً اس واضح طور پر نظر آنے والی تبدیلی کو ذہناً قبول کر چکے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے اور آپ کے چہرے مجھے بتا رہے ہیں کہ آپ ذہناً اپنی اولاد کو کفر کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو پھر یہ بات صرف خواہش کے ساتھ پوری نہیں ہوگی، اس کے لیے آپ کو کچھ کرنا ہوگا اور یہ آپ ہی کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو کفر کی آغوش میں جانے سے بچا لیں۔ قرآن کریم نے بھی یہ ذمہ داری آپ پر عائد کی ہے کہ صرف خود جہنم کی آگ سے بچنے کی کوشش پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنے اہل و عیال کو بھی اس آگ سے بچائیں۔ یہ دین کا تقاضا ہے اور یہ عقل و منطق کا تقاضا بھی ہے۔

دیکھیے! ابھی سان فرانسسکو میں زلزلہ آیا ہے، یہ خدائی گرفت آتی رہتی ہے، اگر کسی جگہ زلزلہ آجائے، کسی مکان میں آگ لگ جائے تو کسی مکان کا مالک ایسا بے وقوف نہیں ہوگا کہ خود اکیلا مکان سے باہر کھلے میدان میں جا کھڑا ہو اور اطمینان کا اظہار کرے کہ میں تو آگ سے بچ گیا ہوں، عقلمند آدمی وہ سمجھا جائے گا جو پہلے گھر کے دوسرے افراد کو، بیوی بچوں کو، اہل و عیال کو آگے سے بچانے کی کوشش کرے گا اور پھر خود آگے سے بچنے کا سوچے گا۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے کہ اے ایمان والو! اپنے آپ کو بھی جہنم کی آگ سے بچاؤ اور اپنے اہل و عیال کو بھی جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو۔ اس لیے اولاد کے دین و عقیدہ کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کا اظہار اس طرح فرمایا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یہ ماں باپ ہیں جو اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔

حضراتِ محترم! میں دیکھ رہا ہوں کہ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کو رفتہ رفتہ اپنی نئی نسل کو بطور مسلمان باقی رکھنے کی ضرورت کا احساس ہو رہا ہے، یہ جذبہ بیدار ہو رہا ہے، فکر بڑھ رہی ہے لیکن اسے صحیح طریقہ سے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا صحیح راستہ یہ ہے کہ آپ اپنے گھروں کے ماحول کو کسی نہ کسی حد تک مذہبی بنانے کی کوشش کریں، مذہبی اقدار سے وابستگی برقرار رکھیں، گھروں میں نماز اور دیگر عبادات کا اہتمام کریں اور سب سے بڑھ کر اپنی اولاد کی دینی تعلیم کا نظم قائم کریں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اگر آپ نے اپنی اولاد کو مسلمان باقی رکھنا ہے تو آپ کو مساجد کا نظام قائم کرنا ہوگا، آپ کو دینی مدارس کا منظم طریقہ سے آغاز کرنا ہوگا، آپ کو اپنی اولاد کی عصری اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہونا ہوگا، ورنہ آپ اپنی آئندہ نسل کو مذہب اور دین کے ساتھ وابستہ نہیں رکھ سکیں گے اور خدانخواستہ اس کا حشر وہی ہوگا جو اس سے قبل یہاں بسنے والے مسلمانوں کا ہو چکا ہے۔

ایک اور نکتہ بھی ذہن میں رکھیں کہ یہاں اس معاشرہ میں اپنی اولاد کو دین کے ساتھ وابستہ رکھنے کا واحد ذریعہ صرف اور صرف آپ ہیں۔ اپنے وطن میں اگر ماں باپ اولاد کی تربیت سے خدانخواستہ غافل ہوں تو متبادل ذرائع موجود ہیں جو نوجوان نسل کو دین سے دور جانے سے روک لیتے ہیں۔ محلہ میں مسجد ہے، اچھے دوستوں کی سوسائٹی ہے، وعظ و نصیحت کی مجلسیں ہیں۔ وہاں اگر آپ توجہ نہیں دیں گے تو بھی کوئی نہ کوئی ذریعہ اور مل سکتا ہے لیکن یہاں تو باقی سب راستے بند ہیں۔ یہاں کا معاشرہ، سوسائٹی، میڈیا، تعلیمی ادارے غرضیکہ ہر ذریعہ نوجوان کو کفر کی طرف اور جنسی انارکی کی طرف لے جانے والا ہے۔ صرف ماں باپ ہی ایک ایسا واحد ذریعہ باقی رہ جاتا ہے جو اگر صحیح توجہ دے گا تو اولاد کے مسلمان رہنے کا کوئی امکان ہے ورنہ یہاں اور کوئی متبادل ذریعہ موجود نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آپ کی ذمہ داری اپنی اولاد کے بارے میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے جو آپ کو بہرحال پوری کرنی ہے ورنہ آپ خدا کے مجرم تو ہوں گے ہی اپنی اولاد اور مسلمانوں کی تاریخ کے بھی مجرم شمار ہوں گے۔

محترم بزرگو اور دوستو! میں جہاں آپ کو اپنی اولاد کے دینی مستقبل کے تحفظ کے لیے مساجد اور دینی مدارس کے قیام کا مشورہ دے رہا ہوں اور دینی مراکز کے ناگزیر ہونے کا احساس دلا رہا ہوں وہاں ایک تلخ حقیقت کی طرف آپ کو متوجہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جب آپ یہ مساجد، مدارس اور دینی مراکز قائم کریں گے اور آپ کو بہرحال قائم کرنا ہوں گے تو انہیں آباد کرنے کے لیے، انہیں چلانے کے لیے آپ کو دینی افراد کی ضرورت ہوگی، وہ کھیپ آپ کہاں سے لائیں گے؟ اتنی بڑی تعداد میں حافظ، قراء اور علماء کہاں سے مہیا کریں گے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے اور یہ آسان جواب ہے کہ ہم اپنی ضرورت کے لیے مذہبی افراد کی یہ کھیپ اپنے ملک سے منگوا لیں گے، یہ آسان راستہ ہے لیکن اس کے کچھ تلخ ثمرات بھی ہوں گے اور ان تلخ ثمرات کا تجربہ ہم اس سے قبل یورپ میں کر چکے ہیں۔ میرے بھائیو! جب ہم اپنے ملک میں دینی کام کرتے کرتے آپ کے یہاں منتقل ہوں گے تو ہمارے ساتھ بیماریوں کے وہ جراثیم بھی منتقل ہوں گے جو ہمیں لاحق ہیں، یہ وہ بیماریاں ہیں جنہوں نے ہمیں اپنے ملکوں میں کسی کام کا نہیں رہنے دیا اور باہر جا کر بھی یہ بیماریاں ہمارے لیے اور اسلام کے لیے بدنامی اور رسوائی کا باعث بن رہی ہیں۔

یورپ میں جب مسلمان منظم ہونا شروع ہوئے تو انہوں نے اپنی ضرورت کے لیے علماء اور حفاظ اپنے وطن سے منگوا لیے اور ان جراثیم کا علاج نہ کیا جو ہماری مخصوص بیماریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے یورپ کو دیوبندی بریلوی لڑائیوں کا اکھاڑہ بنا دیا، مسجدوں کے جھگڑے ہوئے، خدا کے گھر سیل کر دیے گئے، عبادت گاہوں کو کتوں کے ذریعے خالی کرایا گیا اور ہم کفار کے سامنے ندامت اور شرمندگی کا عنوان بن کر رہ گئے۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ یہاں بھی یہی کھیل کھیلا جائے گا، اس لیے میں آپ حضرات کو قبل از وقت خبردار کر رہا ہوں کہ خدا کے لیے ان جراثیم کا کوئی علاج سوچ لیجئے۔ آج جب ہم ایک ملک سے دوسرے ملک جاتے ہیں تو ایئرپورٹ پر ہیلتھ سیرٹیفکیٹ چیک کیا جاتا ہے کہ کہیں اس ملک کی بیماریوں کے جراثیم تو ساتھ نہیں لے آئے۔ آپ کو بھی ایسا کرنا ہوگا اور ان جراثیم کو اپنے ملک میں آنے سے روکنا ہوگا ورنہ آپ اس معاشرہ میں مذاق بن کر رہ جائیں گے اور دین کی خدمت کی بجائے دین کی رسوائی کا ذریعہ ثابت ہوں گے۔

محترم بزرگو! میں آپ کو ایک اصول بتانا چاہتا ہوں۔ ہمارے دین کی تین بنیادیں ہیں، انہیں کسی حالت میں نظر انداز نہ کریں۔ (۱) قرآن کریم (۲) سنت رسول (۳) اور صحابہ کرامؓ جو شخص قرآن کو مانتا ہے، حدیثِ رسولؑ کو تسلیم کرتا ہے اور صحابہ کرامؓ کی پیروی کو قبول کرتا ہے، وہ حنفی ہو، شافعی ہو، مالکی ہو، حنبلی ہو، ظاہری ہو، دیوبندی ہو، بریلوی ہو، اہل حدیث ہو یا کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہو، اس سے کسی مسئلہ میں جھگڑا نہ کریں، کسی اختلاف میں نہ الجھیں، اور اگر آپ کو کوئی الجھانے کی کوشش کرے تو اسے ٹوک دیں، جھٹک دیں اور اس کی بات کو تسلیم نہ کریں۔

میں گزارش کر رہا تھا کہ اپنی اولاد کی دینی تعلیم اور نئی نسل کی مذہب سے وابستگی برقرار رکھنے کے لیے مساجد، مدارس اور دینی مراکز کا اہتمام آپ کی ذمہ داری ہے لیکن ان مراکز کے لیے افراد کی تلاش میں احتیاط سے کام لیں اور اگر آپ میرا مشورہ مانیں تو ایسے افراد کو درآمد کرنے کا ہی نہ سوچیں کیونکہ جن افراد نے آپ کے ماحول میں تربیت نہیں پائی، آپ کے ماحول میں کام نہیں کیا، وہ آپ کے ماحول کو سمجھ ہی نہیں سکتے، وہ اپنی ذہنی ساخت اور تربیت و ماحول کے سانچے میں آپ کو ڈھالنے کی کوشش کریں گے جس کے نتیجہ میں وہ بیماریاں پھر آپ میں عود کر آئیں گی جو خود ہمارے ملکوں میں ہمارے لیے بربادی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ اس کی بجائے آپ یہ کیوں نہیں کرتے کہ اپنی ضروریات کے لیے حفاظ، قراء اور علماء کی کھیپ خود یہاں تیار کریں۔ ایک معیاری دارالعلوم کے قیام کی طرف توجہ کریں۔ واشنگٹن ریاستہائے متحدہ امریکہ کا دارالسلطنت ہے، یہاں کے مسلمانوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک دارالعلوم بنائیں، اس میں حفاظ، قراء اور علماء تیار کریں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو نوجوان نسل اس ماحول میں رہ کر دین کی تعلیم حاصل کریں گے وہ یہاں کے تقاضوں اور مشکلات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھیں گے اور وہ زیادہ مؤثر طریقے سے آپ کی مساجد و مدارس کو آباد کر سکیں گے۔ میرے سامنے پڑھے لکھے دانشور دوست بیٹھے ہیں وہ اس نکتہ کو ضرور سمجھ رہے ہوں گے اور وہ یقیناً میری گزارش پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے۔

میرے محترم بزرگو! میں نے آپ حضرات کا خاصا وقت لے لیا ہے لیکن یہ باتیں آپ سے دوٹوک انداز میں کرنا میں اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ اب ان گزارشات کا خلاصہ دہرا دیتا ہوں، میں نے آپ حضرات سے تین گزارشات کی ہیں:

  1. اپنے سے پہلے آنے والے مسلمانوں کی اولاد کے حشر سے سبق حاصل کریں اور اپنی اولاد اور نئی نسل کو مذہب کے ساتھ وابستہ رکھنے کے لیے اپنے گھروں کا ماحول مذہبی بنانے کی کوشش کریں۔
  2. مذہب کے ساتھ اپنی اور اپنی اولاد کی وابستگی کو صحیح رکھنے کے لیے مساجد، دینی مدارس اور دینی مراکز کے نظام کو منظم طریقے سے قائم کریں۔
  3. مذہبی ضروریات کے لیے یہاں کے ماحول اور تقاضوں سے ناواقف افراد کو درآمد کرنے کی بجائے ایک بڑا دارالعلوم قائم کر کے خود یہاں حفاظ، قراء اور علماء کی کھیپ تیار کریں تاکہ وہ یہاں کے ماحول اور تقاضوں کے مطابق آپ حضرات کی بہتر دینی راہنمائی اور خدمت کر سکے۔

میں آخر میں مسجد الہدٰی کی انتظامیہ، جمعیۃ المسلمین کے امیر مولانا عبد الحمید اصغر اور ان کے رفقاء کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ سب حضرات کا شکر گزار ہوں کہ ہفتہ کے دوران آپ حضرات وقت نکال کر اس اجتماع میں تشریف لائے ہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کی حاضری کو قبول فرمائیں اور دین حق کے لیے مثبت اور مؤثر خدمت سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔