مغرب میں مقیم مسلمانوں کے لیے دینی لائحہ عمل ۔ مولانا مفتی رفیع عثمانی کی تجاویز

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء

امریکی ریاست ورجینیا میں وفاقی دارالحکومت واشنگٹن سے متصل علاقہ اسپرنگ فیلڈ میں ’’دارالہدیٰ‘‘ کے نام سے ایک دینی ادارہ ہے جس میں مسجد، قرآنی تعلیم کا مکتب اور طالبات کے لیے اسکول کے شعبے کام کر رہے ہیں۔ مولانا عبد الحمید اصغر کی سربراہی میں ایک ٹیم اس کارخیر میں مصروف ہے۔ موصوف بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں، بنیادی طور پر انجینئر ہیں، لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی میں استاد رہے ہیں، معروف نقشبندی بزرگ حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ (آف چکوال) کے خلیفہ مجاز ہیں اور امریکہ آنے کے بعد ایک عرصہ سے دینی خدمات میں سرگرم ہیں۔

گزشتہ ہفتے دارالہدیٰ میں دارالعلوم کراچی کے صدر مہتمم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی تشریف لائے اور یہاں کے مسلمانوں کے ایک بھرپور اجتماع سے خطاب کیا۔ ان کا خطاب مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے عمومی حالات اور مسلمانوں کی نئی پود کے دینی مستقبل کے حوالے سے بہت فکر انگیز تھا، اس لیے اس کے اہم نکات آج کے کالم میں پیش کر رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی سب سے پہلی اور بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں کہ ان مالک میں رہ کر وہ اسلام کے احکام پر پوری طرح عمل کر سکتے ہیں یا نہیں اور اپنی نئی پود کے دینی مستقبل اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے ساتھ اس کے تعلق کا تحفظ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ اگر تو وہ یہ دونوں کام کر سکتے ہیں تو ان کے لیے ان ملکوں میں رہنا شرعاً جائز ہے۔ اور اگر وہ خود دینی احکام پر عمل نہ کر سکتے ہوں اور اپنی نئی نسل کی اسلام اور دینی روایات و اقدار کے ساتھ وابستگی کو برقرار رکھنا ان کے لیے ممکن نہ ہو تو شریعت اسلامیہ اس صورت میں انہیں یہاں رہنے کی اجازت نہیں دیتی، اور ایسے حالات میں ایک مسلمان پر واجب ہو جاتا ہے کہ وہ ہجرت کر کے ایسے علاقے میں جا بسے جہاں وہ اپنے اور اپنی اولاد کے دینی مستقبل کو باقی رکھ سکتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ان ممالک میں کئی بار سفر کیا ہے اور یہاں مسلمانوں کے حالات کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا ہے، طویل غور و خوض کے بعد ایک سات نکاتی خاکہ تجویز کیا ہے جس پر عمل کر کے مغربی ممالک میں مقیم مسلمان اپنا دین و ایمان بھی بچا سکتے ہیں اور اپنی آئندہ نسلوں کے دین و ایمان کا تحفظ بھی کر سکتے ہیں، اس لیے آج کی نشست میں کوئی روایتی یا فرمائشی تقریر کرنے کی بجائے ان سات نکات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں:

  1. انہوں نے کہا کہ میری پہلی تجویز یہ ہے کہ مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمان اپنے بچوں کو عصری تعلیم سے پوری طرح آراستہ کریں اور ان کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ معیار کا اہتمام کریں، تاکہ مسلمانوں کی نئی نسل اپنی معاصر سوسائٹی میں کسی احساس کمتری کا شکار نہ ہو اور قومی زندگی کے معاملات میں وہ پورے اعتماد کے ساتھ شریک ہو سکے۔ اس سلسلے میں ایک بڑی الجھن یہ پیش آ سکتی ہے اور پیش آتی ہے کہ یہاں کے اسکولوں اور کالجوں کو ماحول ایسا ہے کہ اس مخلوط ماحول میں مسلمان بچے اور بچیاں خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ اس کا حل یہ ہے کہ مسلمان اپنے اسکول قائم کریں جن کا تعلیمی معیار دوسرے اسکولوں سے کم نہ ہو، لیکن ان میں اسلامی ماحول فراہم کیا جائے اور بنیادی دینی تعلیم بھی نصاب میں شامل کی جائے۔ دینی مدارس بھی ضرور بنائے جائیں اور دارالعلوم بھی قائم کیے جائیں، لیکن ان سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ وسیع پیمانے پر مسلم اسکول قائم کیے جائیں اور مسلمانوں کی نئی نسل کے لیے اعلیٰ عصری تعلیم کا اسلامی ماحول میں اہتمام کیا جائے۔ میری معلومات کے مطابق یہودیوں نے اس طرح کے ادارے قائم کر رکھے ہیں، اس لیے مجھے امید ہے کہ ایسا کرنا اگرچہ مشکلات ضرور رکھتا ہے، لیکن ناممکن نہیں ہے۔
  2. دوسری تجویز یہ ہے کہ مسلمان بکھر کر رہنے کی بجائے ایک دوسرے کے قریب رہائش اختیار کریں اور رفتہ رفتہ مسلم محلوں کی صورت اختیار کرنے کی کوشش کریں، جس طرح برطانیہ میں بہت سے مقامات پر ایسا ہے۔ اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی قریب قریب ہونے کی وجہ سے اسکولوں، مساجد اور دینی مکاتب کا قیام آسان ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ بچوں کو سوسائٹی اور ماحول بھی اپنا مل جاتا ہے۔ یہ کام آسان نہیں ہے اور تھوڑے عرصے میں ہو بھی نہیں سکتا، لیکن اگر اس کی فکر کی جائے اور اس کے لیے مسلمانوں کی ذہن سازی کی جائے تو بہت زیادہ مشکل بھی نہیں ہے۔
  3. تیسری گزارش یہ ہے کہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے وابستہ رکھیں اور کسی بزرگ کے ساتھ اصلاح کا تعلق قائم کریں۔ مغربی معاشرے میں یہ زیادہ ضروری ہے، اس لیے کہ کسی نیک آدمی اور صالح بزرگ کے ساتھ وابستگی کا احساس بھی انسان کو بہت سے گناہوں سے بچا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی صحبت سے برکات کے ساتھ ساتھ تربیت اور رہنمائی بھی ملتی رہتی ہے۔
  4. چوتھی بات یہ ہے کہ اپنے گھروں میں دینی لٹریچر رکھنے کا ضرور اہتمام کریں، قرآن کریم کی کوئی تفسیر، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کے بارے میں معلوماتی کتابیں اور ان کے علاوہ دینی کے بنیادی مسائل و عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات، حقوق اور حلال و حرام کے بارے میں معلوماتی کتابوں کو گھر میں رکھیں۔ آپ کو وقت ملے تو آپ پڑھیں گے، ورنہ گھر والے ان سے استفادہ کریں گے اور کبھی نہ کبھی کوئی ان میں سے کسی کتاب کو اٹھا کر دیکھے گا تو وہ بھی فائدہ سے خالی نہیں ہوگا۔ کتاب موجود ہوگی تو کسی نہ کسی وقت پڑھنے کو جی چاہے گا۔ کبھی بچے دیکھ لیں گے، کوئی آنے جانے والا اس پر نظر ڈال لے گا، اس لیے کوشش کریں کہ آپ کے گھروں میں دینی لٹریچر کی ضروری کتابیں موجود ہوں اور ان کا وقتاً فوقتاً مطالعہ بھی کرتے رہیں۔
  5. پانچویں بات یہ ہے کہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے عمل کے ساتھ خود کو وابستہ رکھیں اور اس کے لیے تھوڑا بہت وقت نکالتے رہیں۔ اس معاشرے میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اپنے اخلاق اور کردار کی اصلاح کریں اور دوسری قوموں کے سامنے اپنے کردار کا ایسا نمونہ پیش کریں کہ وہ اس سے متاثر ہوں۔ دنیا میں اسلام کی دعوت اس سے پہلے بھی اسی راستے سے پھیلی ہے اور آئندہ بھی اخلاق و کردار کا بہتر نمونہ پیش کر کے ہی دنیا کو اسلام کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے حوالے سے تبلیغی جماعت کی محنت خاصی مؤثر ہے اور دنیا بھر میں جاری ہے اور اس وقت اسلام کے حوالے سے ہونے والے کاموں میں سب سے زیادہ وسیع اور مؤثر ہے۔ اس کے ساتھ خود کو وابستہ رکھیں اور گنجائش کے مطابق اس میں وقت لگانے کے علاوہ اس کے ساتھ نصرت کا تعلق قائم رکھیں۔
  6. چھٹی گزارش یہ ہے کہ اپنی اولاد کو انگریزی خوب سکھائیں اور اس میں جتنی مہارت وہ حاصل کر سکیں کم ہے، لیکن اپنی مادری زبان سے انہیں بیگانہ ہونے سے بچائیں۔ زبان صرف زبان نہیں ہوتی بلکہ تہذیب و ثقافت کا ذریعہ ہوتی ہے۔ مادری زبان سے کٹ جانے کا مطلب اپنی تہذیب و کلچر اور اپنے ماضی سے کٹ جانا ہے۔ اردو، فارسی، بنگالی، عربی یا جو بھی آپ کی زبان ہے، اپنے بچوں کو اس سے مانوس کریں، گھر میں اپنی زبان و تہذیب کے علاوہ اپنے لٹریچر کے ساتھ ان کا تعلق برقرار رکھیں۔ اگر آپ کے بچے اپنے ماضی سے کٹ گئے تو یہاں کے رنگ میں رنگے جائیں گے اور مغرب کی تہذیب اور کلچر میں ضم ہو کر رہ جائیں گے۔
  7. ساتویں بات یہ ہے کہ حلال روزی کی فکر کریں اور حرام سے بچیں۔ حلال و حرام کا فرق برقرار رکھنا اسلامی شریعت کا حکم بھی ہے اور ہماری زندگی پر اس کے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اگر آپ حرام سے خدانخواستہ نہیں بچیں گے تو حرام خوراک کا اثر آپ پر تو ہوگا ہی، آپ کی اولاد اور خاندان پر بھی ہوگا۔ یہاں رہ کر حرام سے بچنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ سود، شراب، خنزیر اور دیگر حرام چیزوں سے مکمل پرہیز کریں اور کمائی کے لیے حلال ذرائع اختیار کریں۔

مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اگر ان باتوں کو سنجیدگی کے ساتھ اختیار کیا جائے تو مغربی ممالک میں مقیم مسلمان نہ صرف اپنے اور اپنی نئی پود کے دین و ایمان اور اخلاق و کردار کی حفاظت کر سکتے ہیں، بلکہ یہاں کے باشندوں کے سامنے ایک بہتر اسلامی زندگی کا نمونہ بھی پیش کر سکتے ہیں جو یہاں رہتے ہوئے ہماری زیادہ اہم ذمہ داریوں میں شامل ہو جاتا ہے۔

دارالہدیٰ کی اس تقریب میں مرد اور عورتیں خاصی تعداد میں شریک تھے۔ یہاں عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی دینی تقریب ویک اینڈ پر ہی کامیاب ہو سکتی ہے، لیکن منگل کی شام کو ہونے والی اس تقریب میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کی شرکت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں رہنے والے مسلمانوں میں دینی معلومات اور رہنمائی حاصل کرنے کی تڑپ موجود ہے اور حالات کی نا مساعدت نے اس میں کمی کی بجائے اضافہ کیا ہے۔

درجہ بندی: