دینی مدارس کو ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ کھولا جائے

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ جون ۲۰۲۰ء

ملی مجلس شرعی پاکستان مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کا مشترکہ علمی و فکری فورم ہے جو ایک عرصہ سے قومی و ملی مسائل پر مشترکہ موقف کے اہتمام اور اظہار کی خدمت سر انجام دے رہا ہے۔ اس میں مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، مولانا عبد المالک خان، مولانا خلیل الرحمان قادری، مولانا عبد الرؤف فاروقی، حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا حافظ محمد حسن مدنی، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، حافظ عاکف سعید، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا کفیل شاہ بخاری، علامہ نیاز حسین نقوی اور دیگر اہم شخصیات ہمارے ساتھ شریک مشاورت رہتی ہیں۔ دینی مدارس کے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر درپیش مشکلات کے حوالہ سے باہمی مشورہ کے ساتھ ایک مشترکہ رائے پر اتفاق کیا گیا ہے جو ملی مجلس شرعی پاکستان کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کی طرف سے درج ذیل اعلامیہ کی صورت میں جاری کیا گیا ہے:

  • ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مناسب ایس او پیز SOPs (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز) کے ساتھ وفاقوں کو دینی مدارس کھولنے کی اجازت دے کیونکہ مدارس آن لائن تعلیم کا انتظام نہیں کر سکتے۔ طلبہ کی تعلیم کا خصوصاً تحفیظ القرآن کے طلبہ کا بہت ہرج ہو رہا ہے، اور اگر مدارس جلد نہ کھلے تو منتظمین کے لیے مالی لحاظ سے بھی مدارس کو چلانا ممکن نہیں رہے گا، اس لیے مدارس کا فوراً کھولا جانا ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
  • ہم اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے قائدین سے درخواست کرتے ہیں کہ مساجد کھولنے کے فیصلے کی طرح وہ مل کر متفقہ فیصلہ کریں اور دوسرے دینی قائدین سے بھی رضا مندی حاصل کر کے اسے سارے دینی عناصر کی طرف سے مشترکہ مطالبہ کے طور پر حکومت کو پیش کریں تاکہ حکومت کے لیے اسے ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔
  • ہم ان کی اعانت کے لیے بطور تجویز اپنی مجلس کی طرف سے ایس او پیز کا ایک مسودہ بھی ان کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

دینی مدارس کے لیے مجوزہ ایس او پیز:

  1. مہتمم صاحب اور اساتذہ پہلے دن طلبہ کو اچھی طرح بریف کریں کہ کرونا سے بچنے کے لیے یہ اور یہ تدابیر کرنی ہیں۔
  2. ایس او پیز کو فلیکس پر لکھوا کر جامعہ میں اور دارالاقامہ میں موزوں مقامات پر لگا دیا جائے تاکہ تذکیر ہوتی رہے۔
  3. مسجد اور مدرسہ کے کمروں کو روزانہ صاف کرنا اور ڈس انفیکٹ کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
  4. وضو خانے اور طہارت خانے (واش رومز) میں صابن سے ہاتھ دھونے کا اور سینیٹائزیشن کا انتظام رکھنا بھی مدرسہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔
  5. کوئی مدرس یا طالب علم جس کو نزلہ، زکام، کھانسی ، جسم درد یا کرونا کا شبہ ہو وہ عمل تعلیم و تدریس میں شامل نہیں ہو گا۔ اگر اقامتی طلبہ میں سے کسی میں ان علامات کا ظہور ہو تو وہ مدرسہ چھوڑ دے گا، یا مدرسہ میں اسے الگ تھلگ کمرہ دیا جائے گا اور ڈاکٹر کے پاس بھیجا جائے گا۔
  6. سب اساتذہ اور طلبہ بلا استثنیٰ ماسک پہنیں گے اور ہاتھ سینیٹائزکریں گے۔
  7. مساجد کے صحن یا کھلے کمروں میں تدریس ہو گی۔
  8. طلبہ ننگے فرش پر یا اپنے لائے ہوئے سجادہ پر کھلے کھلے ہو کر بیٹھیں گے (ان میں اندازاً ایک میٹر کا فاصلہ ہوگا)۔
  9. طلبہ مدرسہ میں داخلے کے وقت، چھٹی کے بعد جاتے وقت، مسجد میں آتے جاتے، کلاس روم بدلتے وقت، اور دارالاقامہ میں کھانے کے لیے آتے جاتے فاصلہ برقرار رکھیں گے اور جُڑ کر نہیں چلیں گے۔
  10. طلبہ ایک دوسرے کی چیزیں استعمال نہیں کریں گے جیسے بستر، لکھنے پڑھنے کی اشیا، کھانے پینے کی چیزیں وغیرہ۔
  11. طلبہ آپس میں اور مہمانوں یا اجنبیوں سے مصافحہ و معانقہ اور اختلاط سے پرہیز کریں گے۔

اہلیہ مفسر قرآن حضرت صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کی وفات

گزشتہ روز عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کی اہلیہ محترمہ اور ہمارے خاندان کی مشفقہ ماں دارِ فانی سے رحلت کر گئی ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ رات گیارہ بجے جامعہ نصرۃ العلوم میں ان کے فرزند مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی کی اقتدا میں ادا کی گئی اور اس کے بعد انہیں قبرستان میں حضرت صوفی صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کے قریب ہی سپرد خاک کر دیا گیا۔ وہ ہمارے خاندان کی دعاگو اور سرپرست بزرگ خاتون تھیں اور ان کا وجود ہمارے لیے باعث رحمت و برکت تھا۔ آخری روز تک عبادات اور دعاؤں کا معمول جاری رہا اور اس سال رمضان المبارک میں روزے بھی بیماری کے باوجود مکمل رکھے۔

قارئین سے درخواست ہے کہ دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔