اکابر کا تذکرہ اور ان سے راہنمائی کا حصول

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۰ء

گزشتہ روز (۲۳ ستمبر) مجھے دھیرکوٹ آزاد کشمیر کے جامعہ انوار العلوم میں منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت اور گفتگو کا موقع ملا جو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ کی وفات پر تعزیتی نشست کے طور پر منعقد ہوا تھا، اس میں آزاد کشمیر کے بہت سے علماء کرام اور دیگر طبقات کے راہنماؤں نے خطاب کیا۔ راقم الحروف نے اس سیمینار میں جو گفتگو کی اس کا صرف ایک حصہ قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ حضرت مولانا محمد یوسف خان ؒ ہمارے بزرگ تھے، راہنما تھے اور انہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک اس خطے میں دینی جدوجہد کی قیادت کی ہے۔ ان کا تذکرہ کرتے رہنا اور ان کی اچھی یادوں کو تازہ رکھنا ان کا بھی ہم پر حق ہے اور نئی نسل کا بھی ہے کہ ہم اسے اس کے بزرگوں اور اسلاف کی خدمات اور کارناموں سے آگاہ کرتے رہیں تاکہ وہ ان کی روشنی میں اپنے بہتر مستقبل کا نقشہ ترتیب دے سکیں۔ حضرت مولانا محمد یوسف خان ؒ کے جنازہ پر جن راہنماؤں نے اظہار خیال کیا ان میں آزاد ریاست جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار محمد انور خان بھی تھے، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا محمد یوسف خان کی خدمات اور راہنمائی کو صرف دینی حلقوں تک محدود رکھنا زیادتی کی بات ہو گی، انہوں نے سیاسی، تعلیمی، سماجی اور معاشرتی شعبوں میں بھی قوم کی راہنمائی اور عملی جد و جہد کی ہے اس لیے ان کی خدمات کا ذکر وسیع تناظر میں کیا جائے اور انہیں کسی ایک طبقہ کا راہنما قرار دینے سے گریز کیا جائے۔ سردار محمد انور صاحب کا یہ کہنا بالکل درست ہے اور میں مولانا محمد یوسف خانؒ کی جدوجہد اور خدمات کا ذاتی طور پر گواہ ہونے کے باعث اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ مگر اس کے ساتھ علماء کرام کو اس طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ مولانا محمد یوسف خانؒ کی جن خدمات اور متنوع جدوجہد کی وجہ سے قوم کے سب شعبوں کے لوگ انہیں اپنا راہنما تسلیم کر رہے ہیں کیا اس کا تسلسل ہمارے حلقے میں موجود ہے؟ اور کیا ہمارے ہاں اب بھی ایسے افراد آگے آرہے ہیں جن کے بارے میں دوسرے شعبوں کے لوگ اس قسم کے تاثرات و جذبات رکھتے ہوں؟ میرے خیال میں اس سلسلہ میں دو باتیں بطور خاص قابل توجہ ہیں۔

  1. ایک یہ کہ حالات حاضرہ پر ان کی نظر، مطالعہ اور واقفیت اس قدر وسیع اور گہری تھی کہ وہ ایک عمومی درس سے لے کر قانون و سیاست کے اعلیٰ ایوانوں میں پورے اعتماد کے ساتھ بات کرتے تھے اور ہر سطح پر ان کی بات توجہ سے سنی جاتی تھی اور اثر انداز ہوتی تھی۔ یہ بات آزاد کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے کہ اس ریاست کی عدالتوں میں اگر کچھ شرعی قوانین رائج ہیں اور جج صاحبان کے ساتھ بطور قاضی بیٹھ کر علماء کرام بھی عدالتی فیصلوں میں شریک ہوتے ہیں تو اس کے پیچھے حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ کی علمی وجاہت اور شخصیت کارفرما نظر آتی ہے۔ جن کی گفتگو اور مکالمہ سے متاثر ہو کر پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس جناب جسٹس محمود الرحمن مرحوم کو کہنا پڑا تھا کہ وہ اسلامی قوانین کی افادیت و ضرورت سے مولانا محمد یوسف خانؒ کی مدلل گفتگو کے باعث معترف ہوئے ہیں۔ میرے علم کے مطابق مولانا مفتی محمود ؒ اور مولانا محمد یوسف خانؒ کے بعد اس سطح پر اس صلاحیت کا حامل شاید ہی کوئی بزرگ موجود ہو اور میں سمجھتا ہوں کہ علماء کرام اور دینی مدارس کو اس خلا کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ یہ بھی وقت کی ضرورت ہے اور دین کا تقاضہ ہے۔
  2. دوسری بات یہ کہ مولانا محمد یوسف خانؒ کے معاشرتی اور سماجی تعلقات سوسائٹی کے ہر طبقہ کے لوگوں کے ساتھ تھے اور کسی بھی طبقہ کا کسی بھی سطح کا کوئی شخص ان سے نہ صرف ملاقات کر سکتا تھا بلکہ ان سے اپنے مسائل کے بارے میں گفتگو اور مکالمہ بھی کر سکتا تھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مولانا محمد یوسف خانؒ کے کس کس طبقہ کے افراد کے ساتھ روابط تھے بلکہ یہ سوال کرتا ہوں کہ کس طبقہ کے کس سطح کے افراد کے ساتھ مولانا محمد یوسف خانؒ کے تعلقات اور روابط نہیں تھے؟ جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی شخص ملاقات کے لیے از خود چل کر آتا ہے تو ہم طرح طرح کے تحفظات کا شکار ہو جاتے ہیں اور تحقیق شروع کر دیتے ہیں کہ کس طبقے کا آدمی ہے؟ کس سطح کا ہے؟ کس مسلک کا ہے؟ اور کس ماحول کا شخص ہے؟ گویا یہ بات بھی ہمارے ہاں ضروری سمجھی جاتی ہے کہ کسی دوسرے طبقے، مسلک یا ماحول کا کوئی شخص ہمارے ساتھ مصافحہ کرنے اور ہمارے پاس کچھ دیر بیٹھنے میں کامیاب نہ ہونے پائے۔

اگر ہم مولانا محمد یوسف خانؒ جیسے بزرگوں کو اپنا بزرگ اور راہنما سمجھتے ہیں اور قوم کے مختلف طبقات کی طرف سے ان کی بڑائی کے اعتراف کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں تو ہمیں ان کی ایسی خوبیوں کو بھی اپنانا ہو گا جن کی وجہ سے انہیں یہ مقام حاصل ہوا۔ بزرگوں اور اکابر کا تذکرہ صرف تبرک اور ان کے ساتھ اپنی نسبت کے اظہار کے لیے نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان سے راہنمائی حاصل کرنا اور ان کی خوبیوں کو اپنانا بھی اس کا مقصد ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔