حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

جامعہ اشرفیہ کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا شمار برصغیر کے ان نامور علماء کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان بنانے میں حصہ لیا اور قیام پاکستان کے بعد اسے ایک اسلامی جمہوریہ بنانے میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ ایک بلند پایہ عالم دین اور نامور صوفی تھے۔ انہوں نے حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ کی صحبت میں فیض حاصل کیا اور پھر اس فیض کو زندگی بھر بانٹتے رہے۔ ان سے ایک دنیا نے سلوک واحسان کی تربیت حاصل کی اور اس بھٹی سے کندن بننے والوں نے لاکھوں افراد کو رشد وہدایت کا راستہ دکھایا ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا تعلق علاقہ چھچھ سے تھا، زندگی کا بیشتر حصہ امرتسر میں گزر گیا، علوم کی تکمیل دیوبند اور سلوک کی تکمیل تھانہ بھون میں کی، اور رہتی دنیا تک فیض کا باعث بننے والا صدقہ جاریہ جامعہ اشرفیہ لاہور میں قائم کیا۔

حضرت مفتی صاحبؒ اپنے اکابر کی روایات کے امین تھے، ایک بلند پایہ مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم الامت حضرت تھانویؒ سے خلافت کا اعزاز پانے والے عظیم المرتبت صوفی بھی تھے، لیکن اس کے علاوہ ایک ملی اور سیاسی راہنما بھی تھے۔ ان کا حصہ تحریک پاکستان میں بھی نمایاں ہے اور پاکستان بن جانے کے بعد اسے ایک اسلامی ریاست بنانے میں بھی ان کا کردار روشن ہے۔ وہ ان علماءکرام میں سے تھے جنہوں نے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ہدایت پر شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی قیادت میں جمعیۃ علماءاسلام قائم کر کے تحریک پاکستان کا ساتھ دیا اور اسے کامیابی تک پہنچانے میں سرگرم کردار ادا کیا۔

پاکستان بن جانے کے بعد اسے سیکولر ریاست بننے سے روکنا اور ایک نظریاتی اسلامی ریاست کی شکل دینا تحریک پاکستان سے بھی زیادہ کٹھن مرحلہ تھا اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی وفات کے بعد اس درجہ کی قیادت کے خلا نے اس مسئلہ کو اور زیادہ سنگین بنا دیا تھا۔ اس مرحلہ میں جن شخصیات نے جمعیۃ علماءاسلام کے پلیٹ فارم کو متحرک رکھنے کی کوشش کی اور پاکستان کو ایک اسلامی ریاست کی شکل دینے میں علماءکرام کے کردار کو زندہ رکھنے میں بھرپور کردار ادا کیا، ان میں حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا نام بہت نمایاں ہے اور ان کا کردار ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے ساتھ اس محاذ پر حضرت مولانا ظفر احمدؒ عثمانی، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ، حضرت مولانا ظفر احمد انصاریؒ، حضرت مولانا اطہر علیؒ، حضرت مولانا محمد متین خطیبؒ اور دوسرے بزرگ بھی سرگرم تھے، اور حضرت مفتی صاحب کو اس قافلہ کے سرپرست اعلیٰ اور بزرگ رہنما کی حیثیت حاصل تھی۔

حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ نے نیلا گنبد میں جامعہ اشرفیہ قائم کیا تو انہیں حضرت مولانا رسول خانؒ اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی رفاقت میسر آ گئی جو علم وفضل کی دنیا کے آفتاب و ماہتاب تھے۔ ان میں سے ایک اپنے دور میں معقولات کے امام کہلاتے تھے اور دوسرے بزرگ منقولات کے امام کا تعارف رکھتے تھے۔ دونوں اپنے وقت کے بڑے بڑے علماء کرام کے استاذ تھے اور اپنے عظیم اسلاف کی شاندار روایات کے امین ہونے کی وجہ سے ملک بھر کے علماء و طلبہ کی عقیدت و الفت کا مرکز تھے۔ یہ ان تین بزرگوں کی علمی وجاہت اور کردار کی کشش تھی جس نے جامعہ اشرفیہ کو بہت جلد ملک کے بڑے مدارس کی صف میں کھڑا کر دیا اور اب اسے صرف ایک مدرسہ نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ایک جامعہ کا مقام حاصل ہے۔

میں حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کی زیارت نہیں کر سکا البتہ کبھی کبھی ان کے فرزند وجانشین حضرت مولانا محمد عبید اللہ المفتی دامت فیوضہم کی ڈرتے ڈرتے اور تعارف کرائے بغیر زیارت کر کے محرومی کو کم کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔

(روزنامہ اسلام، ۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء۔ روزنامہ پاکستان، ۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء)