مسلم حکمرانوں کی ایک اہم ذمہ داری

   
مقام / زیر اہتمام: 
مدرسہ طیبہ، کوروٹانہ، گوجرانوالہ
تاریخ بیان: 
۴ جون ۲۰۲۱ء

(الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام مدرسہ طیبہ کورٹانہ گوجرانوالہ میں ہفتہ وار نقشبندی محفل سے خطاب۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ہمارے بڑے بزرگوں میں سے تھے، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے استاذ گرامی تھے اور تحریک آزادی و تحریک ختم نبوت کے سرگرم راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان سے ایک تقریر کے دوران یہ واقعہ سنا تھا جو انہی کے حوالہ سے بیان کر رہا ہوں کہ بنو امیہ کے دور خلافت میں کوفہ کے گورنر حجاج بن یوسفؒ ایک روز کوفہ کے کسی محلہ سے گزر رہے تھے کہ ایک گھر سے قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سنائی دی، چلتے چلتے ایک آیت کریمہ اس طرح سنی کہ پڑھنے والا اعراب کی تبدیلی کے ساتھ اس قدر غلط پڑھ رہا تھا کہ اس کا معنی کفریہ ہو گیا تھا۔ حجاج بن یوسف وہیں رک گئے، دروازہ کھٹھکٹایا تو معلوم ہوا کہ ایک عجمی بزرگ قرآن کریم پڑھ رہے ہیں۔

قرآن کریم کو زیر زبر پیش اور دیگر علامات کے بغیر عرب لوگ تو صحیح پڑھ لیتے ہیں مگر غیر عربوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے، جبکہ تلفظ اور اعراب کی غلطی کی وجہ سے بسا اوقات قرآن کریم کے الفاظ کا معنی الٹ ہو جاتا ہے اور ایسا پڑھنے والے کی بے خبری میں ہوتا ہے۔ گورنر کوفہ اس بات پر پریشان ہوئے کہ غیر عرب لوگ تو زیادہ تر اسی طرح غلط تلاوت کرتے ہوں گے، اس بزرگ کو لفظ کا اصل تلفظ سمجھایا اور اہل علم کے ساتھ مشورہ کر کے متعلقہ علماء کرام کی ایک کمیٹی بنا دی کہ غیر عرب لوگوں کے لیے قرآن کریم میں الفاظ پر زیر زبر پیش وغیرہ اور آیات کے ساتھ علامتیں لگائیں تاکہ عجمی حضرات کلام اللہ کی صحیح تلاوت کر سکیں۔ یہ کام اس سے قبل حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حکم سے شروع ہو گیا تھا مگر پورے قرآن کریم پر اہتمام کے ساتھ سرکاری طور پر اعراب اور علامات لگوانے کا کام حجاج بن یوسفؒ کے دور میں ہوا جو آج تک چلا آ رہا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک اور واقعہ بھی حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے تفصیلی تذکرہ میں مذکور ہے کہ دونوں بزرگ ایک بستی سے گزرے اور حسب معمول بستی والوں سے کھانا مانگا کہ ہم مسافر ہیں کھانا کھلا دو مگر بستی والوں نے انکار کر دیا۔ قرآن کریم نے اسے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ’’فاَبوا ان یضیفوھما‘‘ بستی والوں نے ان دونوں بزرگوں کو کھانا کھلانے سے انکار کر دیا۔ عام طور پر معروف ہے کہ یہ بستی انطاکیہ ہے، اس واقعہ کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو انطاکیہ کا نام لبوں پر آ جاتا ہے جس سے وہاں کے لوگ طبعی طور پر عار محسوس کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جب یہ بات مشہور ہوئی کہ کوفہ کے گورنر کی ہدایت پر قرآن کریم پر اعراب اور علامات لگوائی جا رہی ہیں تو انطاکیہ والوں کا ایک وفد حجاج بن یوسفؒ کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اگر اس موقع پر ایک دو نقطوں میں رد و بدل کر دیا جائے تو انطاکیہ والے ہمیشہ کے لیے اس عار سے محفوظ ہو سکتے ہیں۔ ان کی تجویز یہ تھی کہ ’’فاَبوا اَن یضیفوھما‘‘ کی جگہ ’’فاَتوا ان یضیفوھما‘‘ کر دیا جائے۔ ’’فاَبوا‘‘ کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے انکار کر دیا جبکہ ’’فاَتوا‘‘ کا معنی یہ بنتا ہے کہ وہ سارے لوگ ان دو بزرگوں کو کھانا کھلانے کے لیے جمع ہو گئے، اس طرح انطاکیہ کا تذکرہ عار کی بجائے تعریف کے ساتھ ہونے لگے گا۔

مولانا ہزارویؒ کے بیان کر دہ اس واقعہ کے مطابق گورنر کوفہ حجاج بن یوسفؒ نے اس پر سخت غصہ کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں اس بات کی جراءت کیسے ہوئی کہ قرآن کریم کے کسی لفظ میں نقطوں کو آگے پیچھے کر دیا جائے اور میں کیا حیثیت رکھتا ہوں کہ ایسا کروں؟ بتایا جاتا ہے کہ حجاج بن یوسفؒ اس قدر غضبناک ہوئے کہ انہیں اپنے دربار سے نکل جانے کا حکم دیا کہ اگر تم ایک شہر کے نمائندہ اور سفیر نہ ہوتے تو تم میں سے ایک شخص بھی یہاں سے زندہ واپس نہ جاتا، اس لیے فورًا یہاں سے نکل جاؤ اور میں تم میں سے کسی شخص کی آئندہ شکل نہ دیکھوں۔

حجاج بن یوسفؒ کا شمار قرون اولٰی کے جابر حکمرانوں میں ہوتا ہے اور اس کے جبر و تشدد کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے مگر ان تمام جابرانہ کاروائیوں کے ساتھ ساتھ اس کے کھاتے میں بڑی بڑی نیکیاں بھی تاریخ میں مذکور ہیں جن میں قرآن کریم کے حوالہ سے مذکورہ واقعہ کے علاوہ ایک مسلم خاتون کی فریاد پر اپنے بھتیجے محمد بن قاسمؒ کو سندھ کے راجہ داہر سے لڑنے کے لیے فوج دے کر بھیجنے کا تاریخی واقعہ ہے جو ہماری ملی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اس کی وجہ سے اس پورے خطے کو اسلام کی دولت نصیب ہوئی۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان حکمران جیسے بھی ہوں اور ان کے کردار میں جس قدر کمزوریاں اور خرابیاں دکھائی دیتی ہوں مگر ملی حمیت و غیرت کا اظہار اور دین کے تحفظ کا جذبہ ہر دور میں اور ہر طرح کے حکمرانوں کی روایت کا حصہ رہا ہے۔ مذکورہ واقعہ میں ایک مسلم حاکم کی دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ دو باتیں بطور خاص نظر آتی ہیں۔ ایک یہ کہ مسلم معاشرہ میں دین کے فروغ اور تحفظ کا کام حکمرانوں کے فرائض میں شامل ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اگر دین کے کسی تقاضے کے خلاف کوئی منفی بات سامنے آئے تو اسے روکنا اور اس پر غصہ و نفرت کا اظہار کرنا بھی ایک مسلم حاکم کے لیے ضروری ہے۔

اس تناظر میں ہم اپنے اردگرد عالم اسلام میں مسلم حکمرانوں کی حالت دیکھتے ہیں تو حجاج بن یوسفؒ جیسے جابر سمجھے جانے والے حکمرانوں کی یاد بھی دل کو ستانے لگتی ہے کہ اے کاش! ہمیں ایسے حکمران ہی نصیب ہو جائیں جو کم از کم ملی حمیت اور دین کے تحفظ کے جذبہ سے تو بہرہ ور ہوں، آمین یا رب العالمین۔

Flag Counter