امام اعظمؒ اور مرجئہ ‒ معرکہ ۱۸۵۷ء اور بہادر شاہ ظفر ‒ علماء دیوبند اور انگریزی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۱۹۹۰ء

سوال: مرجئہ کون تھے؟ ان کے خاص خاص عقیدے کیا تھے؟ کیا یہ فرقہ اب بھی موجود ہے؟ امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مرجئہ فرقہ میں سے تھے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ (چراغ الدین فاروق، کوٹ رنجیت سنگھ، شیخوپورہ)

جواب: عہدِ صحابہؓ کے اختتام پر رونما ہونے والے فرقوں میں سے ایک ’’مرجئہ‘‘ بھی تھا جس کے مختلف گروہوں کا ذکر امام محمد بن عبد الکریم الشہرستانیؒ المتوفی ۵۴۸ھ نے اپنی معروف تصنیف ’’الملل والنحل‘‘ میں کیا ہے اور ’’مرجئہ‘‘ کی وجہ تسمیہ ایک یہ بیان کی ہے کہ یہ لوگ ایمان کے ساتھ عمل کو ضروری نہیں سمجھتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ کبیرہ گناہ کے مرتکب کے بارے میں دنیا میں جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ فیصلہ آخرت تک مؤخر اور موقوف ہے، اس لیے انہیں مرجئہ کہا جاتا تھا جس کا معنی ہے ’’مؤخر کرنے والا گروہ‘‘۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ایک شخص جب توحید و رسالت پر ایمان لے آئے تو اس کو کوئی گناہ ضرر نہیں دیتا اور اس کی نجات یقینی ہے۔

دراصل اسی دور میں خوارج اور بعض دیگر گروہوں نے جب اس عقیدہ کا اظہار کیا کہ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے مسلمان کافر ہو جاتا ہے تو اس کے ردعمل میں مرجئہ دوسری انتہا پر چلے گئے کہ صرف ایمان کافی ہے، عمل کی سرے سے ضرورت نہیں ہے، یا ایمان کی موجودگی میں کسی بھی قسم کا عمل کوئی نقصان نہیں دیتا۔ جبکہ اہل سنت کا مذہب اعتدال و توازن کا ہے کہ ایمان کے ساتھ نجات کامل کے لیے عمل صالح شرط ہے لیکن کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے کفر لازم نہیں آتا۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ چونکہ اہل سنت کے امام اور ترجمان تھے اور انہوں نے کبیرہ گناہ کے مرتکب پر کفر کا فتوٰی لگانے سے انکار کر دیا تو دوسری طرف کے لوگوں نے الزاماً انہیں مرجئہ قرار دے دیا حالانکہ امام صاحبؒ کا مرجئہ کے ساتھ دور کا تعلق بھی نہیں تھا۔ امام شہرستانیؒ نے الملل والنحل میں امام اعظمؒ کی طرف مرجئہ ہونے کی نسبت کا خوب تجزیہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صرف قدریہ اور معتزلہ کا حضرت امام صاحبؒ پر الزام ہے۔

سوال: ۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی میں بہادر شاہ ظفر کا کردار کیا تھا؟ (محمد عاصم بٹ، گکھڑ، ضلع گوجرانوالہ)

جواب: ۱۸۵۷ء کے معرکہ حریت میں بادشاہ ہند بہادر شاہ ظفر مرحوم مجاہدینِ آزادی کے ساتھ پوری طرح شریکِ کار تھے، انہوں نے والیانِ ریاست کے نام اپنے ایک خط میں لکھا کہ:

’’میری پرجوش خواہش ہے کہ ہندوستان سے فرنگیوں کو ہر ممکن طریق سے نکال دیا جائے تاکہ ملک آزاد ہو جائے۔‘‘

بہادر شاہ ظفرؒ نے اس خدشہ کی بھی تردید کر دی کہ آزادی کی جدوجہد میں ان کی دلچسپی اپنے اقتدار کی خاطر ہے، چنانچہ انہوں نے لکھا کہ:

’’انگریزوں کو ملک سے نکال دینے کے بعد میرا مقصد ہندوستان پر حکومت کرنے کا نہیں، اگر تمام راجے دشمن کو ملک سے نکالنے کے لیے تلوار نیام سے نکال لیں تو میں شاہی اختیارات اور طاقت سے دستبردار ہونے کے لیے رضامند ہو جاؤں گا۔‘‘

مجاہدین کی افواج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے جنرل بخت خان کا تقرر بھی بہادر شاہ ظفرؒ نے کیا اور مجاہدین آزادی کی پوری طرح پشت پناہی کی، اسی جرم میں ۱۸۵۷ء کی جنگ میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد بہادر شاہ ظفرؒ کو گرفتار کر لیا گیا، ان کے بیٹوں کو شہید کر دیا گیا اور مقدمہ چلانے کے بعد بہادر شاہ ظفرؒ کو مجرم قرار دے کر جلا وطن کر دیا گیا، چنانچہ رنگون میں نظر بندی کی حالت میں ۷ نومبر ۱۸۶۲ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ (بحوالہ انگریز کے باغی مسلمان از جانباز مرزا)

سوال: مشہور ہے کہ علماء دیوبند نے انگریزی زبان سیکھنے کو حرام قرار دیا تھا، اس کی حقیقت کیا ہے؟ (اللہ وسایا قاسم، جہانیاں)

جواب: یہ بات غلط ہے۔ علماء دیوبند نے انگریزی زبان اور تعلیم کے جلو میں آنے والی یورپی تہذیب و ثقافت اور انگریزی ذہنیت و کلچر کی مخالفت ضرور کی ہے اور حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس بارے میں ان کا موقف درست تھا، لیکن بحیثیت زبان انگریزی کی مخالفت نہیں کی۔ چنانچہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے اس سلسلہ میں ایک استفتاء کے جواب میں مندرجہ ذیل صراحت کی ہے:

’’سوال: انگریزی پڑھنا اور پڑھانا درست ہے یا نہیں؟

جواب: انگریزی زبان سیکھنا درست ہے بشرطیکہ کوئی معصیت کا مرتکب نہ ہو اور نقصان دین میں اس سے نہ آوے۔ (فتاوٰی رشیدیہ ص ۵۶۰)

ان کے علاوہ دیگر اکابر نے بھی مختلف مواقع پر اسی موقف کا اظہار کیا حتٰی کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے تو مالٹا کی نظربندی سے واپسی پر خود علماء کو ترغیب دی کہ وہ انگریزی زبان سیکھیں تاکہ نئے دور کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہو سکیں۔