حکیم محمد سعید شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۶ اکتوبر ۱۹۹۸ء

حکیم محمد سعید کے المناک قتل پر کونسی آنکھ ہے جو اشکبار نہیں ہوئی ہوگی، اور کونسا دل ہے جس پر رنج و غم کے نشتر نہیں چلے ہوں گے۔ خدا غارت کرے ان سفاک قاتلوں کو جنہوں نے اس شریف النفس انسان کے خون سے ہاتھ رنگے، اور قہر نازل کرے ان منصوبہ سازوں پر جو علم و اخلاق کے اس سفیر کے قتل کی شرمناک سازش کے مرتکب ہوئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

حکیم صاحب کے ساتھ میرا براہ راست تعارف نہیں تھا اور کوئی ایسی مجلس یاد نہیں جس میں ان سے آمنا سامنا ہوا ہو۔ مگر ان کی فکر، سوچ، جدوجہد اور تگ و دو سے ہمیشہ شناسائی رہی اور وقتاً فوقتاً خط و کتابت کا رابطہ بھی قائم رہا۔ حکیم صاحب طب کی دنیا کی ایک نامور شخصیت تھے لیکن اس سے کہیں زیادہ ان کا تعارف علم و دانش کی دنیا میں تھا۔ اور انہوں نے جس تسلسل اور وضعداری کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں فکر و دانش کی محفلیں آباد کیں اس کی یاد ایک عرصہ تک ان کے نیاز مندوں کے دلوں کو تڑپاتی رہے گی۔ وہ ایک سچے و کھرے مسلمان تھے اور ان کا اسلام بیان و تقریر سے کہیں زیادہ ان کی عملی زندگی میں جھلکتا تھا۔ آج کے دور میں اس سطح کا کوئی شخص پانچ وقت نماز کی پابندی کر لے اور حرام و حلال کے بنیادی امور کا عملی زندگی میں لحاظ کر لے تو اس کی ولایت اور دینداری مسلم ہو جاتی ہے۔ جبکہ حکیم صاحب تو عملی زندگی میں اس سے کہیں آگے تھے۔ ہر وقت باوضو رہنا، لباس و خوراک میں سادگی کا اہتمام، حضرت داؤد علیہ السلام کی سنت کے مطابق ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھنے کی پابندی اور غرباء و مساکین کی عملاً سرپرستی اس دور میں اور اس درجہ کی مصروف زندگی کے ساتھ ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ انہی کا کام تھا اور وہی ان سب امور کی وضعداری اور وقار کے ساتھ آخر دم تک نباہ گئے۔

حکیم محمد سعید شہید ایک کھرے مسلمان اور محب وطن پاکستانی تھے۔ اپنے دین اور وطن کے لیے ان کی غیرت و حمیت ان کے بیانات اور مضامین میں صاف طور پر محسوس کی جاتی تھی۔ انہیں اسلامی اقدار و روایات کے ساتھ محبت تھی اور وہ ہر معاملہ میں انہیں ملحوظ رکھنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ اس کا اندازہ بظاہر اس چھوٹے سے واقعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ قیام پاکستان کی پچاس سالہ تقریبات کے حوالہ سے ہم نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے علمی و فکری جریدہ ’’الشریعہ‘‘ کی ۱۹۹۷ء کی چار اشاعتیں ’’تحریک آزادی اور تحریک پاکستان‘‘ کے مختلف عنوانات کے لیے مخصوص کرنے کا اعلان کیا تو حکیم صاحب مرحوم نے راقم الحروف کے نام ایک تفصیلی خط میں اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ حکیم صاحب ’’الشریعہ‘‘ کے مستقل قاری تھے اور انہیں شکایت یہ تھی کہ ہم نے پاکستان کی پچاس سالہ تقریبات پر خصوصی اشاعتوں کا اہتمام ہجری سن کے لحاظ سے اس وقت کیوں نہیں کیا جب حکیم صاحب اور ان کے رفقاء نے وطن عزیز کی پچاس سالہ تقریبات منائی تھیں اور اب عیسوی سن کے اعتبار سے منائی جانے والی پچاس سالہ تقریبات میں ہم کیوں شریک ہو رہے ہیں؟ راقم الحروف نے جواب میں انہیں لکھا کہ ہم تو ویسے ہی اس قسم کی تقریبات کے قائل نہیں ہیں اور صرف تحریک آزادی اور تحریک پاکستان میں علماء حق کے کردار کو نئی نسل کے سامنے لانے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اس جواب سے وہ مطمئن ہوئے یا نہیں لیکن ان کے اشکال اور اعتراض سے یہ بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے معمولات میں اسلامی اقدار و روایات کی پابندی کو کس قدر اہمیت دیتے تھے۔

حکیم صاحب قیام پاکستان کے مقصد سے شعوری طور پر آگاہ تھے اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے علمی و فکری محاذ پر وہ ہمیشہ مستعد اور سرگرم عمل رہے۔ بالخصوص ایک مثالی ریاست کے ڈھانچے کی علمی بنیاد فراہم کرنے اور اسلامی نظام تعلیم کے خدوخال واضح کرنے میں انہوں نے جو کدوکاوش کی وہ مقالات ہمدرد کی ان ضخیم جلدوں سے ظاہر ہے جو ان محاذوں پر ہمیشہ ارباب فکر و دانش کی راہنمائی کرتی رہیں گی۔

وہ سیاست کی دنیا کے آدمی نہیں تھے اور اگر کچھ عرصہ کے لیے وقتی طور پر عملی سیاست کے بکھیڑوں میں الجھے بھی تو وہ انہیں راس نہ آئی اور وہ پھر سے اپنی علم و دانش کی دنیا میں واپس لوٹ گئے۔ ان کا تعلق علم سے تھا، کتاب سے تھا، دانش سے تھا، اور اخلاق سے تھا۔ وہ عمر بھر انہی کے نمائندہ رہے۔ انہوں نے اسلامی اخلاقیات کو اجاگر کرنے اور اخلاق کی کساد بازاری کے اس دور میں عام لوگوں کو اخلاقی قدروں کی اہمیت کا احساس دلانے کے لیے اپنے بیانات، مضامین اور ہمدرد کے اشتہارات و جرائد کے ذریعہ جو محنت کی وہ ان کے خصوصی ذوق کی علامت اور آئینہ دار تھی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کے تحفظ، اسلامی احکام و اقدار کی عملداری، قومی وحدت اور ملکی سالمیت کی حفاظت کے لیے وہ ہمیشہ بلند آہنگ رہے اور انہوں نے کسی بھی مصلحت اور رعایت کو کبھی اس معاملہ میں روا نہیں رکھا۔ ملک کے موجودہ حالات پر ان کی بے چینی اور اضطراب ان کے مضامین اور بیانات سے عیاں تھا۔ او رانہیں علماء اور اہل دانش سے ہمیشہ اس بات کی شکایت رہی کہ وہ حالات کی سنگینی کا ادراک حاصل کرنے، مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے قوم کی راہنمائی کے باب میں اپنے فرائض صحیح طور پر ادا نہیں کر رہے۔ چنانچہ وہ راقم الحروف کے نام ایک حالیہ خط میں لکھتے ہیں کہ

’’اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سیاست و قیادت نیز صحافت و امامت میں سے کوئی تیار نہیں ہے کہ وہ امہ مسلم پاکستانیہ کو حقائق سے آگاہ کرے۔ نہ صرف حالات حاضرہ کی سنگینی کا اظہار کرے بلکہ پاکستان اور اہل پاکستان کے ساتھ کل جو ہونے والا ہے اس سے آگاہی بخشے۔ یہ سب کے سب اس موضوع میں مجتمع ہیں کہ ملت کو غافل رکھا جائے تاکہ مستقبل قریب میں لادینیت، یہودیت، عیسائیت اور قادیانیت کے مشترکہ حملے ہوں تو پوری قوم حیران اور بے بس نظر آئے۔

یہ ایک بدترین کوتاہی ہے بلکہ گناہ کبیرہ ہے کہ حقائق کا، جنہیں وہ جانتے ہیں اخفاء کیا جائے۔ خلیج میں اور اس سے قبل مراکش، تونس، الجزائر اور مصر میں اسلام اور مسلمین کے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے وہ سامان عبرت ہے ۔ان مقامات پر مسلمان کے گلے میں پھانسی کے پھندے لگائے جا چکے ہیں اور پیروں میں آہنی زنجیرہائے اسیری ڈال دی گئی ہیں۔ غور کرنے کی چیز یہ ہے کہ اس سب کے باوجود اتحاد بین المسلمین کی ایک آواز اب تک بلند نہیں ہوتی، ایک مسلمان ملک دوسرے کے سامنے آج بھی صف آراء ہے۔

ان حالات میں صرف اور صرف پاکستان ایک نہایت مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے مگر پاکستان میں اسلام اس مولوی کا عنوان زیست ہے کہ جس کا ایک ہاتھ محراب پر عالم حق کے نرخرے میں ہے اور دوسرا ہاتھ منبر پر ’’خطاب کفر‘‘ پر ہے۔ علماء حق کی خاموشی پاکستان کے لیے شدید نقصان سے عبارت ہے اور ان کی بیداری اشد ضروری ہے۔‘‘

اس سے اسلام، عالم اسلام اور پاکستان کے لیے حکیم صاحب کے احساسات و جذبات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، اور ان کے وحشیانہ قتل سے وطنِ عزیز کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی کمیت و کیفیت کا کچھ کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور دین، قوم اور ملک کے لیے ان کے جذبات و احساسات کو قبول فرماتے ہوئے عالم اسلام اور پاکستان کو اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔