حضورؐ بطور سیاست دان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ جنوری ۲۰۱۵ء

باغ جناح لاہور کی دارالسلام لائبریری نے ۱۵ جنوری کو قائد اعظم پبلک لائبریری کے وسیع ہال میں ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سیاستدان‘‘ کے عنوان پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا جس کی صدارت جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے کی، جبکہ خطاب کرنے والوں میں جناب اوریا مقبول جان اور جناب تاج دین کے علاوہ راقم الحروف بھی شامل تھا۔ اس موقع پر جو معروضات پیش کیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کائنات کی سب سے بڑی صاحب کمالات شخصیت ہیں اور آپؐ کو کمال کی ہر صفت عروج کے اعلیٰ ترین درجہ پر عطا ہوئی ہے۔ آپؐ سب سے بڑے رسول و نبی ہیں، سب سے بڑے قانون دان ہیں، سب سے بڑے جرنیل ہیں، سب سے اعلیٰ حکمران ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سب سے بڑے سیاست دان بھی ہیں۔ آنحضرتؐ کی سیاسی زندگی کے مختلف اور متنوع پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر مستقل کام کی ضرورت ہے اور ہمارے ہاں سیرت نبویؐ کے ان پہلوؤں پر سب سے کم کام ہو رہا ہے۔ ہم نے قرآن کریم کی طرح جناب نبی اکرمؐ کی سنت و سیرت کو بھی صرف برکت و رحمت اور اجر و ثواب کے حصول کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول اکرمؐ کا تذکرہ برکات و فیوض، رحمتوں اور اجر و ثواب کا بہترین ذریعہ ہے، لیکن اس کا اصل مقصد راہ نمائی حاصل کرنا ہے اور اپنے مسائل و مشکلات کا حل اس میں سے تلاش کرنا ہے جس کی طرف ہماری توجہ بہت ہی کم ہے۔

سیاسیات کے حوالہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا ایک حصہ وہ ہے جن میں اسلام کے سیاسی نظام کا تعارف کرایا گیا ہے، اسلامی ریاست کی بنیادوں کا تعین کیا گیا ہے اور ایک مسلم حکومت کے فرائض اور ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں۔ آنحضرتؐ کی سینکڑوں احادیث اس سلسلہ میں موجود ہیں۔ جبکہ دوسرا حصہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے ایک سیاستدان اور حاکم وقت کے طور پر سینکڑوں فیصلے کیے ہیں جن میں سے ہر فیصلہ ہمارے لیے سرمۂ بصیرت اور راہ نمائی کا سرچشمہ ہے، بشرطیکہ ہم ان فیصلوں اور واقعات کو سیاسی حکمت و تدبر کے تناظر میں دیکھیں اور ان میں اپنے دور کی مشکلات و مسائل کا حل تلاش کرنے کا ذوق ہم میں بیدار ہو جائے۔

آج کی محفل میں سیرت طیبہؐ کے اول الذکر پہلو کے بارے میں چند معروضات پیش کرنا چاہوں گا جس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے سیاسی اصولوں کا تذکرہ فرمایا ہے اور اسلامی ریاست و حکومت کے فرائض اور حقوق کی وضاحت کی ہے۔ جناب رسول اللہؐ نے اسلام کے سیاسی نظام کا تعارف بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق اس طرح کرایا ہے کہ بنی اسرائیل میں سیاست و حکومت کے فرائض حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سر انجام دیتے تھے، ایک نبی چلا جاتا تو دوسرا اس کی جگہ آجاتا یعنی سیاست و حکومت کی بنیاد وحی الٰہی پر ہوتی تھی، لیکن میرے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوگیا ہے اور کوئی نیا نبی اب نہیں آئے گا۔ اس لیے میرے بعد سیاست و حکومت کا نظام خلفاء کے سپرد ہوگا۔ چنانچہ رسول اکرمؐ کے بعد خلافت کا یہ نظام قائم ہوا اور مسلمانوں کی ریاست و حکومت کی بنیاد بنا۔ اسلامی خلافت کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں ملک کا نظام چلایا جائے اور امت مسلمہ کے اجتماعی امور سر انجام دیے جائیں، جیسا کہ خلفاء راشدینؓ اور ان کے بعد خلفاء کرام کرتے رہے ہیں۔

خلافت کے بارے میں ایک اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ خلافت کیسے قائم ہوگی اور خلیفہ کا تقرر کون کرے گا؟ اس کے لیے میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حوالہ دیا کرتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ اسلامی ریاست و حکومت کے سربراہ کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ منصب نہ تو طاقت کے زور پر حاصل کیا تھا اور نہ ہی بادشاہی نظام کی طرح خاندانی استحقاق کی بنیاد پر انہیں حکومت ملی تھی۔ بلکہ امت کی اجتماعی صوابدید اور عمومی مشاورت ان کے منصب خلافت کی اساس تھی۔ اس لیے خلافت کا قیام امت کی اجتماعی صوابدید کی بنیاد پر ہی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ میں ہمیں نمائندگی کا اصول بھی ملتا ہے کہ ایک موقع پر بنو ہوازن کے قیدی واپس کرنے کے لیے جب ہزاروں افراد سے براہ راست رائے لینا مشکل نظر آیا تو آپؐ نے عرفاء کو درمیان میں ڈالا کہ وہ اپنے اپنے قبیلہ کی رائے معلوم کر کے بتائیں تاکہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔ یعنی جناب رسول اکرمؐ نے عوام کی اجتماعی رائے ان کے نمائندوں کے ذریعے معلوم کی۔ عرفاء اور نقباء کی یہ اصطلاح قدیم سے چلی آرہی ہے اور قرآن کریم میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے۔ اس لیے عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے نمائندگی کا یہ طریقہ بھی اسلامی ریاست کی ایک اہم بنیاد بن جاتا ہے۔

لیکن میں اس وقت سب سے زیادہ توجہ اسلامی ریاست کے اس پہلو کی طرف دلانا چاہوں گا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فلاحی اور رفاہی ریاست کا نظام دیا جسے آج کی دنیا میں ویلفیئر سوسائٹی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے۔ جناب رسول اللہؐ نے ایک حدیث کے مطابق ارشاد فرمایا کہ معاشرہ میں جو لوگ بوجھ تلے دبے ہیں یا بے سہارا ہیں وہ میری ذمہ داری ہیں، یعنی ان کی کفالت بیت المال کرے گا۔ چنانچہ آنحضرتؐ کے دور میں اور پھر خلفاء راشدینؓ کے دور میں بیت المال کا یہ نظام کفالت اس قدر مستحکم ہوگیا تھا کہ پورے ملک کے بے روزگاروں، معذوروں اور بے سہارا لوگوں کی کفالت بیت المال کے ذمہ سمجھی جاتی تھی اور یہ ضروریات بطریق احسن پوری کی جاتی تھیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی ریاست کی بنیاد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق تین اصولوں پر ہے:

  1. ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی اطاعت ریاست و حکومت کی سب سے بڑی اساس ہے۔
  2. دوسرا یہ کہ حکومت کا قیام امت مسلمہ کی صوابدید پر عوامی مشاورت کے ذریعہ ہوگا۔
  3. اور تیسرا یہ کہ اسلامی حکومت نظم مملکت کو چلانے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کی اجتماعی کفالت اور تمام شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی بھی ذمہ دار ہے۔

اگر ہم ان اصولوں کو سامنے رکھ کر پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کی طرف پیش رفت کریں تو قیام پاکستان کے اس مقصد کی تکمیل ہو سکتی ہے جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں کی بے پناہ قربانیوں کے بعد یہ وطن عزیز وجود میں آیا تھا۔

درجہ بندی: