حج کے انتظامات کے متعلق کچھ تجاویز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ اکتوبر ۲۰۱۵ء

آج کا کالم کچھ تجاویز کے حوالہ سے ہے جو بظاہر شکایات محسوس ہوں گی لیکن چونکہ انتظامات کو بہتر بنانے کی نیت سے ہیں اس لیے یہ شکایات نہیں ہیں۔ ویسے بھی حج کا سفر صبر و مشقت کا سفر ہوتا ہے اور اس کا اجر و ثواب بھی بقدر مشقت بتایا گیا ہے اس لیے ایسے معاملات میں شکوہ و شکایت کا کوئی موقع و محل نہیں بنتا۔ البتہ جن امور کا تعلق اجتماعی نظم سے ہے ان کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

یہ بات منطقی اور اصولی ہے کہ حج کے انتظامات کرنے والی اتھارٹی اپنے فقہی مسلک اور ترجیحات کے مطابق ہی انتظامات کرے گی۔ حج کے انتظامات اور حرمین شریفین کے نظم و کنٹرول کے لیے مختلف ممالک کے نمائندوں پر مشتمل کسی مشترکہ اتھارٹی کے قیام کی تجویز بظاہر کتنی دل فریب اور خوبصورت کیوں نہ ہو، وہ عملی اعتبار سے اسی درجہ میں ناقابل عمل ہوگی۔ اس لیے کہ مختلف ممالک کی سیاسی ترجیحات کا ٹکراؤ اپنی جگہ، فقہی اور مسلکی ترجیحات کا اتار چڑھاؤ بھی خلفشار اور افراتفری کا ماحول پیدا کرنے میں کم کردار ادا نہیں کرے گا۔ اور خدانخواستہ ایسا کرنے سے اس وقت دنیا بھر کے حجاج اور معتمرین سال بھر جس سکون اور اطمینان کے ماحول میں مناسک حج و عمرہ ادا کرتے ہیں وہ نعوذ باللہ قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گا۔ اس لیے کہ مختلف ممالک کے نمائندے یقیناًمختلف فقہی مسالک کے حامل ہوں گے اس لیے مناسک حج و عمرہ کے انتظامات کے بارے میں مختلف فقہی ترجیحات کو باہم ایڈجسٹ کرنے کے لیے یا تو انہیں اپنی فقہی ترجیحات سے دست بردار ہو کر کوئی مشترکہ فقہی ڈھانچہ از سر نو تشکیل دینا ہوگا، جیسا کہ علامہ محمد اقبالؒ عمومی معاشرتی ماحول میں فقہ کی تشکیل جدید کی تجویز دے چکے ہیں۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے اور اپنی اپنی فقہی ترجیحات کی طرف معاملات کو لے جانے کے لیے فکرمند ہوں گے تو حاجیوں کو پریشانی میں مبتلا کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے۔

اس لیے قابل عمل اور منطقی بات یہی ہے کہ انتظامات کا کنٹرول ایک ہاتھ میں ہو اور یہ سعودی عرب کا حق بنتا ہے کہ سعودی آبادی کی اکثریت کے فقہی مسلک اور ریاستی فقہی مذہب کی بنیاد پر انتظامات کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دے۔ سعودی آبادی کی اکثریت حنبلی مذہب سے تعلق رکھتی ہے اور ریاست کا فقہی مذہب بھی حنبلی ہے۔ حنبلی مذہب امام اہل سنت حضرت امام احمد بن حنبلؒ کی تعبیرات و تشریحات کے مطابق تشکیل پایا ہے جو ائمہ اہل سنت میں عظیم المرتبت امام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ البتہ سعودی حکومت سے یہ گزارش کرنے کی ضرورت ہے کہ دوسرے فقہی مذاہب کے جید علماء کرام کے ساتھ مشاورت اور انہیں اعتماد میں لینے کی کوئی صورت ضرور نکالی جائے تاکہ باہم فقہی ہم آہنگی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جا سکے اور حج و عمرہ کے لیے دنیا کے کونے کونے سے آنے والوں کے فقہی رجحانات کو بہتر انداز میں ایڈجسٹ کیا جا سکے۔

مثال کے طور پر اپنے قافلہ کی بات کروں گا کہ ہمارے حج کا پورا شیڈول متعلقہ محکمہ کے اہل کاروں نے اپنے طور پر طے کر لیا تھا جس سے کچھ مسائل پیدا ہوئے۔ اس شیڈول کے مطابق ہمیں آٹھ ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ سے سیدھا عرفات لے جایا گیا اور ہم رات منیٰ میں قیام نہیں کر سکے۔ ایک متعلقہ دوست سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ سنت ہی تو ہے کونسا دم واجب ہوتا ہے۔ سچی بات ہے مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا سنت حج کا حصہ نہیں ہے اور کیا جس جس بات پر دم واجب نہیں ہوتا اسے ہم چھوڑتے چلے جائیں گے؟ ہم نے حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر دامت برکاتہم سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نظم کے مطابق ہی چلیں، بہتری اسی میں ہے۔ مگر واپسی پر اس سے بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ عرفات سے غروب آفتاب کے بعد روانہ ہو کر جب ہم نصف شب کے لگ بھگ مزدلفہ پہنچے تو ہمیں وہاں قیام کے لیے ایک دو گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں دیا گیا۔ احناف کے نزدیک اس صورت میں مزدلفہ کا وقوف مکمل نہیں ہوتا، کیونکہ صبح طلوع آفتاب سے قبل معذور افراد کے سوا کسی کو منیٰ روانگی کی اجازت نہیں ہے اور اس کی خلاف ورزی سے دم واجب ہو جاتا ہے۔ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ ہمیں نظم کے ساتھ چلنے کی بجائے رات مزدلفہ میں ہی ٹھہرجانا چاہیے اور صبح اپنے وقت پر وہاں سے روانہ ہونا چاہیے۔ اس پر اہل علم کے درمیان خاصی مشاورت ہوئی اور طے پایا کہ نظم کے ساتھ ہی چلیں گے البتہ دم واجب ہو جائے گا جو ہمیں دینا ہوگا۔

دارالعلوم دیوبند کے مولانا مفتی محمد سلیمان بجنوری نے میری رائے دریافت کی تو میں نے عرض کیا کہ ایک طرف نظم سے باہر نکلنے کی مشکلات ہیں جبکہ دوسری طرف دم کا وجوب ہے، میرے خیال میں ہمیں نظم سے ہٹنے کا رسک نہیں لینا چاہیے۔ البتہ دم واجب ہوجائے گا وہ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے بھی اس سے اتفاق کیا، چنانچہ ہم نے حنفی فقہ کے مطابق وقوف مزدلفہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے دم دیا اور نظم کے مطابق قافلہ کے ساتھ رہے۔ جب مزدلفہ کی حدود سے نکل کر ہماری گاڑیاں منیٰ کے خیموں کے درمیان سے گزر رہی تھیں تو میں نے گھڑی پر نظر ڈالی، وہ رات بارہ بجے کا وقت بتا رہی تھی۔ اس طرح ہمیں رات چند گھنٹے منیٰ کے خیموں میں آرام کرنے کی سہولت تو حاصل ہوگئی مگر مزدلفہ کا وقوف مکمل ہونے کا افسوس بھی ہوا۔

بات کچھ زیادہ مشکل نہیں تھی، صرف اتنا کر لیا جاتا کہ ہمارا شیڈول متعلقہ محکمہ کے اہل کاروں کی صوابدید پر چھوڑ دینے کی بجائے اس کے بارے میں قافلہ کے سرکردہ علماء کرام سے مشورہ کر لیا جاتاجو شاید مہمانداری کا تقاضہ بھی تھا تو باہمی مشورہ سے کوئی ایسی صورت نکل آتی جو دونوں کے لیے قابل قبول ہوتی اور شکایت کا موقع بھی پیدا نہ ہوتا۔

اسی طرح کا ایک انتظامی مسئلہ بھی ہوا کہ ہمارے لیے قیام و طعام، ٹرانسپورٹ اور احترام کے بہترین انتظامات کیے گئے جس پر ہم سعودی حکومت اور متعلقہ اہل کاروں کے بے حد شکر گزار ہیں اور ان کے لیے سعادت دارین کے دعاگو ہیں، مگر اس پروٹوکول کے حصار میں ہمیں اپنے طور پر دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے کی گنجائش نہیں ملی۔ قافلہ کے بہت سے دوستوں نے خواہش بلکہ اصرار کیا کہ ایک دو روز انہیں نظم سے ہٹ کر اپنے طور پر آنے جانے کے لیے دے دیے جائیں تاکہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے مل سکیں، مگر اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

میرے چھوٹے بھائی قاری عزیز الرحمن خان شاہد، برادر نسبتی حافظ عبد العزیز اور ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد ایک عرصہ سے جدہ میں مقیم ہیں، میں جب بھی حج یا عمرہ کے لیے جاتا ہوں ان کے گھروں میں جاتا ہوں جس سے میرے بھتیجے بھانجے اور دیگر عزیز خوش ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ ربع صدی کے دوران میرے بیسیوں اسفار میں یہ پہلا موقع تھا کہ عزیزوں کے گھروں میں نہیں جا سکا اور بچوں سے نہیں مل سکا۔ یہ بچے عام طور پرمجھے ’’بڑے ابو‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، میں سوچ رہا ہوں کہ میرے دل میں تو اس کا صدمہ ہے ہی ان بچوں کے دلوں کی کیفیت کیا ہوگی کہ ان کے ’’بڑے ابو‘‘ سعودی عرب آئے، دو ہفتے قیام کیا اور ان سے ملے بغیر واپس چلے گئے۔

اس پر مجھے ایک پرانا انگریزی ناول یاد آگیا جس کا اردو ترجمہ ’’پروٹوکول کا قیدی‘‘ کے نام سے پڑھا تھا اور اس میں بتایا گیا تھا کہ دنیا کا سب سے با اختیار شخص امریکہ کا صدر ہے مگر سب سے بے اختیار بھی وہی ہے کہ پانی کا گلاس بھی ڈاکٹروں کے چیک کیے بغیر نہیں پی سکتا۔