اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
یکم مارچ ۲۰۱۶ء

مولانا فضل الرحمن کی طرف سے شوہروں کے حقوق کے لیے تحریک چلانے کی خبر پڑھ کر ذہن کی اسکرین پر ایک پرانی خبر جھلملانے لگی کہ اس طرح کی تجویز و تحریک کچھ عرصہ قبل یورپ میں بھی اعلیٰ سطح کی ایک کانفرنس میں سامنے آچکی ہے جس کی خبر ہم نے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میں شائع کی تھی۔ اس خبر کی تلاش میں پرانے شماروں کی ورق گردانی کے دوران جنوری 1997ء میں شائع ہونے والی ’’الشریعہ‘‘ کی ایک خصوصی اشاعت سامنے آگئی جو ’’اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت‘‘ کے عنوان سے ایک سو صفحات پر مشتمل تھی اور اس میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی فضیل الرحمن عثمانی، اور راقم الحروف کے تفصیلی مضامین کے علاوہ جناب عمران خان، جناب ارشاد احمد حقانیؒ، اور جاوید اقبال خواجہ کی اہم تجزیاتی نگارشات بھی شامل تھیں۔ آج کے کالم میں اس خصوصی شمارہ سے روزنامہ جنگ لندن میں 29 جون 1995ء کو شائع ہونے والی یہ خبر اور اس کے ساتھ مذکورہ بالا اہل دانش کی نگارشات کے کچھ اقتباسات قارئین کے لیے نقل کیے جا رہے ہیں تاکہ حقوق نسواں کے حوالہ سے چلائی جانے والی مہم اور پنجاب اسمبلی میں گزشتہ دنوں منظور ہونے والے بل کا ہلکا پھلکا پس منظر سامنے آجائے۔

جنگ لندن (29 جون 1995ء) میں شائع ہونے والی خبر ’’رائٹر‘‘ کے حوالہ سے یہ ہے کہ:

’’یورپی وزراء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مردوں کو خواتین کے مساوی حقوق دیے جائیں تاکہ وہ ایک مکمل فیملی لائف گزار سکیں۔ 35 یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے وزراء کی فیملی افیئرز کے موضوع پر منعقدہ ایک سہ روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن وزیر برائے وومن یوتھ، فیملی اور پنشنرز مس کلاڈیا نولٹ نے کہا کہ خواتین کے حقوق سے متعلق کئی عشروں کی مہم کے بعد اب ماہرین کو مردوں کے کردار اور اسٹیٹس پر تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ کونسل آف یورپی یونین کے سیکرٹری جنرل ڈینیل ٹارسکی نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فیملی معاملات میں مردوں کی فعال شمولیت میں اضافہ کے لیے مزید اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کے بکھرنے کی صورت میں بچوں کی مالی ذمہ داری کا بار ان کے والدوں پر بھی ڈالا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر خواتین مردوں کی ضرورت محسوس نہ بھی کریں تب بھی مردوں کو خواتین کی اور بچوں کو والدین کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے مضمون سے دو اقتباسات ملاحظہ فرمالیں:

’’اسلام نے عورتوں اور مردوں کو مساوی حقوق دیے ہیں لیکن چونکہ عورتوں میں دفاعی قوت نسبتاً کم ہوتی ہے اور مردوں کو ان کے محافظ کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے مردوں کا درجہ ذرا فائق ہے۔ تاہم اس سے عورت کی انفرادیت اور اس کے حقوق کا تحفظ ہرگز متاثر نہیں ہوتا۔ مردوں کی اس برتری کے احساس کی نوعیت بالکل ویسی ہی ہے جیسے کسی ملک کی فوج کو ملک کی دفاعی قوت ہونے کی وجہ سے ایک برتری حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے اور آپ غیر مسلم معاشروں میں دیکھیں تو وہاں بھی کوئی عورت آپ کو فیلڈ مارشل نظر نہیں آئے گی۔‘‘

’’جہاں تک عورت اور مرد کے دائرہ کار اور تقسیم کار کا تعلق ہے تو مغرب نے یہ فرق ختم کر دیا اور وہاں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے نکل پڑیں۔ معاشرے میں بے راہ روی پھیلی، ہزار میں سے نو سو ننانوے باپوں کو یقین نہیں رہا کہ ان کے بچوں میں سے کون سا ان کا ہے اور کون سا ان کا نہیں ہے۔ کنواری مائیں اور غیر قانونی بچے معاشرے کا پیچیدہ ترین مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ مانع حمل تدابیر اور ادویات کے آزادانہ استعمال نے زنا کو عام کر دیا ہے۔ اخلاقیات کا کوئی تصور نوجوان نسلوں کے ذہنوں میں نہیں رہا۔ یورپ اب اس صورت حال سے تنگ آچکا ہے اور ان کے سامنے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج اگر ہم مسلمان اپنی اصلاح کرلیں اور یہ غیر مسلم ہمیں دیکھ کر اسلام کا مطالعہ کر لیں تو اسے فورًا اپنا لیں، کیونکہ انسانیت کی بقا اور نجات اسلام کے نظام حیات میں ہی ممکن ہے۔‘‘

مولانا محمد تقی عثمانی نے اپنے مضمون میں سوویت یونین کے آخری صدر میخائل گورپا چوف کی کتاب ’’پرسٹرائیکا‘‘ کا ایک اقتباس مغرب کے خاندانی نظام کی شکست و ریخت کے حوالہ سے نقل کیا ہے جس کا کچھ حصہ یہ ہے کہ:

’’اب ہمیں اس حقیقت کا انکشاف ہوا ہے کہ ہمارے بہت سے مسائل جو بچوں اور نوجوانوں کے ذریعہ ہماری اخلاقیات، ثقافت، اور پیداواری عمل سے تعلق رکھتے ہیں اس وجہ سے بھی کھڑے ہوئے ہیں کہ خاندانی رشتوں کی گرفت کمزور پڑ گئی ہے اور خاندانی فرائض کے بارے میں ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ پروان چڑھا ہے۔ ہم نے عورتوں کو ہر معاملہ میں مردوں کے برابر قرار دینے کی جو مخلصانہ اور سیاسی اعتبار سے درست خواہش کی تھی، یہ صورت حال اس کا تضاد آفریں نتیجہ ہے۔ اب اپنی تعمیر نو کے دوران ہم نے اس خامی پر قابو پانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پریس میں، عوامی تنظیمات میں، کام کے مقامات میں اور خود گھروں میں ایسے گرما گرم مباحثے منعقد کر رہے ہیں جن میں اس سوال پر بحث جاری ہے کہ عورت کو اس کے خالص نسوانی مشن کی طرف واپس لانے کے لیے ہمیں کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔‘‘

جبکہ جناب عمران خان کا ایک مضمون ہم نے روزنامہ جنگ لندن 15 دسمبر 1995ء کے حوالہ سے ’’الشریعہ‘‘ کی اس خصوصی اشاعت میں شامل کیا تھا، اب معلوم نہیں کہ خان صاحب محترم کا اس حوالہ سے کیا موقف ہے مگر اس وقت انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ:

’’مغرب میں خاندانی نظام کو جس چیز نے نقصان پہنچایا وہ آزادئ نسواں کا وہ پہلو ہے جس میں یہ تصور کر لیا گیا ہے کہ عورت بالکل مرد جیسی ہے، اس طرح مامتا کی قدر و قیمت کم ہوگئی ہے، یہاں تک کہ اسے ظلم و جبر سمجھا جانے لگا ہے۔ جب عورت معاونانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے مسابقانہ رویہ اختیار کرتی ہے تو لامحالہ خاندان متاثر ہوتا ہے۔ ایسی کتابیں مثلاً Fight fire with fire جو مرد اور عورت کے درمیان جنگ کی تعلیم دیتی ہیں امریکہ میں 1993ء سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب تھی۔ اس کتاب نے اس مخالفت کو ہوا دینے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ہم پاکستانی خوش قسمت ہیں کہ جہاں ہمارے دیگر تمام ادارے تباہی کا شکار ہو چکے ہیں خاندانی نظام ابھی باقی ہے۔ ہم اس معاملہ میں بھی خوش قسمت ہیں کہ ہماری مملکت ایک نظریاتی مملکت ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی ہے اور بے راہ روی کے خلاف سیکولر جمہوریتوں کی طرح بے دست و پا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر فحش نگاری اور ہم جنس پرستی جیسی برائیاں جو مغربی ممالک میں قانونی تحفظ حاصل کر چکی ہیں، اسلام میں ممنوع قرار دی گئی ہیں۔ کیونکہ یہ خاندانی نظام کے لیے زہر قاتل ہیں۔ ہمارے خاندانی نظام کو ایک چھوٹے مگر انتہائی با رسوخ جنونی مغرب کے دلدادہ لوگوں کے گروہ سے خطرہ لاحق ہے۔ ان کا نعرہ ہے کہ مغرب کی تقلید کرنا ہی حقیقت میں ترقی کرنا ہے اور یہ کہ اسلام اور پاکستانی ثقافت قدامت پرست اور دقیانوسی ہے۔ ذرائع ابلاغ، بیوروکریسی اور تدریس اس چھوٹے سے گروہ کے قبضے میں ہے۔ چونکہ وہ اسلام اور پاکستانی ثقافت کو مغرب کی آنکھ سے دیکھتے ہیں، بنیاد پرستی سے لے کر حقوق نسواں، ایڈز، منشیات اور انسانی حقوق تک کا ہر نعرہ باہر سے آیا ہے، ان کے غیر اہم پہلوؤں پر زور دیا جاتا ہے جبکہ ان سے متعلقہ حقیقی مسائل اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اس گروہ کی وجہ سے ایک چھوٹا سا گروہ پیدا ہوگیا ہے جو مغرب کی ہر چیز سے نفرت کرتا ہے، ان دونوں انتہا پسند گروہوں نے اکثریت کے لیے متوازن سماجی بحث کے حالات کو مشکل بنا دیا ہے۔‘‘

درجہ بندی: